سنیل دت کے بعد بے سہارا ہوتے غریب، بلڈوزروں تلے دفن ہوتی بستیاں اور ممبئی کی خاموش بے حسی
جاویدجمال الدین، ممبئی
ممبئی کے قلب میں واقع باندرہ مشرق کی غریب نگر، بہرام نگر، نرمل نگر، گھاس بازار اور نوپاڑہ جیسی بستیاں کبھی زندگی کی دھڑکن ہوا کرتی تھیں۔ تنگ گلیوں میں کھیلتے بچے، چھوٹے چھوٹے ہوٹلوں سے اٹھتی چائے کی خوشبو، فجر کی اذانوں سے جاگتی بستیاں، محنت مزدوری کے لیے صبح سویرے نکلتے لوگ اور رات گئے تھکے قدموں سے واپس لوٹتے مزدور — یہی ان بستیوں کی پہچان تھی۔
مگر آج وہاں خاموشی ہے۔ گرد ہے۔ ملبہ ہے۔ اور بے گھر انسانوں کی آہیں ہیں۔
مغربی ریلوے کی انسدادِ تجاوزات مہم نے ان کچے آشیانوں کو زمین بوس کردیا ہے۔ سینکڑوں گھر، جنہیں غریب خاندانوں نے اپنی پوری زندگی کی جمع پونجی سے اینٹ اینٹ جوڑ کر بنایا تھا، چند گھنٹوں میں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئے۔
یہ صرف جھونپڑیوں کا انہدام نہیں تھا، بلکہ ہزاروں غریب خاندانوں کے خواب، امیدیں اور یادیں بلڈوزروں کے نیچے روند دی گئیں۔
عید سے پہلے اجڑتی بستیاں، مانسون سے پہلے کھلے آسمان تلے زندگی
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ انہدام ایسے وقت کیا گیا جب عیدالاضحیٰ میں صرف چند دن باقی ہیں اور مانسون ممبئی کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔
جن گھروں میں عید کی تیاری ہورہی تھی، وہاں اب ٹوٹی ہوئی دیواریں اور بکھرا ہوا سامان پڑا ہے۔ کہیں قرآنِ مجید ملبے میں دبا ہوا ملا، کہیں بچوں کی اسکول کی کتابیں، کہیں دوائیاں، کہیں برتن اور کہیں برسوں کی جمع پونجی۔
عورتیں اپنے معصوم بچوں کو سینے سے لگائے سڑک کنارے بیٹھی ہیں۔ بوڑھے افراد بے بسی سے اپنے ٹوٹے ہوئے گھروں کو دیکھ رہے ہیں۔ نوجوان جنہوں نے قرض لے کر اپنے گھروں کی چھت ڈالی تھی، اب اپنے مستقبل کے ملبے پر کھڑے ہیں۔
کئی خاندانوں کے پاس اب نہ رہنے کی جگہ ہے، نہ کھانے کا انتظام اور نہ ہی مستقبل کا کوئی یقین۔
غریب مگر مجرم نہیں
غریب نگر اور بہرام نگر کے لوگ غریب ضرور تھے، مگر مجرم نہیں تھے۔
یہ وہ لوگ تھے جو ممبئی کو زندہ رکھتے تھے۔ کوئی ٹیکسی چلاتا تھا، کوئی ریلوے میں مزدوری کرتا تھا، کوئی گھروں میں کام کرتا تھا، کوئی بازار میں سامان ڈھوتا تھا۔ ممبئی کی چمکتی عمارتوں اور دوڑتی معیشت کے پیچھے انہی غریب ہاتھوں کی محنت شامل تھی۔
لیکن افسوس کہ شہر نے ان کی محنت تو قبول کی، مگر ان کا وجود قبول نہیں کیا۔
جب انتخابات آتے تھے تو انہی بستیوں میں سیاست دان ووٹ مانگنے آتے تھے۔ بجلی کے کنکشن دیے جاتے تھے، پانی کے وعدے کیے جاتے تھے، شناختی کارڈ بنائے جاتے تھے۔ مگر جیسے ہی زمین قیمتی ہوئی، یہی بستیاں “غیر قانونی” قرار دے دی گئیں۔
فرقہ وارانہ سیاست اور مسلم بستیوں پر دباؤ
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ غریب نگر، بہرام نگر اور گھاس بازار جیسے علاقے برسوں سے فرقہ وارانہ سیاست کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔
مسلم اکثریتی علاقوں کو بار بار “تجاوزات”، “سکیورٹی خطرہ” اور “شہر پر بوجھ” کہہ کر پیش کیا گیا۔ گزشتہ کئی مہینوں سے بعض سیاسی عناصر مسلسل ان بستیوں کے خلاف ماحول بنا رہے تھے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر یہی بستیاں کسی طاقتور طبقے کی ہوتیں تو شاید انہدام سے پہلے بازآبادکاری، متبادل رہائش اور انسانی بنیادوں پر کوئی بڑا منصوبہ سامنے آتا۔ مگر غریب مسلمانوں کے لیے نہ سیاسی آواز بلند ہوئی، نہ انتظامیہ نے ہمدردی دکھائی۔
سنیل دت — غریبوں کے سچے محافظ
ان حالات میں ایک نام آج بھی ان بستیوں کے لوگوں کی زبان پر احترام سے لیا جاتا ہے — سنیل دت۔
سنیل دت صرف ایک فلمی اداکار یا سیاست دان نہیں تھے بلکہ غریبوں کے سچے ہمدرد تھے۔ 1980 اور 1990 کی دہائی میں جب غریب نگر، بہرام نگر اور باندرہ مغرب کی نرگس دت نگر جیسی بستیاں انہدام کے خطرے سے دوچار تھیں، تو سنیل دت ان غریب خاندانوں کے لیے ڈھال بن کر کھڑے ہوگئے تھے۔
وہ خود بستیوں میں آتے، لوگوں کی بات سنتے، ریلوے اور سرکاری حکام سے ملاقات کرتے اور غریبوں کے حق میں آواز اٹھاتے تھے۔
ان کے لیے یہ لوگ صرف ووٹ بینک نہیں تھے بلکہ انسان تھے۔ وہ جانتے تھے کہ غریب آدمی کا گھر صرف چار دیواری نہیں ہوتا بلکہ اس کی پوری زندگی ہوتی ہے۔
اسی لیے جب بھی انہدام کا خطرہ بڑھتا، سنیل دت خود میدان میں اترتے تھے۔ کئی بار انہوں نے اپنی سیاسی ساکھ داؤ پر لگا کر ان بستیوں کو بچایا۔
آج انہدام کے بعد غریب نگر کے بزرگ آبدیدہ آنکھوں سے کہتے ہیں: “سنیل دت کے بعد ہمارا کوئی پرسان حال نہیں رہا۔”
سنیل دت کے بعد خاموش نمائندے
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ سنیل دت کے انتقال کے بعد ان بستیوں کی آواز آہستہ آہستہ کمزور پڑتی گئی۔
بعد میں آنے والے بیشتر اراکین پارلیمنٹ نے ان بستیوں کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں اٹھایا۔ مقامی لوگوں کو امید تھی کہ سنیل دت کی صاحبزادی پریہ دت اپنے والد کی روایت کو آگے بڑھائیں گی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ غریب خاندانوں کو احساس ہوا کہ ان کی مشکلات اب کسی کی ترجیح نہیں رہیں۔
یہ بستیاں سیاسی طور پر تنہا ہوگئیں۔ انتظامیہ سخت ہوتی گئی۔ عدالتی لڑائیاں کمزور پڑتی گئیں۔ اور آخرکار بلڈوزر ان کچے آشیانوں تک پہنچ گئے۔
ایک پوری دنیا ملبے میں بدل گئی
غریب نگر صرف جھونپڑیوں کا مجموعہ نہیں تھا بلکہ ایک مکمل سماجی دنیا تھی۔
یہاں کی مساجد، مدرسے، چائے کے ہوٹل، چھوٹی دکانیں، رکشہ گیراج، بچوں کے کھیلنے کی جگہیں، محلے کی رونقیں — سب کچھ اب ملبے میں تبدیل ہوچکا ہے۔
کئی دہائیوں پرانی مساجد بھی انہدامی کارروائی کی زد میں آئیں، جس سے لوگوں میں شدید غم و غصہ پیدا ہوا۔
یہ علاقہ اس وقت عالمی سطح پر بھی خبروں میں آیا تھا جب ہالی ووڈ فلم “سلم ڈاگ ملینیم” میں یہاں کے بچوں نے اداکاری کی تھی۔ روبینہ علی نے اہم کردار نبھایاتھا۔اس وقت یہی بستیاں ممبئی کی “اصل تصویر” کے طور پر دنیا کو دکھائی گئی تھیں، مگر آج وہی بستیاں شہر کی ترقی کے نام پر مٹا دی گئی ہیں۔
ترقی کس کے لیے؟
ریلوے کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی پانچویں اور چھٹی ریلوے لائن، باندرہ ٹرمینس کی توسیع اور بلٹ ٹرین منصوبے کے لیے ضروری ہے۔ یقیناً شہر کو بہتر انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ترقی کا مطلب صرف غریبوں کو بے گھر کرنا ہے؟
کیا شہر کی خوبصورتی صرف غریبوں کے گھر گرا کر ہی حاصل کی جاسکتی ہے؟ کیا جدید ممبئی میں محنت کش طبقے کے لیے کوئی جگہ نہیں بچے گی؟
خاموش چیخیں
آج غریب نگر کے ملبے سے صرف گرد نہیں اٹھ رہی بلکہ ہزاروں بے گھر انسانوں کی خاموش چیخیں بھی بلند ہو رہی ہیں۔
یہ چیخیں ان بچوں کی ہیں جن کے سر سے چھت چھن گئی۔ یہ چیخیں ان ماؤں کی ہیں جنہوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی کھو دی۔ یہ چیخیں ان بوڑھوں کی ہیں جنہوں نے اپنی آخری عمر سڑک پر گزارنے کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔
قانون اپنی جگہ اہم ہوسکتا ہے، مگر انسانیت اس سے کہیں بڑی حقیقت ہے۔
اگر ترقی کے نام پر غریبوں کے آشیانے مٹا دیے جائیں، ان کی عبادت گاہیں گرا دی جائیں اور ان کی بے بسی کو صرف غیر قانونی تعمیرات کہہ کر نظر انداز کردیا جائے تو ایسی ترقی ادھوری اور بے رحم محسوس ہوتی ہے۔
غریب نگر کا انہدام صرف ایک انتظامی کارروائی نہیں بلکہ ممبئی کی بدلتی ہوئی سیاست، بڑھتی ہوئی بے حسی، فرقہ وارانہ ماحول اور طبقاتی ناانصافی کی ایک دردناک داستان ہے — ایک ایسی داستان جس میں بلڈوزر کی آواز سے زیادہ اونچی آواز ان بے گھر انسانوں کی آہوں کی ہے جن کے کچے آشیانوں کو ہمیشہ کے لیے زمین بوس کردیا گیا۔
