از قلم : مجاہد عالم ندوی
استاد : الفیض ماڈل اکیڈمی بابوآن بسمتیہ ارریہ بہار
عید قرباں ، جسے عید الاضحٰی بھی کہا جاتا ہے ، اسلامی تاریخ کا ایک نہایت عظیم ، بابرکت اور روح پرور تہوار ہے ۔ یہ صرف خوشی منانے کا دن نہیں بلکہ اللہ تعالٰی کی رضا کے لیے ہر محبوب چیز کو قربان کر دینے کے جذبے کا عملی درس بھی ہے ۔ یہ دن ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے مثال قربانی ، اطاعت الٰہی ، صبر و رضا ، اور عشق خداوندی کی یاد دلاتا ہے ۔
اسلامی تاریخ کا یہ سنہرا واقعہ رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے ایک عظیم پیغام ہے کہ اللہ تعالٰی کی محبت سب سے بلند اور سب سے مقدم ہونی چاہیے ۔ جب بندہ اپنے رب کی رضا کو اپنی خواہشات پر ترجیح دیتا ہے ، تبھی وہ قرب الٰہی حاصل کرتا ہے ۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں اللہ تعالٰی کا حکم پایا کہ اپنے لخت جگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی راہ میں قربان کریں ۔ ایک باپ کے لیے اس سے بڑی آزمائش اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی بڑھاپے کی واحد اولاد کو اپنے ہاتھوں اللہ کے حکم پر قربان کرے؟ مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بلا تردد اللہ تعالٰی کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا ۔
ادھر حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بھی صبر ، رضا اور اطاعت کا ایسا عظیم نمونہ پیش کیا کہ تاریخ انسانی اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے ۔ قرآن مجید میں ان کے الفاظ آج بھی ایمان والوں کے دلوں کو گرما دیتے ہیں :
"اے ابّا جان! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اسے کر گزریے ، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔”
یہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ عشق الٰہی کی وہ معراج ہے جہاں بندہ اپنی سب سے محبوب چیز بھی اللہ تعالٰی کی رضا پر قربان کر دیتا ہے ۔
عید قرباں ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنے نفس ، خواہشات ، غرور ، حسد ، لالچ اور گناہوں کو اللہ تعالٰی کے حکم پر قربان کرنے کا نام ہے ۔ اگر انسان صرف جانور قربان کرے لیکن اس کے دل میں تقویٰ ، اخلاص اور خوف خدا پیدا نہ ہو تو قربانی کا اصل مقصد حاصل نہیں ہوتا ۔
قرآن کریم میں اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے :
"اللہ تعالٰی کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون بلکہ اسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔”
(سورۃ الحج)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالٰی کے نزدیک اصل اہمیت نیت ، اخلاص اور تقویٰ کی ہے ، نہ کہ ظاہری نمود و نمائش کی ۔
قربانی کے اہم مقاصد
1. اللہ تعالٰی کی رضا کا حصول
قربانی کا سب سے بڑا مقصد اللہ تعالٰی کی خوشنودی حاصل کرنا ہے ۔ ایک سچا مسلمان اپنی ہر عبادت ، ہر عمل اور ہر قربانی کو صرف اللہ تعالٰی کی رضا کے لیے انجام دیتا ہے ۔ یہی اخلاص عبادت کو مقبول بناتا ہے ۔
2. سنت ابراہیمی کو زندہ رکھنا
قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم سنت کی یادگار ہے ۔ ہر سال مسلمان اس سنت کو زندہ کر کے یہ اعلان کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کے سامنے سر جھکانے کے لیے تیار ہیں ۔
3. ایثار اور قربانی کا جذبہ پیدا کرنا
قربانی انسان کے اندر ایثار ، سخاوت اور بے نفسی پیدا کرتی ہے ۔ انسان جب اپنی کمائی سے بہترین جانور خرید کر اللہ کی راہ میں قربان کرتا ہے تو اس کے اندر دنیا کی محبت کم اور آخرت کی فکر زیادہ پیدا ہوتی ہے ۔
4. غریبوں اور محتاجوں کی مدد
اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو معاشرتی ہمدردی اور بھائی چارے کی تعلیم دیتا ہے ۔ قربانی کے گوشت کو غرباء ، مساکین ، رشتہ داروں اور پڑوسیوں میں تقسیم کرنا اسلامی اخوت اور انسانی ہمدردی کی بہترین مثال ہے ۔ اس سے معاشرے میں محبت ، الفت اور مساوات کو فروغ ملتا ہے ۔
5. تقویٰ اور نفس کی اصلاح
قربانی انسان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ وہ اپنی خواہشات کو اللہ تعالٰی کے حکم کے تابع بنا لے ۔ جو شخص اپنے نفس پر قابو پا لیتا ہے ، وہی حقیقی کامیابی حاصل کرتا ہے ۔ قربانی انسان کے اندر تقویٰ ، صبر ، شکر اور اطاعت کی صفات پیدا کرتی ہے ۔
موجودہ دور میں قربانی کا پیغام
آج کا انسان مادّی خواہشات ، خود غرضی ، حسد اور دنیا پرستی میں مبتلا ہوتا جا رہا ہے ۔ ایسے وقت میں عید قرباں ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ انسان اپنی زندگی کو اللہ تعالٰی کی رضا کے مطابق ڈھالے ، غریبوں کا خیال رکھے ، رشتہ داروں سے حسن سلوک کرے ، اور اپنے اندر ایثار و محبت کا جذبہ پیدا کرے ۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قربانی کی اصل روح کو سمجھیں اور اپنی زندگیوں میں اطاعت الٰہی ، اخلاص ، تقویٰ اور انسان دوستی کو فروغ دیں ۔
خلاصۂ کلام :
عید قرباں دراصل عشق الٰہی ، اطاعت ربانی ، ایثار ، صبر اور تقویٰ کا عظیم پیغام ہے ۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ تعالٰی کی رضا کے سامنے اپنی خواہشات ، محبتوں اور مفادات کو قربان کر دینا ہی حقیقی کامیابی ہے ۔
لہٰذا! ہمیں چاہیے کہ ہم قربانی کو صرف ایک رسم نہ سمجھیں بلکہ اس کے حقیقی مقصد کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں ۔ اگر ہمارے دلوں میں تقویٰ ، اخلاص ، محبت اور اطاعت پیدا ہو جائے تو یہی قربانی اللہ تعالٰی کے حضور مقبول ہوگی اور یہی ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنے گی ۔
