لکھنؤ: عید الاضحی سالانہ عید ہے ، اللہ تعالی نے اس کو مسلمانوں کے جشن کے طور پر عطا فرمایا ہے ، یہ حضرت ابراھیم علیہ السلام کی یاد گار ہے ، انہوں نے اپنی قربانیوں سے بھری زندگی گذاری تو اللہ نے ان کو دنیا کا امام و پیشوا بنایا ، اور اپنا دوست قرار دیا ، اللہ تعالی نے ان سے تین بڑی قربانیاں لیں ، ایک مشرکانہ ماحول میں توحید کا اعلان ، دوسرے اپنے شیر خوار بچے اور اہلیہ کو سنسان علاقہ میں چھوڑنا اور تیسرے لخت جگر حضرت اسماعیل کو راہ خدا میں قربان کر دینا ۔
ان خیالات کا اظہار دار العلوم ندوۃ العلماء کی جامع مسجد میں عید الاضحی کے خطبہ میں امام وخطیب مولانا ڈاکٹر محمد فرمان ندوی نے کیا ، انہوں نے عید الأضحی کی نماز پڑھائی ، دوران خطبہ انہوں نے کہا کہ جو شخص بھی بلندیوں اور عظمتوں کو حاصل کرنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ اس قربانی سے سبق حاصل کرے ۔
نماز عید الاضحی سے پہلے مشہور خطیب مولانا محمد خالد ندوی غازیپوری( استاذ حدیث دار العلوم ندوۃ العلماء) نے اپنے جامع خطاب میں حضرت ابراھیم علیہ السلام کی سوانح اور قربانی کی مشروعیت ، احکام اور مسائل ، نیز قربانی کی ضرورت پر بہت تفصیل سے روشنی ڈالی اور کہا کہ جانور کی قربانی بیٹے کی قربانی کا بدل ہے ، لہذا اس بدل کا بدل نہیں ہو سکتا کہ اس جانور کی قربانی نہ کر کے رفاہی کام میں اس پیسے کو خرچ کیا جائے ۔

