- انتظامیہ کی جانب سے ناجائز قبضہ کو ہٹانے کی مہم شروع ہوئے ایک ہفتہ سے بھی زائد کا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی کھجوریا روڈ کی حالت قابل رحم اور خوفناک بنی ہوئی ہے۔
- مسمار مکانات کا ملبہ اور گندے نالا کا پانی راہگیروں اور اسکولی بچوں کے لیے بہت سے مسائل کا باعث بن رہا ہے۔
(عبدالمبین منصوری)
سدھارتھ نگر: میونسپل ایڈمنسٹریشن کی جانب سے سڑک کو چوڑا کرنے کے نام پر ناجائز قبضہ کو ہٹانے کی مہم شروع ہوئے ایک ہفتہ سے بھی زائد کا طویل عرصہ گزر چکا ہے لیکن میونسپل انتظامیہ کی جانب سے مسمار کیے گئے مکانات کا ملبہ تاحال نہیں ہٹایا گیا جس کی وجہ سے راہگیروں اور پیدل چلنے والے لوگوں، موٹر سائیکل سوار اور دیگر تمام قسم کی گاڑیوں کی آمد و رفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حادثے کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہی نہیں گھروں کے گندے غسل خانوں وغیرہ کا پانی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے سڑکوں پر پھیل رہا ہے، جس کی وجہ سے اسکولی بچوں کے اسکول جاتے ہوئے بدبو اور دیگر متاثرہ مچھروں سے پھیلنے والی تمام بیماریوں میں مبتلا ہونے کا قوی امکان ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور میونسپل انتظامیہ انہدامی کارروائی کرکے اپنی پیٹھ خود تھپتھپا رہا ہے۔ ان کی جانب سے سڑکوں اور نالیوں کو جتنی تیزی سے مسمار کرنے کا عمل کیا گیا تھا میونسپل انتظامیہ اور ضلعی انتظامیہ اس کی تعمیر کے لیے بالکل سنجیدہ دکھائی نہیں دے رہا ہے۔

شہر کے کچھ روشن خیال لوگ ضلعی انتظامیہ کے ایسے دوہرے معیار پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ پرانی نوگڑھ سے NH ہائی وے کی تعمیر میں ضلع انتظامیہ پہلے ہی مناسب زمین حاصل کر کے ہائی وے کی تعمیر کر چکی ہے۔ اب ایک بار پھر پرانے نوگڑھ بازار کو ناجائز قبضے کو ہٹانے کو لیکر ہٹلرزم کے نقشه قدم پر چلنے کی کوشش کر رہی ہے۔جس سے عوام میں خوف و ہراس کا ماحول بنا ہوا ہے۔ جب پرانا نوگڑھ سے ہوتے ہوئے این ایچ روڈ پہلے ہی مکمل ہو چکی ہے تو پھر نوگڑھ مارکیٹ کو دوبارہ ناجائز قبضہ کی زد میں لا کر اُن کے خلاف انہدامی کارروائی کرنا انصاف کا تقاضا نہیں کہا جا سکتا ہے۔ اس سے ضلعی اور میونسپل انتظامیہ کی نیت پر یقیناً سوالیہ نشانات اٹھ رہے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ اور میونسپل انتظامیہ کی نیت اور ایمانداری پر بھی شک اور شبہ پیدا ہونے سے نہیں روکا جا سکتا ہے۔ کیونکہ کھجوریا روڈ کی سڑک چوڑی کرنے کا کام گزشتہ چار پانچ سالوں سے چل رہا تھا جس کا سب کو علم تھا۔ لیکن کھجوریا روڈ پر ایسے کئی گھر 20-25 سال سے زائد عرصه پہلے سے بنائے گئے تھے۔ اگر حکومت ضلع کے قیام کے سال ہی سے ہیڈ کوارٹر پر واقع تمام اہم سڑکوں کو چوڑا کرنے کی تجویز پیش کی ہوتی تو آج ہیڈ کوارٹر کی صورتحال اتنی ابتر نہ ہوتی۔ گزشتہ پانچ سالوں میں کھجوریا روڈ پر عام لوگوں کی جانب سے جتنی بھی تعمیرات کی گئیں وہ ضرور ناجائز قبضہ کی زد کا شکار سمجھی جا سکتی ہیں لیکن گزشتہ 1-2 سالوں میں صدر تحصیل نوگڑھ کی باؤندری، تھانہ کی باؤنڈری وال کی تعمیر اور کوتوالی سدھارتھ نگر کی نو تعمیر شدہ عمارت کی تعمیر اور میونسپل انتظامیہ کی طرف سے نالیوں کی تعمیر کو دور اندیشی نہیں کہی جا سکتی ہے۔ ممکن ہے کہ کہیں نہ کہیں کمیشن خوری کی لت نے ایسا کرنے پر مجبور کیا ہو۔ اب جب تھانے کی باؤنڈری وال اور تحصیل کی باؤنڈری وال کو منہدم کر دیا گیا ہے اور میونسپل انتظامیہ کی جانب سے نئے بنائے گئے نالیوں کا کوئی جواز نہیں تھا۔ ایسے میں تھانے کی باؤنڈری وال اور تحصیل کیمپس کی باؤنڈری ضرور نئے سرے سے تعمیر ہو گی اور حکومت اور انتظامیہ کے اس کھیل میں مالی بے ضابطگیوں اور کمیشن خوری کا بازار یقیناً ایک بار پھر گرم ہو جائے گا۔
جب سے مسماری کا عمل ہوا ہے میونسپل انتظامیہ میونسپلٹی کے کئی علاقوں میں صاف صفائی کی حالت بد سے بدتر دکھائی دے رہی ہے۔ گندے نالے کا پانی کئی گھروں کے سامنے مہینوں سے جمع ہے اور سڑکوں پر پھیل رہا ہے جس سے بدبو پھیل رہی ہے اور مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کو دعوت دے رہی ہیں۔ گھروں کے سامنے کچرا جمع ہے جسے نہ تو صفائی کرنے والے اٹھا رہے ہیں اور نہ ہی اس کی صفائی کی جا رہی ہے۔ اس طرح میونسپل انتظامیہ اور ضلعی انتظامیہ کا کام کرنے کا انداز مکمل طور پر شکوک کی زد میں کہا جا سکتا ہے۔ عوام کی صحت اور مفاد کے پیش نظر جلد از جلد اس کی اصلاح اور صاف صفائی کی جانی چاہیے۔
