از ڈاکٹر محمد نعمت اللہ ادریس ندوی

ممنوعات احرام سے وہ اعمال مراد ہیں جن سے دوران احرام صاحب شریعت نے منع کیا ہے اور ان کے کرنے پر فدیہ یعنی جرمانہ لازم آتا ہے، وہ ممنوعات یہ ہیں:
(۱)مرد کے لئے قمیص یاکوئی دوسرا سلا ہوا کپڑا استعمال کرنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جو کہ صحیحین کی روایت ہے:
’’لَا یَلْبَسُ الْمُحْرِمُ الثَّوْبَ، وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا السَّرَاوِیْلَ وَلَا الْبَرَانِسَ، وَلَا الْخِفَافَ إِلَّا مَن لَّمْ یَجِدْ نَعْلَیْہِ، فَلْیَلْبَسْ خُفَّیْہِ، وَلْیَقْطَعْھُمَا مِنْ أَسْفَلِ الْکَعْبَیْنِ‘‘(بخاری: ۱۵۴۲اور مسلم: ۱۱۷۷ں بروایت ابن عمر رضی اللہ عنہما)۔
(محرم کپڑا یعنی قمیص ،پگڑی ، پائے جامہ ،ٹوپی اور موزے نہ پہنے، الا یہ کہ جوتے نہ ہوں توموزے ٹخنے کے نیچے سے کاٹ کر پہن لے)۔
موزوں سے مراد چمڑے کے موزے ہیں۔
سلے ہوئے کپڑوں کی ممانعت صرف چونکہ مردوں کے لئے ہے؛ لہذا عورتیں حالت احرام میں جو شرعی کپڑے چاہیں پہن سکتی ہیں ،وہ شلوارقمیص ،کوٹ، موزے
وغیرہ استعمال کر سکتی ہیں، لیکن شوخ اور بھڑکیلے رنگ کے کپڑوں سے بچنا چاہئے، عورتوں کا معمول کا کپڑا ہی ان کا احرام ہے ،صرف ان پر پابندی یہ ہے کہ’’ نقاب ‘‘ یعنی چہرے کے پردے کے لئے بنا ہوا مخصوص لباس نہ استعمال کریں اور دستانے نہ پہنیں ،بخاری کی حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’لَا تَنْتَقِبُ الْمَرْأَۃُ الْمُحْرِمَۃُ وَلَا تَلْبَسُ الْقُفَّازَیْنِ‘‘(بخاری: ۱۸۳۸، بروایت ابن عمر رضی اللہ عنہما)۔
( عورت حالت احرام میں نقاب نہیں لگائے گی اور دستانے نہیں پہنے گی)۔
لیکن اگر اجنبی مردوں کا سامنا ہو گیا تو چہرہ کا پردہ کرلے گی، وہ اس طور پر کہ سر پر سے اوڑھنی یا کوئی اور کپڑا چہرہ پر گرالے گی، جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ وہ اور ساری عورتیں حالت احرام میں ایسا ہی کیا کر تی تھیں(سنن ابوداؤد: ۱۸۳۳، بسند جید)۔ مختصرا یہ کہ عورتیںعام حالات میں چہرہ کھلا رکھیں گی، مگروقتی ضرورت کے لئے پردہ ڈال لیں گی،چہرے کے لئے ممانعت صرف ’’نقاب‘‘ کی ہے۔ اس تکلف کی بھی کوئی ضرورت نہیں کہ پردہ کرتے وقت کپڑے کو چہر ہ پر مس نہ ہو نے دیا جائے، اگر پردہ چہرہ سے لگابھی رہے تو کوئی حرج نہیں ۔
(۲) سرکو کسی چیز سے ڈھانپ لینا،جیسے ٹوپی اور عمامہ وغیرہ ؛اس لئے اس کی بھی ممانعت صحیحین کی پچھلی ذکر کردہ روایت سے ثابت ہوتی ہے جس طرح کہ سلے ہوئے کپڑوں کی ۔ساتھ ہی یہ بھی جان لینا چاہئے کہ حالت احرام میں صرف سر نہیں بلکہ چہرہ ڈھانکنا بھی منع ہے، لیکن چھتری یا خیمہ یا گاڑی کی چھت کے ذریعہ سایہ
حاصل کرنے میںکوئی حرج نہیں۔
(۳) سر مونڈوانا یا بال کتروانا،چاہے قلیل مقدار میں ہو،اللہ کا ارشاد ہے:
’’وَلَا تَحْلِقُوْا رُؤُوْسَکُمْ حَتّٰی یَبْلُغَ الْھَدْیُ مَحِلَّہُ‘‘(البقرۃ: ۱۹۶)۔
(اور اپنے سر نہ منڈوائو جب تک کہ قربانی،قربان گاہ تک نہ پہنچ جائے )۔
اس میں بھی فرق نہیں ہے کہ سر کے بال ہوں یا جسم کے کسی اور حصے کے؛ کیوں کہ سبھی بال ہیں اور ان کو مونڈنا حالت احرام میں ترک زیب و زینت کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔
(۴)ناخن تراشنا، چاہے ہاتھ کے ہوں یا پائوں کے اور اس کی ممانعت بال پر قیاس کرکے کی گئی ہے؛اس لئے کہ یہ بھی حالت احرام کے منافی ہے جس میں زیب وزینت اختیار کرنے سے منع کیاگیا ہے۔
(۵)خوشبو لگانا اور خوشبو سونگھنا ؛ اس لئے کہ متفق علیہ حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو، جنھوں نے خوشبو لگے ہوئے جبہ میں ہی احرام باندھ لیا تھا، حکم دیتے ہوئے فرمایا:
’’اخْلَعْ عَنْکَ الْجُبَّۃَ وَاغْسِلْ أَثَرَ الْخُلُوْقِ عَنْکَ‘‘(بخاری: ۷۸۹ اور مسلم: ۱۱۸۰، بروایت ابویعلی رضی اللہ عنہ)۔
( جبہ اتاردو اور اپنے جسم سے خوشبو کا اثر بھی دھل ڈالو)۔
(۶)خشکی کے جانور کا شکار کرنا یا اس کی نشاندہی کرنا ؛اس لئے کہ اللہ رب العزت کا فرمان ہے:
’’یٰأَ یُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ‘‘(المائدۃ: ۹۵)۔
(اے ایمان والو!احرام کی حالت میں تم شکارنہ کرو)۔
(۷)جماع اورمتعلقات جماع جیسے بوس و کناراور شہوت انگیز گفتگو وغیرہ سے پرہیز کرنا ،اللہ کا فرمان ہے:
’’ فَلَارَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ وَلَاجِدَالَ فِی الْحَجِّ‘‘(البقرۃ: ۱۹۷)۔
(حج میںبیوی سے میل ملاپ کرنے ، گناہ کرنے اورلڑائی جھگڑاکرنے سے بچتا رہے)۔
’’رفث‘‘سے مراد جنسی ملاپ اور شہوانی باتیں ہیں (تفسیر ابن کثیر ، آیت بالا کی تفسیر میں)۔
(۸)اسی آیت کریمہ سے یہ بھی ثابت ہو تا ہے کہ گناہ کے کام اور لڑائی جھگڑا بھی ممنوعات احرام میں سے ہے۔
(۹) نکاح کرنا، کروانا یا پیغام نکاح دینا ؛اس کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
’’لَا یَنْکِحُ الْمُحْرِمُ وَلَا یُنْکِحُ وَلَا یَخْطُبُ ‘‘(مسلم: ۱۴۰۹، بروایت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ)
(محرم نہ خود نکاح کرے اور نہ کسی کا نکاح کرے اورنہ ہی وہ پیغام نکاح دے)۔
ان ممنوعات احرام کا فدیہ یعنی بطور تلافی جرمانہ اس طور پر ہے کہ پہلے پانچ میں سے کسی کا ارتکا ب کیایعنی سلا ہوا کپڑا پہنا،یا سرڈھکا ، یابال مونڈوایا یا کتروایا، یا ناخن تراشا، یاخوشبو لگایا تو لازم آئے گا کہ یا توایک بکری ذبح کرے، یا چھ مسکینوں کوکھانا کھلائے، یاتین دن روزے رکھے ؛ اس لئے کہ فرمان حق تعالی ہے:
’’فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا أَوْ بِہٖ أَذًی مِّن رَّأْسِہٖ، فَفِدْیَۃٌ مِّنْ
صِیَامٍ أَوْصَدَقَۃٍ أَوْنُسُکٍ‘‘(البقرۃ:۱۹۶)۔
(جو شخص تم میں بیمار ہو یا اس کے سرمیں تکلیف ہو تو وہ روزے کا فدیہ یا خیرات یا قربانی دے)۔
اگر محظور کا ارتکاب شکارکی صورت میں ہے تواس کا مثل واجب ہوگا؛ اس لئے کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے:
’’فَجَزَائٌ مِّثْلَ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ‘‘(المائدۃ: ۹۵)۔
(محرم نے )جو شکار قتل کیا ، اس کے مثل چوپایہ جانوروں میں سے اس کی جزا دینا ہے)۔
اور اگر ’’مقدمات جماع‘‘میں سے کوئی فعل کر بیٹھا ہے تووہی فدیہ واجب ہوگا جس کی تفصیل پچھلے صفحے میں دوسرے محظورات کے بارے میں بتائی گئی (الشرح الممتع از ابن عثیمین ۷؍۱۶۳)۔
نفس ’’مجامعت ‘‘سے حج فاسد ہو جاتا ہے ، مگر اس حج کی تکمیل ضروری ہے اور اگلے سال حج کی قضا کے ساتھ ساتھ اس پر ایک اونٹ کا فدیہ بھی واجب ہے؛ کیوں کہ موطا امام مالک میں ہے کہ عمر بن خطاب ،علی بن ابی طالب اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی حج کے احرام میں جماع کر لیتا ہے؟تو تینوں نے جواب دیا کہ یہ دونوں میا ں بیوی حج پورا کریں، پھر اگلے سال دونوں حج کریں گے اور قربانی دیں گے(مؤطا امام مالک، کتاب الحج)۔
اگر محرم نکاح کرتا ہے یا پیغام نکاح دیتا ہے یا کسی ایسے گناہ وغلطی کا مرتکب ہوتاہے جو’’ فسوق ‘‘کے دائرہ میں داخل ہے، جیسے چغلی اورحسد وغیرہ تو اس میں توبہ واستغفار ہے؛ایسی صورتوں میں شارع سے توبہ اور استغفار کے سوا اور کوئی متعین فدیہ
یا سزا ثابت نہیں ہے۔
جہاں تک احرام کی ان پابندیوں کے مقصد کا تعلق ہے تو اس کی سب سے بڑی غرض یہ ہے کہ بندہ اللہ کی اطاعت وفرماںبرداری کا عادی ہو جائے؛ تا کہ جب جہاں اور جس چیزکا حکم دیا جائے اس پر عمل پیرا ہوجائے، چاہے اس حکم کی حکمت سمجھ میں نہ آئے یاعقل کے خلاف نظر آئے۔ ممنوعات احرام پر غور کیجئے تو پہلا درس ہمیں یہی ملتا ہے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ بندہ دنیاوی لذتوں سے منھ موڑ کر اللہ کی طرف راغب اور متوجہ ہو ،یہی اس کی اصل کا میابی ہے اور اسی کا سبق حج میں دیا جاتا ہے ؛ چنانچہ ترمذی میں بسند حسن روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ حاجی کس کو کہتے ہیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب تھا:’’الشَّعِثُ التَّفِلُ‘‘(جامع ترمذی : ۲۹۹۸، بروایت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور بسند حسن)یعنی جو اللہ کی رضا کے لئے پراگندہ حال،پراگندہ بال، خاک آلود اور تارک زیب وزینت بن گیا ہو۔
تیسری بات یہ ہے کہ احرام کا لباس اسے یہ یاد دلاتا ہے اور پیغام دیتا ہے کہ دنیا سے جاتے وقت دنیا کی چیزوں میں سے صرف کفن اس کے ساتھ ہو گااور دار آخرت میں کام آنے والی چیز وہ نیک عمل ہے جو اس نے پیشگی بھیج رکھا ہے، اللہ کا فرمان ہے : ’’ وَمَا تُقَدِّمُوْا لِأَنْفُسِکُم مِّنْ خِیْرٍ تَجِدُوْہُ عِنْدَ اللّٰہِ ‘‘(المزّمّل: ۲۰) (اور جو نیکی تم اپنے لئے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں پاؤگے) ۔
اللہ تعالی دوران حج تمام ممنوعات احرام سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے