مشرف شمسی

اسرائیل میں کہا جاتا ہے کہ جمہوریت کافی مضبوط ہے اس کے باوجود حکمراں جماعت عدالت عالیہ پر قدغن لگانا چاہتی ہے تاکہ وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف جو بد عنوانی کے الزامات ہیں اُسے ختم کیا جا سکے ۔لیکن اسرائیل کی عوام اور حزب اختلاف کے سبھی رہنماؤں نے وزیر اعظم کی اس کوشش کے خلاف سڑکوں پر آ گئے ہیں۔نتیجہ حکمراں جماعت نے عوامی احتجاج کو دیکھتے ہوئے اس معاملے کو بات چیت سے سلجھانے کا عندیہ دیا ہے ۔لیکن حزب اختلاف اب بھی اس بات پر مصر ہے کہ عدالت پر پارلیمنٹ کا قدغن کسی بھی حال میں اُنہیں منظور نہیں ہے۔پھر بھی اگر وزیر اعظم اور اُنکی حکومتی اتحاد میں شامل جماعتیں پارلیمنٹ سے اس متنازع بل کو پاس کرنے کی کوشش کی تو نیتن یاہو سرکار کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
صرف اسرائیل میں ہی نہیں پاکستان میں بھی سپریم کورٹ اور شہباز شریف حکومت کے درمیان زبردست رسّہ کشی چل رہی ہے ۔پاکستان کی پی ڈی ایم حکومت جو موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی دخل کی وجہ سے ایک سال پہلے بر سر اقتدار آئی تھی اب وہی چیف جسٹس بندیال کے فیصلے موجودہ شہباز حکومت کو ایک آنکھ نہیں بھا رہی ہے۔پاکستان کی حکومت نے بھی پارلیمنٹ کو سپریم بتا کر سپریم کورٹ پر قدغن لگانے کی کوشش کر رہی ہے ۔پاکستان کی موجودہ حکومت چاہتی ہے کہ کسی بھی طرح سے عوام میں مقبول عمران خان کو انتخابی میدان سے باہر کا راستہ دکھا دیا جائے۔اس کا مطلب ہے کہ عدالت عمران خان کو انتخاب لڑنے سے نا اہل قرار دے دے۔پاکستانی قومی اسمبلی جو اس وقت بنا حزب اختلاف کے ہے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ایک قانون پاس کرنے کی کوشش کی ہے جس کے ذریعے سپریم کورٹ کے ججوں کو پارلیمنٹ کے سامنے بلایا جا سکتا ہے ۔لیکن سپریم کورٹ کی ایک بینچ جس کی قیادت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کر رہے ہیں سخت نوٹس لیا اور اسے ہتک عزت کا معاملہ بتا دیا ۔جس کی وجہ سے حکومت کی سانسیں پھولنے لگی ہیں ۔چیف جسٹس نے صاف کہا ہے کہ حکومت جو بھی ڈراما کر رہی ہے اُسکا صرف ایک مقصد ہے کہ اُنکے من موافق فیصلے دیے جائیں جو ممکن نہیں ہے۔تیرہ جماعتوں پر مشتمل پاکستان کی موجودہ حکومت وقت سے پہلے انتخاب میں جانا نہیں چاہتی ہے ۔
بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔2014 میں مودی سرکار کے آنے کے بعد تقریباً سبھی آزاد اداروں پر ایک طرح سے حکومت کا قبضہ ہو چکا ہے ۔اس طرح کے الزام آئے دن حزب اختلاف کی جماعتیں لگاتی رہتی ہیں ۔یہاں تک کہ سپریم کورٹ بھی مودی سرکار کے من موافق فیصلے دیتی رہی تھی۔لیکن موجودہ چیف جسٹس چندر چوڑکے آنے کے بعد سپریم کورٹ میں اس ملک کے عام آدمی کو انصاف ملتا نظر آ رہا ہے ۔لیکن سپریم کورٹ کے خلاف یہاں بھی وزیر قانون نے محاذ کھول دیا تھا ۔ویسے تو حکومت 2014 سے ججوں کی بحالی میں کالیجم کے ذریعہ بھیجے گئے ناموں پر فیصلہ لینے میں تاخیر کرتی رہی ہے ۔وزیر قانون اور نائب صدر کے بیانات بتاتے ہیں کہ چیف جسٹس اور دوسرے ججوں کے عوامی مفاد یا قانون کے مطابق فیصلے سے بھارت کی سرکار بھی پریشان نظر آ رہی ہے ۔اگر ایک دو بڑے فیصلے سرکار کے خلاف چلے گئے تو ہو نہ ہو یہاں بھی پارلیمنٹ کو سپریم بتا کر سپریم کورٹ پر قدغن لگانے کی کوشش کی جائے۔
پاکستان میں جمہوریت کو کچل کر مارشل لاء لگنا عام بات رہی ہے ۔اگر وہاں کی حکومت فوج کے ساتھ مل کر عدالت پر قدغن لگا دے تو حیرانی کی بات نہیں ہوگی۔ لیکن اسرائیل اور بھارت میں سپریم کورٹ پر نکیل ڈالنے کی کوشش ہوئی تو دنیا سے دو مضبوط جمہوریت ختم ہوتی نظر آئے گی۔
…………………..
مضمون نگار ایک معروف قلمکار ہیں جن کا ملک و بیرون ملک کے حالات پر گہری نظر رہتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے