ازقلم: محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی۔
یقینا نیک وصالح رشتے کے بغیر زندگی کا چمن ویران و بےرونق ہوجاتا ہے ، لیکن اگر رشتوں میں منافقت آجائے ،محبت کی جگہ دشمنی آجائے ،صبر وتحمل کی جگہ غیض وغضب ،انتقام وثأرکا جوالا مکھی پھوٹنے لگے تو رشتوں کی سیسہ پلائی ہوئی دیوار میں دراڑ وشگاف در آتا ہے ،
افسوس کہ آج کل یہی سب ہو رہا ہے ، ایک دوسرے کا استحصال و یرغمال ، گویا افراتفری کے اس دور میں رشتوں کا تقدس پامال ہورہاہے ، ایک دوسرے کے جذبات مشاعر و عواطف کا خون ہو رہا ہے ، ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی دوڑ میں مصروف ہے ، مادیت پرستی و مفاد دوستی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اس کے آگے رشتے کمزور ہوتی جا رہی ہے ،رشتے کمزور ہونے کی سب سے بڑی وجہ انا ،اہنکار و کجروی ہے ،اور یہ کہ ہم رشتے نبھاتے کم ہیں آزماتے زیادہ ہیں۔
ہر کوئی ایک دوسرے سے شکوہ کناں رہتا ہے ، پرانی باتوں اور رنجشوں کو دل و دماغ سے نکالنے کی کوشش ہی نہیں کرتے،ہمیشہ گڑۓ مردوں کو اکھاڑتے رہتے ہیں،
یاد ماضی عذاب ہے یارب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
ماضی کی تلخیاں رشتوں میں بُعد کی تخم ریزی کرتی رہتی ہے ، اور یہ زہر حال اور مستقبل کے رشتوں کو کھوکھلا کر کے رکھ دیتا ہے۔ رشتہ کوئی بھی برا نہیں ہوتا ،رشتہ دار صالح وطالح ہوتے ہیں ، لوگ اچھے اور برے ہوتے ہیں، لوگوں کی سوچ اچھی اور بری ہوتی ہے، رشتے احساس اور محبت کے ہوتے ہیں۔ جب کسی رشتے میں سچائی اور محبت نہیں ہوتی ، تو رشتوں کو نبھانا مشکل ہو جاتا ہے، دلوں میں منافقت ہو تو یہ رشتے جھوٹ اور چالاکیوں کی موت مر جاتے ہیں ،
جب رشتوں میں ضد اور مقابلہ آجائے تو یہ دونوں جیت جاتے ہیں اور رشتہ ہار جاتا ہے، اس لیے رشتہ بچانے کے لیے اگر جھکنا پڑے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے،( لیکن اس کی بھی ایک حد ہے )کیوں کہ ہمیشہ پھلدار شاخ ہی جھکتی ہے (اور پھلدار درخت پر ہی پتھر پھینکا جاتا ہے) اور اسی میں بڑا پن ہے۔ رشتے احساس کے ہوتے ہیں، اور احساس کے رشتے کسی دستک کے محتاج نہیں ہوتے ، یہ تو خوشبو کی طرح ہوتے ہیں جو بند دروازے سے بھی گزر جاتے ہیں۔
رشتے درختوں کی مانند ہوتے ہیں، بعض اوقات ہم اپنی انا وہوا کی تسکین کے لیے ان کو کاٹ دیتے ہیں اور گھنے سائے سے محروم ہو جاتے ہیں ، رشتہ خون کا ہو، یا دوستی کا ہو، اپنے خلوص اور محبت سے ان کی آبیاری کرتے رہیں، جس طرح ایک پودے کو پانی مٹی اور ہوا کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح رشتوں کو پنپنے کے لئے ، مضبوط اور خوشگوار بنانے کے لیے احساس، پیار اور خلوص کی ضرورت ہوتی ہے۔ حسد ،بغض ،کینہ ،تعلی وترفع وغیرہ تو رشتوں کی بنیادوں کو کھوکھلا کردیتا ہے ،لہذا دوسرے کی ترقی وخوشی میں خوش رہنا سیکھیں ،اس سے آپ کی اپنی زندگی سہل خوشگوار رہے گی ،
رشتے مستحکم ہوتے ہیں ،تعلقات مضبوط ہوتے ہیں پیار و محبت سے عفو ودرگزر ،صبر وتحمل سے ،ایثار وقربانی سے ایک دوسرے کے احترام وتوقیر سے ۔ رشتے من جانب الطرفین ہوتے ہیں ، ایک فریق اخلاص لٹاۓ ،جان چھڑکے ،دوسرا غدر کرۓ عناد کی راہ اپناۓ اور دشمنی کی فضاء قائم کریں تو ایسے وقت میں حکمت وفراست سے ایسوں کو بلیک لسٹ میں یا ارچفڈ میں ڈال دیجئے ، یا نمبر ہی بلاک کردیجئے تانکہ وہ اصلاح پر آمادہ ہوجاۓ اور اپنے کیے پر نادم ہوں۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
إذا ما تقضي الود إلا تكاشرا
فهجر جميل للفريقين صالح
اگر محبت سے نفرت ہی پیدا ہو تو اچھے انداز سے دوری دونوں فریقوں کے لئے بہتر ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارا رشتہ اخلاص ومحبت پر قائم ودائم رکھے آمین۔
