محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک۔ موبائل :9141815923
۱۔ ہشیار نوجوان
سب رپورٹ کارڈ پوچھ رہے تھے ۔ نتائج پوچھنے کی عادت سے ملت نے ہاتھ نہیں دھویاتھا اور اب ہاتھ دھوکرصدر تنظیم کے پیچھے پڑی ہوئی تھی۔
صدر تنظیم نے ہنس کر کہا’’نوکمنٹ‘‘ جتنے بھی سوالی تھے ، دل میں پیچ وتاب کھاکر رہ گئے۔ بہت ساروں نے انہیں مغرور کہا۔ اورصدر تنظیم پروگرام ختم کرکے گاڑی میں بیٹھ کردوسرے پروگرام کیلئے عازمِ سفر ہوئے۔میرے دِل نے کہا’’بندہ ، وقت ضائع نہیں کرتا۔ ہشیار نوجوان ہے ‘‘
۲۔ ماں کی یاد
دیپک ماڑگے کی والدہ گزرے ہوئے بیس سال ہوگئے ہیں۔ اوروہ اکثر ماں کی یادوں میں کھویارہتاہے کہ وہ والدہ کااکلوتا بیٹا رہاہے لیکن اسے اس وقت ہنسی آجاتی ہے جب اس کی اہلیہ سنکیتا اس کی ماں کارول اداکرنے لگ جاتی ہے۔ اپنا خیال رکھو، سردی ہے اچھااوڑھ لو، دودھ میں زعفران ملاکر لاتی ہوں ، ورنہ سردی بڑھ جائے گی۔ کولر کھول رہی ہوں ، گرمی زیادہ ہے۔ آج سبزی میں بھنڈی بنائی ہوں ، آپ کی صحت کے لئے بھنڈی اچھی رہے گی ۔
وہ اچانک اداس ہوجاتاہے۔ ماں یاد آتی ہے اور بے تحاشہ یاد آتی ہے۔ اورجب کبھی ایسا ہوتاہے وہ گھر سے باہر نکل جاتاہے تاکہ اس کی اہلیہ اس کو روتے ہوئے دیکھ کر اس کی ماں کی طرح دل بہلانے اور سمجھانے نہ بیٹھ جائے۔ایک ہی مرد کے لئے ایک خاتون دورول نبھاتی اُسے اچھی نہیں لگتی تھی ۔
۳۔ کڑھنے والا
کام منظم طریقے سے اس لئے نہیں ہوتاکہ ہم سب ایک دوسرے سے بے نیاز ہیں ۔اور بے نیاز اس لئے ہیں کہ پہلے کس کو کون ترجیح دے ؟ اسی میں عمریں ختم ہورہی ہیں۔ اوراجتماعیت منتشر ہوتی جارہی ہے۔ آپ کچھ اور سوچتے ہوں گے تاہم میں تو یہی کچھ سوچتاہوں اوراپنی اناپسند بے نیازی پر کڑھتارہتاہوں ۔
۴۔ دِل کی آواز
پھر زندگی میں شریک حیات بن کر فرحانہ آگئی۔ مجھے اس کو کینیڈا لے جاناپڑا۔تین سال کے دوران افروز اور نائلہ بھی ہماری زندگیوں کی بہار بن کر آگئے۔ آئندہ کے سات سال تک میں ہندوستان واپس نہ جاسکا۔ اورجب ایک ماہ کی چھٹی پر ہندوستان آیاتو دیکھاکہ امی کی طبیعت انتہائی ناسازہے ۔ وہ بستر سے لگی ہوئی ہیں۔ اباکاحال بھی کچھ اطمینان بخش نہیں ہے۔ فرحانہ کے منع کرنے کے باوجود میں نے ہندوستان میں قیام کو پسند کرلیا۔ میرے لئے امی اور ابا سے بڑھ کر کچھ نہیں تھا۔ میں نے ان کی خدمت کی تو یہ میرے دل کی آوازتھی ۔ شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ میرالڑکا افروز میری بڑی خدمت کرتاہے۔ بیٹی نائلہ بھی سسرال سے گھر آکر ہماراخیال رکھتی رہتی ہے اور میں ان دونوں کو دعائیں دیتانہیں تھکتا۔
اتنے سال بعد آج فرحانہ نے بھی کہہ دیاہے کہ’’ آپ نے ہندوستان میں رہنے کافیصلہ صحیح وقت پر کیاتھا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ہماری اولادیں ہماری خدمت کررہی ہیں ۔ورنہ اللہ جانے ہماراکیاحال ہوتا ‘‘ فرحانہ کے آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔ اورمیں اس وقت کاممنون تھاجب ہندوستان سے واپس کینیڈا نہ جانے کا فیصلہ کیا گی اتھا۔
۵۔ خسارہ پسند انسان
اللہ مخلوق سے مخلوقپید اکرتاہے ، اسی طرح انسان کی بنائی گئی فلمیں مزیدفلموں کوجنم دیتی ہیں۔ ان فلموں کوختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ تمام ترمعاشی ، تعلیمی، کاروباری ،ادبی اور فلاحی سرگرمیاں اسکرین پر متحر ک شکل میں دکھائی جائیں۔ فلمیں دیکھنے کے لئے انسان کو وقت ہی نہ ملے ورنہ فلمیں فلموں کوپیدا کرتی رہیں گی اور انسان خسارے پرخسارہ اٹھاتارہے گااور وقت اس کو معاف نہیں کرے گا۔ یہ میں نہیں کہہ رہاہوں بلکہ AIکے میرے لیکچرر کہتے ہیں۔ وہ فلموں کامقابلہ معاشی ، تعلیمی ، کاروباری،ادبی اور فلاحی ویڈیوکلپ سے کرنا چاہتے ہیں۔
میں ان کی باتیں حیرت زدہ ہوکر سنتاہوں ۔ان کاساتھ دے نہیں سکتا۔ عملاً کاہل طالب علم ہوں ۔
