محمد وسیم راعین عمری
جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں
عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ يَطَأُ فِي سَوَادٍ، وَيَبْرُكُ فِي سَوَادٍ، وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ، فَأُتِيَ بِهِ لِيُضَحِّيَ بِهِ، فَقَالَ لَهَا: «يَا عَائِشَةُ، هَلُمِّي الْمُدْيَةَ»، ثُمَّ قَالَ: «اشْحَذِيهَا بِحَجَرٍ»، فَفَعَلَتْ: ثُمَّ أَخَذَهَا، وَأَخَذَ الْكَبْشَ فَأَضْجَعَهُ، ثُمَّ ذَبَحَهُ، ثُمَّ قَالَ: «بِاسْمِ اللهِ، اللهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ، وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ، ثُمَّ ضَحَّى بِهِ»)صحيح مسلم:1967)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سینگوں والا مینڈھا لانے کا حکم دیا جو سیاہی میں چلتا ہو ، سیاہی میں بیٹھتا ہو اور سیاہی میں دیکھتا ہو ( یعنی پاؤں ، پیٹ اور آنکھیں سیاہ ہوں ) ۔ وہ مینڈھا قربانی کے لئے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” اے عائشہ! چھری لےآؤ ۔ پھر فرمایا: اس کو پتھر سے تیز کر لو” ۔ میں نے تیز کر دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری لیا ، مینڈھے کو پکڑا ، اس کو لٹایا ، پھر ذبح کرتے وقت فرمایا :”بسم اللہ ، اے اللہ! محمد ، آل محمد اور اس کی امت کی طرف سے اس کو قبول فرما "۔پھر آپ نے قربانی کی۔
قربانی کے دن قریب آتے ہی ایک الگ ہی خوشی کا ماحول ہوتا ہے ، قربانی عید قرباں کی اہم عبادت ہے، اس سنت کی ادائیگی میں دنیا بھر میں لاکھوں جانور اللہ کے لئے قربان کئے جاتے ہیں ۔
قربانی ایک عظیم عباد ت ہے ۔ در اصل یہ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، آپ علیہ السلام اللہ تعالی کی رضا کی خاطر اپنے بیٹے کو بھی قربان کرنے کےلئے تیار ہوگئے ۔ اللہ تعالی کو ان كا یہ جذبہ اور ان کی یہ ادا بہت پسند آئی اور بیٹے کی قربانی کے عوض مینڈھے کی قربانی کے ذریعے رہتی دنیا تک باپ بیٹے کی سنت کو زندہ وتابندہ بنا دیا ۔
قربانی کا پیغام یہی ہے کہ جانور کے گلے پہ چھری چلاتے ہوئے یہ جذبہ ہو کہ اگر وقت پڑے تو اللہ کی رضا کی طلب کے لئے ہم اپنی خواہشات کو بھی قربان کرنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے ورنہ گوشت اور خون کی قربانی اللہ کو مقصود نہیں ہے، اللہ سبحانہ نے اس کی صراحت سے نفی کی ہے ۔
امت محمدیہ کے لئے قربانی سن ۲ ہجری میں مشروع قرار پائی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب تک زندہ رہے سفر ہو یا حضر آپ برابر قربانی کرتے رہے لہذا قربانی کی طاقت رکھنے والے کو قربانی ترک نہیں کرنا چاہئے۔
شریعت نے جانوروں کے سلسلہ میں بہت ہی واضح تعلیمات دی ہيں ،قربانی کے جانور کی عمر کیا ہو ،کن عیوب سے پاک ہو یہ ساری باتیں ہمیں شریعت نے ہمیں سکھلائی ہے لہذا انسان اپنی حیثیت سے اچھے جانور کا انتخاب کرے عیب دار جانوروں کی قربانی سے گریز کرے ۔
قربانی کا مقصد اللہ کی قربت ہے لہذا دگر عبادتوں کی طرح ریاکاری وفخر ومباہات سے بالکلیہ گریز کرے ۔ اگر اللہ نے آپ کو حیثیت دی ہے تو آپ جتنی چاہے قربانی کریں لیکن اگر ریاکاری اور فخر كے لئے قربانی کی جائے تو یہ قربانی ثواب کے بجائے وبال کا سبب ہے ۔
مذکورہ حدیث، قربانی اور اس کے آداب سے متعلق ہے ۔ اگرچہ کہ کسی بھی رنگ کے جانور قربان کئے جا سکتے ہیں لیکن ہمیں اچھے رنگ کا جانور منتخب کرنا چاہئے ۔
ہمار ی شریعت نے جانور ذبح کرتے ہوئے ہمیں اس بات کا خیال رکھنے کا حکم دیا ہے کہ ہم جانور کو اچھے سے ذبح کریں ،ذبح کرتے ہوئے جانور کو آرام پہنچانے کی خاطر چاقو اچھے سے تیز كر لیں ، جانور سے چھپا کر چاقو تیز کیا كریں ۔یہ دین اسلام کی خوبی ہے کہ انسان تو انسان اس نے جانور کے ساتھ بھی احسان اور رحم کا معاملہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
