از قلم: محمد سلمان ندوی

ماہ ذی الحجہ اشہر حرم کا آخری مہینہ ہے ۔ اس کامعنی ‘حج والا’ ہے چونکہ اس میں حج جیسا مہتم بالشان فریضہ ادا کیا جاتا ہے، اسی لیے اسے ذی الحجہ کہتے ہیں ،اس میں قربانی کی جاتی ہے ۔اس لیے عشرہ ذی الحجہ کی بڑی اہمیت وفضیلت ہے ۔ارشادربانی ہے: قسم ہے فجرکے وقت کی، اور دس راتوں کی ".(الفجر:1,2) چونکہ فجر کا وقت دنیا کی ہر چیز میں ایک نیا انقلاب لے کر نمودار ہوتا ہے،اس لیے اس کی قسم کھائی گئی ہے۔ بعض مفسرین نے اس آیت میں خاص دس ذی الحجہ کی صبح مراد لی ہے۔ اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ کے مہینے کی پہلی دس راتیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے خصوصی تقدس عطا فرمایا ہے، اوراس میں عبادت کا بہت ثواب ہے۔ چنانچہ دس راتوں سے مراد جمہور اہل علم کے نزدیک بھی عشرہ ذی الحجہ ہے ۔ علامہ ابن جریر طبری فرماتے ہیں: "اس سے ذی الحجہ کی دس راتیں مراد ہیں ،کیونکہ تمام معتمد مفسرین کا اس پر اجماع ہے”. (تفسیر طبری ص:514ج10) علامہ ابن کثیر نے بھی اس کی تصدیق کی ہے ،وہ لکھتے ہیں:”دس راتوں سے مراد عشرہ ذی الحجہ ہے جیسا کہ ابن عباس ،ابن زبیر ،مسروق ،عکرمہ ، مجاہداورمتعدد سلف وخلف علمائے کرام سے منقول ہے”.(تفسیر ابن کثیر ص:535ج10)۔ ان دس دنوں کی عبادت سے افضل کوئی عبادت نہیں ہے ، مگر یہ کہ کوئی راہ جہاد میں نکلے اور شہادت کے مرتبہ بلند پر فائز ہوئے۔ چنانچہ صحیح بخاری کی ایک حدیث میں ہے کہ:”کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں ،صحابہ نے پوچھا اللہ کی راہ کاجہاد بھی نہیں؟ فرمایا:”یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان و مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا”.(صحیح بخاری: 969)۔

اس حدیث کی وجہ سے محدثین عظام اور فقہائے کرام کے مابین اختلاف ہوا کہ اس عشرہ ذی الحجہ کے أیام افضل ہیں یا ماہ رمضان کے آخری عشرہ کے؟ ملا علی قاری اس کے جواب میں لکھتے ہیں کہ: "علما کا اس سلسلہ میں اختلاف ہےکہ رمضان کا آخری عشرہ افضل ہے یا عشرہ ذی الحجہ،تو بعض علما نے فرمایا کہ اس حدیث کی وجہ سے یہ عشرہ ذی الحجہ افضل ہے اور بعض علما نے فرمایا کہ روزہ اور لیلہ القدر ہونے کی وجہ سے رمضان کا عشرہ اخیرہ افضل ہے۔اورمذہب مختار یہ ہے کہ دن تو ماہ ذی الحجہ کے عشرہ اول کے افضل ہیں اس لیے کہ ان ایام میں یوم عرفہ ہے۔اورراتیں رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی افضل ہیں شب قدر کی وجہ سے۔اس لیے کہ یومِ عرفہ سال کے تمام دنوں میں افضل ہے اور شب قدر سال کی تمام راتوں میں افضل ہے”۔(مرقاہ المفاتیح:1460) ۔ ان دس دنوں کی عبادات میں جہاں حج، قربانی، صوم عرفہ اور تکبیر تشریق وغیرہ خصوصیت سے مشروع ہیں،وہیں ناخن ،بال اور کھال کے ترشوانے کی ممانعت بھی احادیث میں وارد ہیں۔  ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جب ذوالحجہ کا پہلا عشرہ داخل ہو،اور تم میں سے کسی کا ارادہ قربانی کرنے کا ہوتووہ اپنے بال اور کھال کا کچھ نہ کاٹے”.(صحیح مسلم ص:444,ج1) اور ایک روایت میں ہے:”تووہ نہ بال کاٹے اور نہ ناخن تراشے”.(ایضا ) اور ایک دوسری روایت میں ہے:”جس شخص نے ذی الحجہ کا چاند دیکھا اور اس کی نیت قربانی کرنے کی ہو تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے”.(سنن نسائی:4365) ان احادیث کی روشنی میں فقہاے احناف نے اس حکم کو مستحب قرار دیا ہے۔جیسا کہ علامہ ابن عابدین شامی نے اس کی وضاحت کی ہے۔بشرطیکہ انہیں کاٹے ہوئے چالیس دن سے زیادہ نہ گزرے ہوں،ورنہ کاٹنا واجب ہو گا۔ (ردالمحتار ج 3,ص66) کیونکہ حضرت انس بن مالک کی روایت ہے کہ:” نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے لئے ہر چالیس دن میں ناخن کاٹنے، مونچھ کاٹنے اور زیر ناف کو مونڈنے کا وقت مقرر فرمایا”۔اوران کی دوسری روایت میں ہے کہ:”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھ کاٹنے،ناخن تراشنے،موے زیر ناف کے مونڈنے اور بغل کے بال اکھاڑنے کا وقت مقرر فرمایا کہ ہم چالیس دنوں سے زیادہ نہ چھوڑیں”.(صحیح مسلم ص:444,ج1)

یہ بات قابل ذکر ہے کہ بال وناخن کاٹنے کے سلسلہ میں مدت کی تعیین لمبا ہونے پر منحصر ہے۔لہذاجب ناخن وغیرہ لمبا ہوجائے تو اسے کاٹ دیا جائے گا،اوریہ حکم اشخاص اور حالات کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے۔اورایک قول یہ ہے کہ ہر جمعہ کو ناخن وغیرہ کاٹنا مستحب ہے۔(الموسوعہ الفقہیہ ص:259,ج3) یہ حکم ممانعت صرف قربانی کرنے والے کے لیے ہے:”اور جو حضرات قربانی نہ کریں (یعنی جن پر قربانی واجب نہ ہو اور وہ نفلی قربانی کاارادہ بھی نہیں رکھتے ہیں) تو ان کے لیے بال وناخن سے متعلق یہ استحبابی ممانعت نہیں ہے۔یعنی ان کے لیے ان چیزوں کے کاٹنے سے اجتناب مستحب نہیں ہوگا،کیونکہ علت استحباب مفقود ہے (جانور کی قربانی کا جسم سمیت بال وناخن کی طرف سے بھی فدیہ ہونا) ہاں اگر وہ بھی بال وناخن کاٹنے سے پرہیز کریں اور قربانی کرنے والوں کی مشابہت اختیار کریں،تو مشابہت کی وجہ سے ممکن ہے انھیں کچھ ثواب مل جائے،تاہم اصلا ان کے لیے کوئی استحبابی فضیلت ثابت نہیں ہے”۔(احسن الفتاوی ج7ص497) چونکہ بال وناخن کے تراشنے کی ممانعت جسم انسانی کا فدیہ ہونا ہے،جیسا کہ ملا علی قاری نے التوربشتی کے حوالے سے لکھا ہےکہ:”قربانی کا مقصد درحقیقت جان کی قربانی ہے،یہی قربانی حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام نے پیش کرنا چاہی،دنبہ تو اس کے فدیےمیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے قبول فرما لیا،اور ہر سال قربانی کرکے درحقیقت اسی جذبہ جان نثاری وجان سپاری کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے۔جب اصل مقصد جان کی قربانی ٹھہرا تو گویا قربانی کرنے والے نے اپنے آپ کو گناہوں کی وجہ سے عذاب کا مستحق سمجھا،اور یہ سوچا کہ ان گناہوں کا کفارہ تو یہی ہو سکتا ہے کہ میں ہلاک ہوجاؤں اور میری جان خدا کے لیے قربان ہوجائے،لیکن شریعت نے جان کے فدیہ میں جانور کی قربانی مقرر کردی، سو یہ جانور انسان کی نیابت میں قربان ہورہا ہے، تو قربانی کے جانور کا ہر جزو قربانی کرنے والے کے جسم کے ہر جزو کا بدلہ ہے۔لہذاجس وقت جانور قربانی کے لیے خریداجاے یا قربانی کے لیے خاص کیا جائے، اس وقت انسانی جسم جس حالت میں ہومختص کردہ جانور اس انسانی جسم کے قائم مقام ہو جانے گا، اور جانور قربانی کرنے کے لئے خاص کرنے کے بعد جسم کا کوئی چیز (بال، ناخن اور کھال وغیرہ) کاٹ کر کم کردیا گیا تو گویا مکمل انسانی جسم کے مقابلے میں جانور کی قربانی نہیں ہوگی، جب کہ جانور انسانی جان کا فدیہ قرار پاچکا تھا، لہذا مناسب معلوم ہوا کہ قربانی اور نزول رحمت کے وقت انسانی جسم کا کوئی جزو کم ہوکر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فیضان الہی کی برکات سے محروم نہ رہے، تاکہ اس کو مکمل فضیلت حاصل ہو اور وہ مکمل طور پر گناہوں سے پاک ہو۔ اسی لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکور حکم دیا ہے”۔(مرقاہ المفاتیح ص:1081ج3) جب کہ مالکیہ و شافعیہ کے نزدیک اس کا کاٹنا مکروہ ہے اور حنابلہ کے نزدیک حرام ہے۔اسی لیے ابن قدامہ المقدسی نے ایسے شخص پر توبہ واستغفار لازم قرار دیا ہے ،البتہ اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے۔  اور قربانی میں کوئی خلل بھی واقع نہیں ہوگی۔(المغنی مع الشرح الکبیرص:87ج1)اس لیے افضل یہی ہے کہ عشرہ ذی الحجہ کے چاندسے قربانی تک میں خیر و برکت کے حصول کے لیے بال،ناخن اور کھال وغیرہ کاٹنے سے پرہیز کیا جائے ۔قربانی کے فوراً بعد انھیں کاٹا جائے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے