ابو احمد مہراج گنج

 میں عبدل ہوں بھارت کے ہر شہر میں میری پنکچر لگانے کی دکان ہے۔ ہرشہر کے گلی نکڑ چوراہے پر میں چکن ،مٹن کی دکان لگاتے مل جاؤں گا، ریڑھی اور رکشہ چلانے کا مجھے پشتینی تجربہ ہے،رکشہ اور ٹھیلا مجھے وراثت میں ملا ہے، روڈ کے کنارےبریانی کا اسٹال میرا ہی ہے ،ہاں چاۓکی دکان بھی میری ہی ہے لیکن آجکل وہ کسی اور کے نام سے مشہور ہوتے جارہی ہے۔ جس کا مجھے کافی افسوس بھی ہے۔ مجھے اسکول کالج یونیورسٹی سے گم ہوئے تو صدیوں بیت چکےہیں ،مکاتب مدارس سے مجھے وحشت ہوتی ہے۔ تعلیم نام سے ہی مجھے الجھن ہوتی ہے، میرا محبوب مشغلہ ہے ۔موبائل میں پب جی اور فری فائر کھیلنا، فیس بک پر دوستی کرنا، اور یوٹیوب پر شارٹ ویڈیوز بنا کر وائرل کرنا،

آجکل انتخابات کا موسم ہے مجھے ساری پارٹیوں سے بلاوا آتا ہے مجھے ساری پارٹیاں ٹکٹ دیکر جتانا چاہتی ہیں،لیکن میں ہار جاتاہوں ،ساری پارٹیاں مجھے نیتا بناکر اپنا الو سیدھا کرنا چاہتی ہیں اور میں ان کے لیے الو بھی بن جاتا ہوں۔کیا کروں میں تو عبدل ہوں۔

 میرے گاؤں محلے قصبے میں میں میری تعداد 40فیصدہے ،لیکن میرے یہاں نیتا 80فیصد ہیں، ہر چھت اور چھپر کے نیچے دو تین نیتا موجود ہیں،سیاسی گفتگو ہی میری گفتگو کا نقطۂ آغاز بھی ہے اور انجام بھی ،میں دن بھر سیاست کے داو پیچ میں الجھتے الجھتے اس قدر الجھ گیا ہوں کہ

الجھنوں کی بھیڑ میں لاپتا ہے زندگی

جانے کتنے راستوں سے آشنا ہے زندگی

میری نظریں آکے رک جاتی ہیں میرے ہاتھ پر

کیا لکیروں میں بھی کچھ لکھا ہوا ہے زندگی

میں شب ہجراں میں اکثر سوچتا ہوں بیٹھ کر

مجھ کو جو کچھ بھی ملا کیا بس یہی ہے زندگی

اتنا سوچ سمجھ کر بھی میں در بدر ہوں ، کیا کروں میں تو عبدل ہوں ۔

میں ہر چیز پر سمجھوتا کرسکتا ہوں،میں دنگے میں مرسکتا ہوں ، میں آگ میں بھی جل سکتا ہوں ،میں فاقے میں جی سکتا ہوں، میں گھٹ گھٹ کر مر سکتا ہوں ، لاکھوں خانوں میں بٹ سکتا ہوں ،میں جاہل ہی رہ سکتا ہوں ، مگر میں متحد نہیں ہوسکتا ہوں ، میں متحد نہیں ہوسکتا ہوں !!! کیا کروں میں تو عبدل ہوں۔

کل جب سارے لوگ انتخاب میں جیت کر سرکاری آفس میں ہوں گے میں ان کا جھنڈا لہرانے میں مست ہوں گا، جب وہ جیت کے جشن میں فیل مست تن ہوں گے میں ان کے پیروں تلے روندا جاؤ ں گا۔ جب سارے لوگ سیاسی رنجشوں کو بھلا کر گلے مل رہے ہوں گے تو میں اپنے گاؤں محلے قصبے میں اپنے سیاسی مخالفین کو چت کرنے کی پلاننگ کر رہا ہوں گا۔کیوں کہ مجھے اپنے سیاسی آقاؤں کی ہدایت پر عمل بھی کرنا ہے، میں ہر رنج والم سے گزر سکتا ہوں ہر زخم کو سہہ سکتا ہوں لیکن اپنے بھائیوں کے ساتھ مذاکرات مواخات اور مواصلات کے ایک ٹیبل پر نہیں آسکتا،کیا کروں میں تو عبدل ہو ،

یہ عالم ہوگیا ہے بے بسی سے

کہ میں اکتا چکا ہوں زندگی سے

کتر ڈالے گئے بال وپر یوں

کہ اڑ سکتا نہیں بد قسمتی سے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے