ابو احمد مہراجگنج

بھارت کو گاؤں کا ملک کہا جاتا ہے ۔یہاں کی بیشتر آبادی گاؤں اور قصبوں میں رہتی ہے ۔یہ گاؤں، دیہات کے لوگ شہروں کے مقابلے بہت سادہ مزاج ۔کھلے من اور شفاف طبعیت کے ہوتے ہیں ۔آپسی رنجش،لڑائی جھگڑا ،مار مرول یہ سب یہاں خوب پایا جاتا ہے لیکن ان سب کے باوجود یہاں دلوں میں محبت اور وسعت بہت ہوتی ہے ۔یہاں کے لوگ نمائشی زندگی سے دور ہوتے ہیں ۔اسی لیےخوشیوں اور تہواروں کا جو مزہ دیہات اور گاؤں کی گلیوں میں ملتا ہے۔وہ شہروں میں معدوم اور معدوے چند ہی دیکھنے کو ملتا ہے ۔
اب سے دو دہائی قبل جب ہمارے گاؤں کو شہر کی ہوا نہیں لگی تھی یا بہت کم افراد شہری بودوباس سے متاثر تھے اس وقت کے عید رمضان یا عید قرباں کی تصویر جب ذہن میں ابھرتی ہے تو یادوں کی ایک حسین فلم چل پڑتی ہے ۔محلہ کے کسی کسی گھر میں ہی بکرا ذبح ہوتا تھا لیکن ایک بکرے کی کھال چھڑانے اور گوشت بنانے میں پورا گھرانہ ساتھ کھڑا رہتا تھا۔بکرے گاؤں میں دس بیس ہی ذبح ہوتے تھے لیکن گوشت کی خوشبو ہر گھر کے کچن سے آتی تھی ،جانور آج کے مقابلے کمزور ہی ہوتے تھے لیکن اس کے گوشت کے ذائقے پورے گاؤں کو معلوم ہوجاتے تھے ۔ایک ایک دو پیس گوشت جسے شیرینی کہا جاتا تھا گاؤں کے ہر مسلم گھر تک پہنچا کر ہی دم لیا کرتے تھے۔
اس زمانے میں فرج نہیں ہوا کرتا تھا اس لیے اپنے پڑوسیوں رشتےداروں اور جان پہچان کے علاوہ لوگوں کو بھی ہم بقرعید کا گوشت کھلانا باعث تبرک سمجھتے تھے۔
لیکن جیسے جیسے میرےگاؤں میں شہروں کی نقل بڑھنے لگی ویسے ویسے گاؤں دیہات میں بھی عید قرباں کی وہ پرانی رونقیں ختم ہونے لگی ہیں بکرے اب پہلے سے تین گنا زیادہ کٹتے ہیں لیکن پھر کچھ گھروں کے کچن بقرعید کے دنوں میں گوشت کی خوشبو پر ہی مطمئن ہوجاتے ہیں ہانڈیوں کو اپنی مفلسی اور اپنے مالک کی بے بسی پر ترس آتاہے۔
اب ہمارے گاؤں کے لوگ پڑھ لکھ کر مہذب اور ترقی یافتہ ہوگئے ہیں اس لئے ہر گھر تک گوشت کی تقسیم میں ان کو ہزاروں خامیاں اور برائیاں نظرآتی ہیں۔بس چند کاروباری دوست اور سیاسی ہمنوا اس موقع پر غریب ۔مسکین نظر آتے ہیں جن کو ہم بقرعید کے موقع پر دعوت کھلاکر خوش قسمت بن جاتے ہیں ۔اب ہمارے گاؤں کے لوگ مسئلہ مسائل بھی بہت جان گیے ہیں جیسےکہ اگر آپ کے اہل خانہ دوست رشتے دار زیادہ ہیں تو پورا گوشت خود اپنے استعمال میں رکھ سکتے ہیں ۔اس لیے ہمارے گاؤں میں جن کو ہم گنوار جاہل سمجھتے ہیں وہی لوگ عید قرباں کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کر کے ہر حصہ اس کے حقدار کو پہچانے کا اہتمام کرتے ہیں ۔
یہ سب دیکھ کر اب مجھے یقین ہونے لگا ہے کہ میرا گاؤں اب شہر بننے کے بالکل قریب ہے۔
ہاں وہی شہر جہاں بغل میں رہنے والے پڑوسی کے موت کی خبر بھی اخبار میں پڑھ کے پتا چلتا ہے ۔ہاں وہی شہر جہاں بغل میں رہنا والا بندہ بھوک سے نڈھال ہو کر مرجاتا ہے اور بغل گیر کو اس کے حالت کی خبر نہیں ہوتی مگر اس کی لڑکی،اس کی بیوی کس کے ساتھ آتی جاتی ہے اس کی خبر پورے محلے کو رہتی ہے۔
میرا گاؤں بھی اب شہروں کے نقش قدم پر چل پڑا ہے شام کا بچا ہوا سالن اب پڑوسی کے گھر نہیں فرج کے اندر اسٹور ہوجاتا ہے ۔
معاشرتی ترقی نے ہم کو یتیم ،غریب ،مسکین اور بیوہ کی طرف سے بے خبر کردیا ہے ،
اب ہم تہواروں کی خوشیوں کے موقع پر ان کو بھول جاتے ہیں میرے گاؤں،دیہات والے بھی اب اپنا پرانا طور طریقہ طاق پر رکھنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں سچ مچ معاشی اور معاشرتی ترقی نے ہم سے ہماری روایات اور ہمارے اقدار کو چھین لیا ہے ۔سچ ہی کہا ہے کسی نے۔

ہم اپنا وہ دور پرانا بھول گئے
اک تھالی میں مل کر کھانا بھول گئے
باسی کھانا رکھنا فریج میں سیکھ لیا
بھوکے پڑوسی تک پہچانا بھول گئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے