مسرت جہاں
جامعہ نگر ، نئی دہلی
جستجو جس کی تھی اس کو تونہ پایا ہم نے
اس بہانے سے مگر دیکھ لی دنیا ہم نے
فلم امراؤ جان ادا کا یہ مشہور نغمہ آپ سبھی کو بخوبی یاد ہوگا ۔ مگر بہت کم لوگ یہ جانتے ہونگے کہ اس کے تخلیق کار شہر یار ہیں۔ انھوں نے کئی نغمے لکھے ان کے نغموں کو کافی شہرت حاصل ہوئی ۔ امراؤ جان ادا کے علاوہ انھوں نے اپنے دوست اور کلاس فیلو مظفر علی اور چوپڑا پروڈکشن کی فلموں کیلئے بھی نغمے لکھے جنکو کافی شہرت حاصل ہوئی ان میں گمن، فاصلے ، زونی ، انجمن ، دامن وغیرہ فلموں کے نغمے بھی قابل ذکر ہیں۔
اصلی نام کنور اخلاق محمد خان اور دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں ۔انکی پیدائش 16 جون 1936ء کو آنولہ ضلع بریلی اترپردیش میں ہوئی، ان کے والد کنور ابو محمد خان پولیس انسپکٹر تھے۔شہر یار کے آباء واجداد راجپوت تھے۔ پرتھوی راج کے دور میں ان کے بزرگوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948 میں علیگڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا، 1966 میں شعبہ اردو علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے ۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر کی اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔اپنی مے نوشی کے لئے خاصہ مشہور ہوئے۔
شہر یار ایک قادر الکلام شاعر ، نثر نگار ، نغمہ نگار اور معلم تھے۔ ان کا شمار بھی ترقی پسند شعراء کی اولین فہرست میں ہوتا ہے لیکن ان کی شاعری میں ترقی پسندانہ اثرات کے باوجود جدیدیت کا رجحان نظر نہیں آتا۔
حالانکہ ابتدائی شاعری روایتی موضوعات پر ہی مشتمل ہے جس میں واردات قلبی بھی ہیں اور حسن و عشق کی حرارت بھی ، لیکن لہجے میں سادگی ہے اور ایک خاص قسم کی معصومیت ہے۔جدید غزل کو جدید ترین بنانے اور اسے عصری ہیئت سے روشناس کرانے میں انھوں نےاہم کردار ادا کیا ۔انھوں نے غزل کی قدیم روایت کے مثبت عناصر کو جدید ذہن کے مطابق نئے اسلوب لہجہ اور انداز میں تشکیل نوکی اور جدید موضوعات کو تغزل کیساتھ جس طرح اپنی غزلوں میں برتا وہ انہیں کا حصہ ہیں ۔جدید غزل میں نئ تراکیب و استعارات استعمال کر کے بلندی عطا کی۔ انھوں نے غزل میں نئے نئے تجربے کئے مگر کلاسیکی روایات کا بھی احترام کیا۔اسی لئے انکی شاعری کو قدیم و جدید کا سنگم بھی کہا گیا ہے۔ انھوں نے حقیقت پسندانہ شاعری کی اور جو کچھ بھی محسوس کیا اسکو الفاظ کے پیکر میں ڈھال دیا ۔ ان کی سادگی میں پرکاری اور طرح داری میں تہ داری کا ہنر ان کو معاصرین میں ممتاز کرتا ہے۔
شہر یار نظموں کے سچے شاعر ہیں ۔ انہوں نے انہیں احساسات و جذبات کی ترجمانی کی جو ان کے دل کو چھوتے اور جذبات کو متاثر کرتے ہیں۔ ان کے یہاں ذاتی دکھ کی ایک لہر دکھائی دیتی ہے۔ وہ اس دکھ کو محدود نہیں کرتے بلکہ اسے عام انسانوں کا دکھ بنا کر پیش کر دیتے ہیں اور یہ انکے قادر الکلام ہونے کا ثبوت ہے
عجیب سانحہ مجھ پر گزر گیا یارو
میں اپنے سائے سے کل رات ڈر گیا یارو
وہ کون تھا، وہ کہاں کا تھا، کیا ہوا تھا اسے
سنا ہے آج کوئی شخص مر گیا یارو
شہر یار کے یہاں ایسے اشعار کی کمی نہیں ہے جن میں زندگی ہے،حرارت ہے،جوش ہے، حوصلہ ہے۔ ان کی شاعری میں رنگا رنگی پائی جاتی ہے
جان بھی میری چلی جائے تو کوئی بات نہیں
وار تیرا نہ ایک بھی خالی جائے
تقسیم کا المیہ ایک ایسا کربناک المیہ ہے جس کا اثر ہر شخص پر پڑا۔شہر یار نے بھی اپنی شاعری میں اسکی طرف اشارہ کیا ہے۔
نئے عہد میں انسان جن مسائل سے دوچار ہے ان میں عدم تحفظ ،تنہائ کا احساس بے چارگی،خوف،زندگی سے بے زاری وغیرہ ایسے موضوعات ہیں جن پر تمام جدید شعراء نے اپنی توجہ مرکوز کی ہے۔شہر یار نے بھی ان موضوعات کو اپنی شاعری میں جگہ دی ہے۔لیکن انکے یہاں سطحیت بالکل نہیں پائ جاتی بلکہ انکے فکروفن کی بلندی ہر جگہ نمایاں ہے۔وہ ثقیل الفاظ کے بجائے عام فہم الفاظ اور تراکیب ہی کے ذریعہ اپنے اشعار کو کمال ہنر مندی سے نئے معنی و مفہوم میں پیش کرتے ہیں ۔انکے یہاں خودکلامی کا لہجہ بھی استعمال ہوتا ہے اور کبھی کبھی وہ سوال بھی قائم کرتے ہیں اور نہایت سادگی سے بہت کچھ کہ جاتے ہیں ۔انکا دھیمہ لہجہ بہت مشہور ہے مگر وہ دل کو چھونے والا ہوتا ہے۔
گردش وقت کا کتنا بڑا احسان ہیکہ آج
یہ زمیں چاند سے بہتر نظر آتی ہے ہمیں
شہریار کی شاعری ہم عصروں میں بہت ممتاز نظر آتی ہے۔اسکی سب سے بڑی وجہ شاید یہ ہیکہ وہ کسی بھی ازم کی زنجیروں میں قید ہوکر شاعری نہیں کرتے ۔انھوں نے خلیل الرحمن اعظمی سے کسب فیض کیا تھا۔
انکی شاعری میں مساوات اور طبقاتی برابری کا درس ملتا ہے ۔انکی شاعری میں برجستگی ، سلاست و روانی پائ جاتی ہے۔انکی غزلوں اور نظموں میں ایک توانائ ہے انکے یہاں مایوس کن روے کے بجائے زندگی سے مقابلہ کرنے کی آہٹ ملتی ہے ۔انھوں نے اپنی غزلوں اور نظموں کے تعلق سے جدید اردو شاعری کو نئ پہچان دی۔ انہوں نے مختصر نظموں میں ایجاز کے فن کو جلا بخشی، کم سے کم لفظوں میں زیادہ سے زیادہ کہنے کا فن انکے تخلیقی شعور کا غماز ہے۔انکی شاعری مسرتوں سے لبریز ایک ایسی زندگی کو تلاش کرتی ہے جو ہر انسان کا خواب ہے۔
شہر یار کی نثر میں بھی سادگی اور معروضیت ہے جس نے اردو میں ایک صحت مند اور غیر جانبدار مدلل انداز تحریر کو فروغ دیا ہے۔
شہر یار گیان پیٹھ اور ساہتیہ اکیڈمی سمیت متعدد اعزازات سے نوازے گئے ۔
انکے مجموعے اسم اعظم ،ساتواں در،ہجر کے موسم،خواب کا در بند ہے،نیند کی کرچیں،حاصل سیر جہاں،شام ہونے والی ہے،دھوپ کی دیواریں،قافلے یادوں کے ،میرے حصے کے زمین ، دھند کی روشنی وغیرہ ہیں۔
انکے کلام کا ترجمہ فرانسیسی ،جرمن ،روسی ، مراٹھی ،بنگالی،اور تیلگو میں ہو چکا ہے۔اور انکے مجموعہ "خواب کا در بند ہے” کا انگریزی ترجمہ The gate way of dream closed کے نام سے شائع ہوا ۔
13 فروری 2012 کو کینسر جیسی مہلک بیماری میں مبتلا ہوگئے اور اس دارفانی سے رخصت ہوئے۔
لہذا کہا جا سکتا ہے کہ شہر یار کی شاعری غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے جو محض زندگی کو محسوس کرنے سے نہیں بلکہ اسے بھر پور انداز میں جینے سے پیدا ہوتی ہے۔
ہے آج یہ گلہ کہ اکیلا ہے شہر یار
ترسو گے کل ہجوم میں تنہائی کے لئے
