ابو احمد مہراج گنج
بھارت کا ہر نوجوان لڑکا جو بلوغت کے حدود میں داخل ہوچکا ہو اسے محبوبہ اور معشوقہ کی ڈیفینیشن معلوم ہوچکی ہوتی ہے اور یہ ڈیفینیشن اسے ملتی ہے ہمارے ادیب، شاعر، قوال اور مشاعروں سے، اس کے چشم تصور میں ایک حسین ،خوبصورت،نفیس،مخملی آواز،اور دلربا ناز وانداز والی ایک پیکر جمال ہوتی ہے جسے وہ اپنی محبوبہ اور معشوقہ مان کر سہانے خواب سجانے لگتا ہے ۔اور تصوّرات کی دنیا سے باہر نکل کر ادھر ادھر تاکہ جھانکی کرکے اس معشوقہ کی تلاش میں شب وروز گزرنے لگتا ہے ۔من اداس، فکر پریشاں، چہرے پہ تناؤ،گفتار میں جھنجھلاہٹ اور رفتار میں بے ترتیبی اس بات کی علامت ہیں کہ ہمارا نوجوان ایک محبوبہ اور معشوقہ کی تلاش میں چل پڑا ہے اور چلتے چلاتے اتنا دور نکل چکا ہے کہ اب واپسی کے سارے راستے پر بند لگا چکا ہے ۔
یہی وہ دور ہوتا ہے جب نوجوانوں کو مشاعروں کی شاعرات اور قوالی کی محفل جمانے والی گلوکارہ اسے بہت پسند آتی ہے ،عشقیہ شاعری کو تہ داری کے ساتھ سمجھنا اور درجنوں شاعرات کے عشقیہ بازاری شاعری کا ازبر کرلینا نوجوانوں کے لیے کچھ مشکل نہیں ہوتا ۔محبت لفظ ہی سے اسے محبت ہوجاتی ہے اور ہر حسیں چہرے ،نمکین مکھڑے دل نشین عشوے پر قربان ہونے کو جی چاہنے لگتا ہے۔اسی کیفیت خوش فہمی اور رنگین تصورات میں وقت بڑی تیزی سے محو سفررہتا ہے۔اور یہ نوجوان اپنی محبوبہ اور معشوقہ سے ایفائے محبت کے ہزاروں دعوؤں کے باوجود ،ساتھ جینے مرنے کی بے شمار قسموں کو طاق پر رکھ کر ماں کی پسند اور باپ کی دہشت کے سائے میں محبوبہ اور معشوقہ کی دہلیز سے ہوتے ہوئے ایک غیر مانوس انجان گم حال لڑکی سے گوشۂ تنہائی میں ملتا ہے یعنی اپنی بیوی کے کمرے میں داخل ہوتاہے ۔اور فراق گورکھپوری کے لفظوں میں حیرت ومسرت کی تصویر بن جاتا ہے اور زبان حال سے کہتا ہے کہ
تم کو دیکھیں کہ تم سے بات کریں
تم مخاطب ہو تم قریب بھی ہو
ایک طرف ماضی کی یادیں دامن دل سے وابستہ ہیں تو دوسری طرف دست حنائى کی پرکشش لمس ہاتھوں کے پوروں سے لیکر دماغ کی شریانوں تک میں ہلچل مچادیتی ہے۔ایسے میں یہ نوجوان عجیب ذہنی کشمکش اور دماغی الجھن کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے وہ ساحرلدھیانوی کے اس مشورے کہ *تم میں ہمت ہے تو دنیا سے بغاوت کرلو*
*ورنہ ماں باپ جہاں کہتے ہیں شادی کرلو*
کو عملی جامہ تو پہنا لیتا ہے۔لیکن وہ بیوی میں معشوقہ اور محبوبہ کی تلاش کا سفر جاری رکھتا ہے۔وہ بیوی میں معشوقہ کی دل ربائی ۔محبوبہ کی مست نگاہی۔ڈھونڈتا رہتا ہے ۔کبھی بیوی میں معشوقہ کی جلوہ آرائیاں دیکھنے کی خواہش پالتا ہے تو کبھی بیوی میں محبوبہ کی مدہوش کن انگڑائیاں ۔کبھی بیوی کو محبوبہ کے مقام پر بٹھا کر اس سے داستان عشق وفا سننا چاہتا ہے تو کبھی بیوی کو معشوقہ کی طرح پہلو میں بٹھاکر حسن کی کرشمہ سازیاں دیکھنا چاہتا ہے ۔لیکن اس کے اس خواب وخیال بھرے ارمانوں پر پانی پھرنے میں دیر نہیں لگتی۔
جب ایک کرخت لہجے والی آواز کان کے پردے سے ٹکراتی ہے "اجی سنتے ہیں” اور بے چارہ یہ نوجوان "ہاں آیا” کہہ کر بوجھل قدموں سے اس طرف چل دیتا ہے ۔
کہتے ہیں کہ میاں بیوی کا رشتہ بڑا پاکیزہ اور پر سکون رشتہ ہے ،اس میں بالکل بھی شبہہ نہیں کہ میاں بیوی کا رشتہ بڑا ہی پاکیزہ رشتہ ہے اور سکون بھی بے انتہا درجے کا ہے۔اللہ پاک نے تخلیق زوجہ کے مقصد کو بیان کرتے ہوئے فرمایا” لتسکنوا الیھا ” مطلب صاف ہے کہ بیوی سکون قلب ونظر کا سامان ہے مزید اللہ نے آگے بڑھ کر فرمایا” وجعل بینکم مودۃ ورحمۃ” کہ بیوی کہ ذات میں تہمارے لیے محبت اور ہمدردی ہے۔دنیا میں اپنی بیوی جو سکون قلب وروح اور محبت کے جو جذبات واحساسات پیش کرسکتی ہے وہ دنیا کی کسی محبوبہ اور معشوقہ کے پہلوؤں میں کبھی نہیں مل سکتا۔
اللہ بھلا کرے بھارت کے شاعروں ادیبوں ،اور قوالوں کا کہ انھوں نے بیوی کو سامان وحشت۔موضوع ظرافت ، قابل طنز وتمسخر اور ناقابل محبت شۓ بنا کر پیش کیا ہے،ہزارہا ہزار چٹکلے،قہقہوں کے مجموعے اور خوش گپیوں کے انبار بیویوں کے ہجو سے پرہیں۔ ۔نامحرم عورتوں اور لڑکیوں کے حسن ،ناز ،نخرے،عشوے سب نظر آتے ہیں لیکن جو حلال اور پاکیزہ زندگی کی ضمانت ہے یعنی بیوی اس میں سوائے خامیوں کے کچھ نظر نہیں آتا بیوی کی تعریف میں کسی شاعر ،ادیب ،قوال نے شاید ہی کوئی شعر یا نظم کہا ہو ہاں محبوبہ اور ۔معشوقہ کے ذکر خیر ،عشوے ،نخرے، غمزے سے دیوان کے دیوان اٹے پڑے ہیں۔جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے کہ
نامحرموں پہ لکھ دی محبت کی ڈائری
دیکھی پرائی لڑکی کہا اس پہ ہاۓ ری
بیوی جو حلال تو اس پہ چٹکلے
معشوقہ حرام مگر اس پہ شاعری
ہاں یہ بھی سچ ہے کہ بیوی میں محبوبہ کی ترسانے والی گفتگو کا فقدان ہوتا ہے ۔بیوی میں معشوقہ جیسے رجھانے والی ادا کمیاب ہے ،یہ بھی سچ ہے کہ بیوی تصنع کی گفتگو سے کانوں میں شہد کی شیرینی گھولنا نہیں جانتی ۔ معشوقہ کی طرح نازوں کے تیر سے شکار نہیں کرتی لیکن ان سب کے باوجود وہ شوہر کے وجود پر مرمٹنے کو تیار رہتی ہے ۔شوہر کے تلوے کی خلش اس کے دل کو چیر دیتی ہے شوہر کے پیشانی پر شکن اس کو اندر سے توڑ سکتا ہے قرآن پاک میں بیوی کے ایک وصف کو اللہ پاک نے اس طرح سے بیان کیا کہ "وَھُنَّ لِباَس لکم” کہ تم بیوی کے لئے اور بیوی تمہارے لئے لباس کی طرح ہیں ۔لباس اور جسم جسطرح سے لازم و ملزوم ہیں اسی طرح سے شوہر وبیوی ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں اس آیت کا مطالبہ یہ ہے کہ زوجین کو حد درجہ اپنائیت اور ہمدردی کا معیار برقرار رکھنا چاہیے ۔اور ایک دوسرے کے احساسات و جذبات سے واقفیت اور نازک حالات ومسائل کا علم بھی ہونا چاہیے ۔
بیوی بھی معشوقہ بن جائےگی اگر ہم اپنی آنکھ پر چڑھی ہوس کی عینک کو اتار دیں ۔بیوی بھی محبوبہ بن جاۓ گی اگر ہم اس کے حسن مجسم کا باریکی سے مطالعہ کرلیں ۔بیوی بھی معشوقہ بن جائے گی ۔ اگر اسپر سے گھر گرہستی کا بوجھ کچھ کم ہوجائے،وہ بھی قاتلانہ مسکراہٹ سے دل چیر سکتی ہے اگر کچن کی گرمی سردی سے کچھ راحت پاجائے۔وہ بھی محبوبہ کے نخرےاور معشوقہ سے جلوے دکھا سکتی ہے اگر اسے کھل کر جینے اورکھلکھلا کر ہنسنے کا موقع مل جاۓ۔
حاصل کلام یہ کہ بیوی ہی اصل میں محبوبہ اور معشوقہ بننے کی اصل حقدار ہے بیوی ہی ہے کہ جس کی ناز برداری بھی باعث ثواب ہے بیوی ہی ہے جس کے منھ میں نوالہ اور لقمہ ڈالنا بھی شریعت مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم میں کار خیر اور باعث ثواب ہے ۔
ہم ایمان والوں کو چاہیے کہ اپنی بیویوں میں ہی محبوبہ اور معشوقہ تلاش کریں ۔ ادھر ادھر کلیوں کی نشاط اور گلبدن کی خوشبوئیں تلاشنے، محرومی اور یاس کی زندگی گزارنے میں سوائے گناہ کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
چند کلیاں نشاط کی چن کر
مدتوں محو یاس رہتا ہوں
تیرا ملنا خوشی کی بات سہی
تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوں
