ہمایوں اقبال ندوی

نائب صدر جمعیت علماء ارریہ و جنرل سکریٹری، تنظیم أبناء ندوہ پورنیہ کمشنری

مجھ یہ کہ کر دعوت دی گئی کہ؛ مولوی صاحب! معلوم ہوا کہ آپ طلبہ کے پروگرام میں خوشی خوشی شامل ہوتے ہیں، ساتھ ہی اپنی تحریر سے ان کا حوصلہ بھی بڑھاتے ہیں، فرساڈانگی گاؤں ارریہ شہر سے بارہ کلو میٹر فاصلے پر واقع ہے، طلبہ کی یہاں ایک انجمن قائم ہے،جس کا نام "اصلاح اللسان” ہے، تقریبا بیس سال پہلے حافظ صادق صاحب اور گاؤں کے علم دوست احباب نے تعلیمی بیداری کے لئےاس کی بنیاد ڈالی ہے،

 گاؤں کےطلبہ جو باہر زیر تعلیم ہیں، جب رمضان کی فرصت میں گھر ہوتے ہیں تو اس موقع کا فائدہ اٹھا کر مقامی مکتب کے اشتراک سے ایک جلسہ منعقدکیا جاتا ہے،حمد ونعت اور تقریر ومکالمے کی بزم سجتی یے،طلبہ انعامات سے بھی نوازے جاتے ہیں،اخیر میں موجود علماء کرام سے تاثرات لئے جاتے ہیں،یہ انجمن اصلاح اللسان کےزیر اہتمام گزشتہ بیس سالوں سے ہورہا ہے، اس کا مقصد گاؤں میں تعلیمی دلچسپی پیدا کرنا ہے، آپ کو بھی اس پروگرام کا ہم گواہ بنانا چاہتے ہیں اور مدعو کررہے ہیں۔

ابھی تین دن پہلے مذکورہ جلسہ میں شرکت کی سعادت مجھے حاصل ہوئی، فرساڈانگی گاؤں میں میری یہ پہلی حاضری تھی،جو کچھ داعی کی زبانی سنا تھا، اپنی آنکھوں سےزیادہ ہی دیکھنا نصیب ہوا ہے،میں نے جلسہ میں جو سادگی دیکھی ہے یہ واقعی مثالی ہے،اور اس مختصر مجلس کی جامعیت وافادیت بھی تاریخی ہے،بہت ہی کم خرچ میں بڑا کام کیا گیا ہے، ایک طرف جہاں حافظ اسماعیل صاحب کے دروازہ پر پروگرام ہوا ہے،شامیانہ کے نام پر معمولی انتظام کیا گیا ہے، تام جھام سے مکمل گزیز ہے، دوچار تخت کو آپس میں جوڑ کر اسٹیج بنالیا گیا ہے،اس پر بیڈ شیٹ پڑی ہوئی ہے، یہی مسند ہے،تو دوسری طرف پروگرام بہت ہی منظم ہے، گاؤں کی معروف ومشہور علمی شخصیت جناب حضرت مولانا صدیق صاحب کی صدارت ہورہی ہے، مولانا عمران صاحب وجناب قاری سلیمان صاحب سرپرستی فرماریے ہیں، قاری ذاکر صاحب وحافظ سلیمان صاحب نگرانی فرماریے ہیں، مفتی نظر الحق صاحب بچوں کا حوصلہ بڑھارہے ہیں، اور جناب مولانا عبدالحق صاحب مظہری کی خوبصورت نظامت ہورہی ہے،

بہت ہی باوقار اور سنجیدہ مجلس ہے، سامعین یکسو ہیں، دکان ہے نہ کوئی دکاندار ہے، سبھی ایک مقصد کے تحت یہاں جمع ہوئے ہیں، گاؤں کے بزرگ وجوان علماء کرام اپنی نشستوں پر خاموش بیٹھے ہیں،اور بچے تقرکررہے ہیں،گھر، آنگن، صحن اور گلیوں سے خواتین بھی اس مجلس کا حصہ بنی ہوئی ہیں، فرساڈانگی کے اس اجلاس میں ہر فرد بشر کوہم نے بیدار دیکھا ہے،ہر کوئی چاق وچوبند اور تیار ہے،سبھی ٹکٹکی باندھ کر اسٹیج کی طرف دیکھ رہے ہیں،پروگرام کے اختتام پرخواتین پلو پسار کر اپنے پیاروں کے لئے علم نافع کی بھیک مانگ رہی ہیں۔سبھی دھیان سے سن رہے ہیں،ہر منظر کو اپنی آنکھوں میں قید کرلینا چاہتے ہیں،اوردعائیہ ہر جملہ پر آمین کہ رہے ہیں۔

 آج انجمن اصلاح اللسان کی محنت کا پھل ہماری نگاہوں کے سامنے ہے، یہاں ہر گھر میں حافظ قرآن ہے اور وارث نبی پیدا ہوگیا ہے، یہ انجمن کی سب سے بڑی حصولیابی ہے،اس کا ہر جلسہ بسلسلہ تعلیمی بیداری اپنے عنوان پر کامیاب ہوا ہے،اور دعائیں قبولیت سے ہمکنار ہوئی ہیں، بیس سال کی اس چھوٹی سی تحریک کے نتیجہ میں علماء وحفاظ وعلم دوست احباب کی ایک بڑی جمعیت وجماعت یہاں وجود میں آگئی ہے،

 ناظم اجلاس مولانا عبدالحق صاحب نے مجھے یہ بھی بتایا کہ جس دروازہ پر آج یہ پروگرام ہورہا ہے،یہ فرساڈانگی پورب ٹولہ کا علمی خانوادہ ہے، صرف اس خاندان میں فی الوقت سو سے زائد علماء ،حفاظ اور قرا ہیں، لوگ اس کنبہ کو گاؤں کا دارالعلوم کہتے ہیں ۔

واقعی یہاں کے علماء کرام نے ایک تاریخ رقم کی ہے اوراپنے علاقے کے لئے یہ ایک بہترین مثال پیش کی ہے، اس وقت سماج میں بے راہ روی ہے،اور علم سے دوری ہے،منشیات ولغویات میں بچے اور نوجوان لپت ہیں، اس کے خاتمے کے لئے مضبوط لائحہ عمل لینے اور نسل کی حفاظت کے لئے والدین کو فکر مند ہونے کی ضرورت ہے،

ایسی انجمن کا قیام ضروری معلوم ہوتا ہے جو اپنی تحریک سے پڑھنے والے بچوں کو تعلیم گاہوں کی طرف موڑ دے، اور والدین وبزرگوں کی ذہنی تشکیل کرکے انہیں علم دوست بنادے۔ دراصل تعلیمی بیداری جلسہ کا مقصد یہی ہے،

 مگر آج لاکھوں روپئے تعلیمی بیداری کانفرنس اور اجلاس کے نام پر پھونک دیئے جاتے ہیں ،اس کا حاصل اور نتیجہ ڈھونڈنے پر بھی نہیں ملتا ہے،

نہ بیداری آتی ہے بلکہ ہم نے اپنی آنکھوں سے تعلیمی بیداری جلسہ میں لوگوں کو نیند کی آغوش میں دیکھا ہے،جہاں بہت زیادہ تام جھام ہوتا ہے وہاں جلسہ کا مقصد نگاہوں سے اوجھل ہوجاتا ہے، صرف حاضرین کی کثرت کو کامیابی پر محمول کردیاجاتا ہے،یہ کیسی تعلیمی بیداری ہے؟

لوگ کہتے ہیں بدلتا ہے زمانہ سب کو

مرد وہ ہیں جو زمانے کو بدل دیتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے