دین اسلام کو بچانے کیلئے حضرت سیدنا امام حسین ؓ نے شہادت کا مرتبہ حاصل کیا
بیدر میں حضرت مولانا عزیز اللہ قادری حیدرآباد کا خصوصی خطاب
بیدر۔16؍جولائی۔(محمدیوسف رحیم بیدری): پریس نوٹ کے مطا بق’’ اللہ کے حبیب ﷺ نے جمیع اہلبیت کی محبت و تعظیم مسلمانوں کی کامیابی ونجات کے حصول کا ذریعہ بنایا ہے،رسول اللہ نے اہلبیت کی محبت کو اپنے دلوں میں سلامت رکھنے کیلئے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ میرے اہلبیت کی مثال حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی مانند ہے۔ جو اس کشتی میں بیٹھ گیا وہ نجات پاگیا اور جو نہیں بیٹھا وہ ہلا ک ہوگیا اہلبیت کو سمجھنا ہے تو حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کے واقعہ کو سمجھنا ہوگا‘‘یہ بات اپنے خطاب میں حضرت علامہ مولانا سید شاہ عزیز اللہ قادری سابق شیخ المعقولات جامعہ نظامیہ حیدرآباد نے کل شب تاریخی مسجد عثمانیہ میں منعقدہ جلسہ’’ عظمت اہلبیت و معرکہ ء کربلا ‘‘کے عنوان سے کاروان ادب و مرکزی رحمت عالم کمیٹی کے زیر اہتمام جناب محمد فراست علی ایڈوکیٹ صدر کمیٹی کی زیر نگرانی منعقدہ جلسہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حضرت نوح علیہ السلام 950سال اللہ کے دین کو عام کیا باوجود اس کے بڑی تعداد میں لوگ آپ کے پیغام کو قبول نہیں کیا کم تعدادہی میں لوگ آپ سے قریب ہوئے جب اللہ کے احکامات کو لوگ ماننے سے انکار کیا تو اللہ نے ایک سخت طوفان کو نازل کیا جس میں سب کچھ ختم ہوگیا سوائے حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی میں سوار ہونے والے ہی بچ گئے اللہ نے اپنے جلال سے زمین وآسمان سے ایسا پانی برسایا کہ نہ اس سے پہلے برسا تھا نہ کبھی آگے برسے گا ۔حضرت مولانا عزیز اللہ قادری صاحب نے اپنے روحانی خطاب کو جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ اللہ کے حبیبؐ نے اہلبیت کرام کو اسی کشتی سے تعبیر کیا ہے یعنی جو اہلبیت کی محبت اور وہ ادب پایا وہ نجات پاگیا اور جو اس سے محروم رہ گیا وہ ہلاک ہوگیا اللہ کے حبیب ؐ کے خانوادے سے محبت نجات کا ذریعہ ہے ، ایمان والوں کے قلوب اہلبیت کی محبت سے جگمگاتے ہیں پیارے نبیﷺ پوری کائنات میں جن کی کوئی مثال نہیں آپ ﷺ سے محبت ہی ایمان ہے تو ظاہری بات ہے آپ کے خانوادے سے ہی ویسی ہی محبت ہوگی یہی ایمان کا تقاضہ و کمال بھی ہے حبیب پاک ﷺ کی برکت سے ہی ہم ایمان کی دولت سے مالا مال ہوئے ، ہدایت کی منزلوں تک پہنچ گئے ۔ ہم تک ایمان کی دولت عطا کرنے کیلئے حبیب پاک ﷺ نے ایسی ایسی اذیتیں برداشت کی ہیں جس کی دوسری مثال نہیں ملتی اللہ نے حکم دیا اپنے حبیب ﷺ کو کے کہدیجئے کہ میں اہلبیت سے محبت چاہتاہوں اسی لئے پیارے نبی ﷺ نے حکم دیا ہے کہ میری محبت میری اہلبیت کی محبت اور قرآن سے محبت کی تعلیم دو حضرت امام عالی مقام کی ولادت نبی کریم ﷺ کی لخت جگر سے ہوئی ہے ۔
حسینین کریمین کی تربیت تمام جنتی عورتوں کی سردار کی گودمیں ہوئی ہے خود امام حسین ؓ جنت کے جوانوں سے سردار ہیں ،یہ سرداری عارضی نہیں بلکہ ہمیشہ کیلئے ہے حضرت سید نا امام حسین ؓ نے دین بچانے کیلئے خود کی جان نچھاور کردی انہوں نے مزید کہا کہ یزید نے حکم جاری کیا کہ یاتو یزید کو بڑا مانو یا سامنا کرو کا اعلان کیا ہزاروں کی تعداد میںلشکر پوری تیاری کے ساتھ کرمیدان کربلا میں لڑئی کا آغاز کیا یزید کے لشکر میں یہ ہمت نہیں تھی کہ وہ سامنے سے حملہ کرے دور سے ہی تیروں کی بوچھار کی جاتی اور 10محرم الحرام کو تمام جانثار کربلا شہید ہوتے رہے جمعہ دن کا تھا نماز کی ادائیگی کے دوران حضرت سید نا امام حسین ؓ کو شہید کردیا گیا ۔اللہ کی عبادت کرتے ہوئے دین اسلام کو بچانے کیلئے آپ ؓ نے شہادت کا مرتبہ حاصل کیا حضرت امام حسین ؓ خود کو اپنے خاندان و غلاموں کو لٹایا تو صرف ہمارے دین کے سلامتی کے خاطر حضرت حسین ؓ شریعت کی حفاظت کے خاطر اپنا سب کچھ قربان کردیا جس کے پیش نظر شریعت کی حفاظت اور نماز کی ادائیگی کا اہتمام کرنا ہمارے لئے لازمی ہے جس لمحہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور ان کے اہلبیت سے ملے وہ ہمارے لئے عید کا دن ہوگا ۔
اسی طرح مولانا مفتی محمد خواجہ معین الدین نظامی ناظم اعلیٰ مدرسہ معھد انوارالقرآن شاخ جامعہ نظامیہ ، مولانا مفتی حافظ محمد فیاض الدین نظامی خطیب جامع مسجد بیدر و مولانا مفتی جاوید احمد نظامی خطیب کالی مسجد المعروف موتی مسجد بیدر نے اپنے مختصر خطاب میں شہداء کربلا بالخصوص حضرت سید نا امام حسینؓ متعلق اللہ کے حبیب ﷺ کے فرمانا کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ حسین ؓ مجھ سے اور میں حسینؓ سے ہوں یہ بات ہی حضرت امام حسین ؓ کی فضیلت کیلئے کافی تھی باوجود اس کے اللہ کے حبیب ﷺ نے ہر موقع پر حضرت امام حسین ؓ کے متعلق اظہار محبت کیا ہے ۔اور اہلبیت کی محبت کو ایمان والوں کو فرض قرار دیا ہے۔ جلسہ کا آغاز حافظ و قاری نذیر احمد شرفی امام و خطیب مسجد عثمانیہ کی قرأت کلام پاک سے ہوا ، جب کہ نعت شریف حافظ وقاری عبید اللہ خان عطاری ، سید محبوب علی نے سنانے کی سعادت حاصل کی اور منقبت حافظ و قاری محمداسمٰعیل قادری استاذ مدرسہ معھد انوارالقرآن نے پیش کیا۔جناب محمد عبدالصمد منجو والا نے جلسہ کی کاروائی بحسن خوبی انجام دی ۔
