معاشرتی بے حسی اور مذہبی منافرت پر ایک سنجیدہ فکری جائزہ

از قلم: حافظ محمد خالد عالیاوی

آج کا انسان سائنسی ترقی، جدید ٹیکنالوجی اور مادی آسائشوں کے اعتبار سے اپنی تاریخ کے بلند ترین مقام پر کھڑا ہے، مگر افسوس کہ اخلاقی اقدار، انسانی ہمدردی اور باہمی محبت کے میدان میں وہ شدید تنزلی کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ اگر ہم اپنے معاشرے کے موجودہ حالات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ انسانیت دم توڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ ظلم و ستم معمول بن چکا ہے اور ناانصافی اس قدر عام ہو گئی ہے کہ گویا اس کی کوئی وقعت ہی باقی نہیں رہی۔

سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ مذہب، جو امن، محبت، عدل اور اخوت کا پیغامبر ہے، بعض لوگوں کے ہاتھوں نفرت، تعصب اور تشدد کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ مذہب کے مقدس نام پر بے گناہوں کا خون بہایا جاتا ہے، دلوں میں نفرت کے بیج بوئے جاتے ہیں اور انسانوں کو انسان سمجھنے کے بجائے ان کی شناخت کو مذہبی عینک سے دیکھا جاتا ہے۔ نتیجتاً مظلوم کی فریاد بھی اس کے مذہب، مسلک یا طبقے کو دیکھ کر سنی جاتی ہے، نہ کہ اس کی انسانیت کو سامنے رکھ کر۔

حقیقت یہ ہے کہ جب معاشرے کا کوئی طبقہ ظلم، ناانصافی یا کسی بڑے سانحے کا شکار ہوتا ہے تو ہمارا فرض تھا کہ ہم اس کے دکھ درد میں شریک ہوتے، اس کی مدد کے لیے آگے بڑھتے اور انسانیت کا حق ادا کرتے۔ لیکن افسوس! ہم اس مقام تک گر چکے ہیں کہ بعض اوقات دوسروں کی بے بسی اور مصیبت کو تماشہ بنا کر دیکھتے ہیں، بلکہ بعض لوگ اس پر خوشی اور اطمینان کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف انسانی اقدار کے خلاف ہے بلکہ تمام اخلاقی اور دینی تعلیمات کی بھی صریح نفی ہے۔

وہ اسلامی اخوت، باہمی احترام اور اعلیٰ اخلاقی اقدار، جن پر کبھی ہمیں فخر تھا، آج محض کتابوں اور تقاریر تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دل اور عقل جیسی عظیم نعمتوں سے نوازا ہے تاکہ وہ حق و باطل میں تمیز کرے، انصاف اور رحم دلی کو اختیار کرے اور دوسروں کے لیے خیر خواہی کا جذبہ رکھے۔ لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دل زندہ ہیں نہ ضمیر بیدار؛ سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کمزور پڑ چکی ہے اور ذاتی مفادات نے اجتماعی شعور کو مفلوج کر دیا ہے۔

مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ نفرت پھیلانا، دوسروں کو بدنام کرنا اور معاشرے میں انتشار پیدا کرنا بعض افراد کا باقاعدہ ذریعۂ شہرت بن چکا ہے۔ خصوصاً سوشل میڈیا کے اس دور میں ویوز، لائکس اور وقتی مقبولیت کی خاطر ہر موضوع کو مذہبی یا فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسی بحثیں اور مناظرے زیادہ توجہ حاصل کرتے ہیں جن میں اشتعال انگیزی، تعصب اور نفرت شامل ہو، جبکہ اتحاد، رواداری اور خیر خواہی کی باتیں پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے گریبان میں جھانکیں، اپنے رویوں کا محاسبہ کریں اور انسانیت، عدل، محبت اور باہمی احترام جیسی اقدار کو دوبارہ زندہ کریں۔ ایک مہذب اور پرامن معاشرہ اسی وقت تشکیل پا سکتا ہے جب انسان دوسرے انسان کو محض مذہب، زبان، نسل یا طبقے کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک انسان ہونے کے ناطے عزت اور احترام دے۔

یہ تحریر ہمارے معاشرے کے گرتے ہوئے اخلاقی معیار، بڑھتی ہوئی بے حسی اور مٹتی ہوئی انسانیت کے لیے ایک سنجیدہ لمحۂ فکریہ ہے۔ اگر ہم نے آج اپنے رویوں کو نہ بدلا تو آنے والی نسلیں ایک ایسے معاشرے کی وارث ہوں گی جہاں ترقی تو ہوگی، مگر انسانیت ناپید ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے