خواجہ کی شان میں گستا خی کسی بھی صورت برداشت نہیں کیجا ئیگی! الحاج محمد سعید نوری
سہارنپور(احمد رضا): ملت کے ہمدر اور دین اسلام کے مجاہد الحاج محمد سعید نوری نے انجمن سیدزادگان خدام خواجہ کے ساتھ فلم اجمیر 92 کے شرمناک ایشو پر ہائی لیول گفتگو کرتے ہوئے کلکٹر کو ایک شکایتی مراسلہ پیشِ کیا ہے جسمیں صاف صاف کہا گیا ہے کہ سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللّٰہ علیہ کی شان و عظمت پر ہماری جانیں قربان ہیں ہم کشمیر فائل اور کیرالہ اسٹوری جیسی زہر گھولنے والی جعلی دستاویزات پر مبنی فلموں کی مانند اجمیر 92 کی نمائش کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جا ئیگا الحاج محمد سعید نوری کا کھلا اعلان خواجہ کی شان میں گستا خی کسی بھی صورت برداشت نہیں ہوگی اجمیر 92 کی نمائش کے خلاف مسلم طبقہ میں پنپنے والے غم و غصہ کی بابت اجمیر میں لگاتار 2 بار منعقد ہونے والی اہم میٹنگ میں سید زادگان انجمن خدام خواجہ کے ذمہ دران کے ساتھ ساتھ الحاج محمد سعید نوری ،مولانا رضی اللّٰہ شریفی حافظ جنید رضا رشدی اور محمد عارف رضوی سکریٹری رضا اکیڈمی کی موجودگی قابل ذکر رہی ، آپکو بتادیں کہ فرقہ پرست افراد کی جانب سے ناکارہ اور نفرت پر مبنی جھوٹی فلم اجمیر 92 کا جب سے پوسٹر جاری ہوا ہے تبھی سے ملکی سطح پر گہری تشویش کا اظہار دیکھنے کو مل رہا ہے شرپسند طبقہ اس کوشش میں لگا ہے کہ فلم اجمیر 92 کے ذریعے پرامن فضا کو تار تار کرکے ہندو مسلم میں نفرت کا زہر گھول یا جائے
یاد رہے کہ 14جولائ کو سنیما گھروں میں متنازع فلم اجمیر 92کو دکھایا جارہا ہے جس میں ایک فرضی اور جھوٹے واقعہ کو سلطان الہند حضرت غریب نواز رحمۃ اللّٰہ علیہ وسلسلہ چشت سے جوڑنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے جبکہ اس سے درگاہ شریف کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے اتنا ہی نہیں بلکہ اس جھوٹی فلم میں بار بار چشتی کہکر ملت اسلامیہ کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں بسنے والے صاحب ایمان لوگوںکے ساتھ ساتھ چشتیوں کی بھی توہین کی گئی ہے کسی ایک فرد یا دوفريق کے غلط کاموں کی وجہ سے کسی بھی صورت پوری ملت اسلامیہ کو، پورے آستانہ کو اور نہ ہی سلسلہ چشتیہ کو کسی بھی بیہودہ واقعہ سے جوڑ کر دکھانا یا پیشِ کیا جانا ایک شاطرانہ چال کے سوا ئے کچھ بھی نہیں ؟
یاد رہے کہ ملک بھر میں پہلی مرتبہ پوری ہمت کیساتھ متنازع فلم اجمیر 92 کو لیکر رضا اکیڈمی نے ملک گیر سطح پر مورچہ کھول دیا ہے علماء و دانشور وکلاء کی ٹیم نے اپنا کام شروع کردیا ہے اس سلسلے میں خود رضا اکیڈمی کے بانی و سربراہ قائد ملت الحاج محمد سعید نوری صاحب اجمیر شریف میں علماء و وکلاء کی ٹیم کے ساتھ خیمہ زن ہیں جہاں وہ خدام خواجہ ودیگر تنظیموں کے ذمہ دران کے ساتھ ہائ لیول کی میٹنگیں کررہے ہیں
انجمن سیدزادگان خدام خواجہ سے میٹنگ کرتے ہوئے قائد محترم نوری صاحب نے کہا کہ اجمیر 92فلم ایک سارش کا حصہ ہے جس کی حقیقت کچھ اور ہے مگر سازشی عناصر صرف ایک دو افراد کی وجہ سے پوری درگاہ غریب نواز رحمۃ اللّٰہ علیہ کو بدنام کررہے ہیں مزید معروف سلسلہ چشتیہ کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں جو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں ہے
حضرت نوری صاحب نے مزید کہا کہ سلطان الہند حضرت غریب نواز کی شان و عظمت پر حملہ پوری صوفی ازم پر حملہ ہے لہذا نہ صرف چشتی سلسلہ کے افراد بلکہ تمام سلاسل کے مشائخین اس سلسلے میں رضا اکیڈمی کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہو کر نائب النبی عطائے رسول خواجہ صاحب کی حرمت پر پہرہ دینے کے لئے تیار ہیں
لہٰذا ہمارا مرکزی حکومت سمیت سنسر بورڈ سے بطور احتجاج مطالبہ ہے کہ وہ کڑوروں عقیدت مندانے خواجہ جس میں ہندو مسلم سکھ عیسائی سبھی شامل ہیں ان کی والہانہ محبت کی قدر کرتے ہوئے فوری طور پر مذکورہ فلم سے درگاہ شریف اور سلسلہ چشتیہ کو نکال دے
نائب صدر آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء الحاج محمد سعید نوری نے کہا کہ خواجہ خواجگان حضرت معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللّٰہ علیہ کی درگاہ 800سو سال سے مرکز عقیدت ہے کبھی بھی احاطہ نور شریف میں کوئ ایسا واقعہ وقوع پذیر نہیں ہوا ہے جس کا ریکارڈ آج بھی سید زادگان وغیرہ کے پاس موجود ہے یہاں سے سیکڑوں میل دورہوئے واقعہ کو دانستہ طور پر درگاہ شریف سے جوڑنا سیدھے طور پر غریب نواز کی شان پر براہِ راست حملہ ہے جس کا ہم پرزور مذمت کرتے ہیں مزید وقت رہتے ہوئے مرکزی حکومت نے اس فلم سے روحانی پیشوا حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللّٰہ علیہ وسلسلہ چشت کو نہیں نکالا تو سخت ردعمل دیکھنے کو مل سکتا ہے
پیر طریقت حضرت مولانا شاہ ولی اللہ شریفی صاحب نے پرجوش انداز میں کہا کہ حضرت سلطان الہند رضی اللّٰہ عنہ کا آستانہ پوری دنیا میں محبتوں کی علامت ہے بلکہ خود ملک کی تہذیب و ثقافت میں تعلیمات صوفیاء کا اہم کردار رہا ہے جس کا اعتراف حال ہی میں کئ مواقع پر ملک کے وزیر اعظم نے کہا ہے تصوف کے ذریعے محبت کے ساتھ اظہار یک جہتی میں کلیدی کردار سلطان الہند قدس سرہ کا رہا ہے
لہذا بکواس کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ تاریخ کے اوراق میں حضرت غریب نواز کی سیرت و سوانح پڑھ لیں تاکہ تعصب کا عینک ان کی آنکھوں سے اتر جائے
حضرت مولانا امان اللہ رضا نے کہا کہ ملک میں سیکڑوں فلمیں ہرسال بنتی ہیں اس سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہے کہ تم کیا دکھاتے ہو
لیکن جب فلموں کے ذریعے نفرت پیدا کرنے کے لئے ہمارے روحانی پیشواؤں کا سہارا لیا جائے گا تو ہم ہرگز خاموش ہرگز بیٹھیں گے بلکہ وقت پڑنے پر ہم سڑکوں پر آکر متنازع فلم کو روکنے کی جدو جہد کریں گے
مبلغ تحریک درود وسلام حضرت مولانا محمد عباس رضوی نے کھل کر کہا کہ سلطان الہند کا آستانہ مینار ہندوستان ہے یہاں جتنے زائرین آتے ہیں بر صغیر کے کسی آستانے پر اتنے عقیدت مند نہیں آتے ہیں زائرین کی تعداد دیکھ کر نفرتی ٹولہ میں بوکھلاہٹ ہے جب انہیں مدارس و لوجہاد کے پروپیکینڈے میں کامیابی نہیں ملی تو یہ بے شرم ٹولہ ہندوستان کی شان خواجہ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پاک پر حملہ اور ہوگیا جس کا واضح ثبوت اجمیر 92 فلم ہے جو 2023 کی تیسری سب سے فرضی سب سے جھوٹی اور نفرت کو بڑھا وا دینے والی بازاری فلم ہے لہٰذا ملک کے امن پسند لوگوں کو آگے بڑھ کر اس متنازع فلم کا بائیکاٹ کرنا چاہئے تاکہ ملک کے اندر امن اور سلامتی کو کسی بھی صورت خطرہ لاحق نہ ہو پائے!

