محمد ہاشم القاسمی (خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال)
گجرات ہائی کورٹ کے فیصلے سے بے پرواہ راہل گاندھی دہلی سے بائی روڈ ہماچل پردیش جا رہے تھے اسی دوران وہ سونی پت کے گاؤں مدینہ کے کھیتوں میں پہنچے جہاں دھان کی بوائی ہو رہی تھی۔ وہاں راہل گاندھی نے ٹریکٹر سے کھیت میں جتائی کی اور دیگر مزدوروں کے ساتھ مل کر دھان کے پودے لگائے۔ راہل گاندھی نے وہاں موجود کسانوں کا حال چال دریافت کیا اور کھیتی کے بارے میں بات چیت کی۔ چند لمحوں میں آس پاس کے علاقوں سے عورت، مرد، بچے، جوان بوڑھے اور نامہ نگاروں کا سیلاب امڈ پڑا گاؤں کے لوگ راہل گاندھی کو اچانک اپنے درمیان دیکھ کر حیران رہ گئے اور بہت خوش ہو ئے۔
اسی طرح حال ہی میں راہل گاندھی دہلی کے قرول باغ کے سائیکل بازار پہنچے تھے۔ انہوں نے وہاں کارکنوں اور سائیکل تاجروں سے بات چیت کی تھی۔ اس دوران راہل گاندھی نے بائیک مکینکس سے بات چیت کی تھی اور بائک ٹھیک کرنا سیکھا تھا۔ کانگریس پارٹی نے راہل گاندھی کی قرول باغ کے سائیکل بازار پہنچنے کی تصویریں شیئر کرتے ہوئے کہا تھا کہ "یہ ہاتھ ہندوستان بناتے ہیں، ان کپڑوں پر لگی کالک ہماری خوداری اور شان ہے۔ ایسے ہاتھوں کی حوصلہ افزائی کا کام صرف ایک ہی شخص کرتا ہے۔ راہل گاندھی دہلی کے قرول باغ میں بائیک مکینکس کے ساتھ، بھارات جوڑو یاترا جاری ہے” ۔
اس سے پہلے ٹرک ڈرائیور کے ساتھ رات کے وقت لمبا سفر، کرناٹک میں بس کا سفر، موٹر بائیک میں ڈیلی وری بوئے کے پیچھے بیٹھ کر گنجان سڑکوں پر گھومنا، ریستوران اور ڈھابوں میں عام لوگوں کی طرح چائے پینا وغیرہ اب عام بات ہو گئی ہے. اس کے برخلاف
ہندوستانی عوام پچھلی حکومتوں کے دوران جو کبھی نہیں دیکھے تھے۔ وہ اب ایک ایک کر کے ، مودی کی قیادت میں بی جے پی نے
ہندوستان کے لوگوں کو دکھانا شروع کیا ہے، مثلاً دن رات اپنی کامیابیوں کا قصیدہ گوئی کروانا ‘مفت’ ٹیکہ کاری کی مہم سے لے کر ریلوے اسٹیشنوں پر ایسکلیٹرز کی نصب کئے جانے تک، بی جے پی انتظامیہ کے تمام پہلوؤں کو ایک بے مثال قدم کے طور پر پیش کرنا ۔پچھلے نو سالوں میں بی جے پی کی طرف سے اٹھائے گئے ہر قدم کو موجودہ وزیر اعظم کے کارنامہ کے طور پر پیش کرنا، انہیں کچھ اس طرح سے دکھایا جانا کہ سابق وزرائے اعظم یا دیگر سیاسی جماعتیں ایسا کر سکنے کی بات تو چھوڑیے، ایسا کچھ کرنے کا سوچ پانے میں بھی اہل نہیں تھیں، وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں جتنا زور اپنی کامیابیوں کو گنوانے پر ہے، اتنا ہی زور اس بات پر بھی ہے کہ لوگ ہندوستان اور اس کے لیڈروں کی ماضی کی کامیابیوں کو بھول جائیں، جس کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ مودی کا ہر قدم ملک کے لیے پہلا قدم ہے، اس سے کوئی انکار نہیں کہ بی جے پی کو آج کارپوریٹ گھرانوں سے جس قدر قربت اور حمایت حاصل ہے ، ویسی حمایت کسی اور پارٹی کو کبھی نصیب نہیں ہوئی۔ بہت بڑے فنڈ پر بیٹھی بی جے پی کے پاس اپنے اعلیٰ درجے کے تعلقات عامہ کے عملے کے ذریعے اپنے ہر فیصلے کو عہد ساز فیصلے کے طور پر مشتہر کرنے اور قبول کروانے کی طاقت ہے۔بی جے پی کی سیاست ایک کے بعد ایک بڑے کارپوریٹ ایونٹ میں بدل گئی ہے۔ وزیر اعظم کی لارجر دین لائف والی شخصیت ان تقریبات کی جانب زیادہ سے زیادہ لوگوں کی توجہ مبذول کرانے کے لیے ضروری ہے۔ ہندوستان کی تاریخ کو مٹانے اور اس کے ذریعے بی جے پی کے سیاسی مفادات کو پورا کرنے والی ماضی کے واقعات کی فرضی کہانیوں سے بدلنے کی منصوبہ بند کوشش کی شدید حمایت حاصل ہے۔ ہندوستان کی پیچیدہ، لیکن مربوط تاریخ کو دبانے کا یہ کام صرف اسکولوں اور کالجوں میں تاریخ کی نصابی کتابوں کو دوبارہ لکھنے، یا جس ماڈل کو اٹل بہاری واجپئ کی قیادت والی بی جے پی حکومت میں ترجیح حاصل تھی اس کے ذریعے ہی نہیں کیا جارہا ، بلکہ موجودہ وقت میں اسے بیک وقت نصابی کتابوں کے دوبارہ لکھنے، سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر فرضی پیغامات پھیلانے اور بی جے پی اور اس سے منسلک تنظیموں کے رہنماؤں کی مدد سے جھوٹ کے پرچار پرسار میل جول سے کیا جارہا ہے۔ ہندوستان کے عام لوگوں کے سامنے تاریخ کی صحیح اور واقعی حالات کو حذف کر کے ماضی کے دردناک واقعات کی یاد دلا کر بی جے پی نے اپنے فائدے کے لیے تاریخ کے غلط استعمال کے فن میں مہارت حاصل کر لی ہے۔ بی جے پی یقینی طور پر اس طرح کی مہم میں ٹکنالوجی کے بے مثال اور مؤثر استعمال کا کریڈٹ لے سکتی ہے۔ دوسری اور اہم بات یہ ہے کہ ، ہندوستان نے اس سے پہلے کبھی بھی حزب مخالف قوتوں اور ناقدین کے خلاف ایسی منظم اور جارحانہ مہم نہیں دیکھی ہے۔ مودی کی حکومت احتجاج کو جرم بنانے کے لیے ہمیشہ یاد کیا جائے گا اور اس معاملے میں اب تک کوئی بھی حکومت اس کے آس پاس نہیں ٹھہرتی۔ ملک میں احتجاج کرنے والے طلباء، سیاست دانوں، اقلیتوں کے خلاف سیڈیشن اور یو اے پی اے جیسے جابرانہ قوانین کے استعمال میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے۔ اس طرح کی سیاسی کارروائیوں کی شروعات یونیورسٹیوں سے ہوئی، جہاں احتجاج کرنے والے طلباء پر سیڈیشن کا الزام لگایا گیا اور یہ اپنی انتہا پر اس وقت پہنچا جب جانچ ایجنسیوں نے مختلف معاملات میں اپوزیشن لیڈروں کے خلاف نہایت سفاکانہ کارروائیاں شروع کیں۔ نو سالوں میں ہندوستان پریس کی آزادی کی فہرست میں تاریخی طور پر سب سے نچلی سطح پر آ گئی ہے اور کئی نامور صحافی تعزیرات ہند کے تحت سنگین الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اور ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہے ہیں. ان نو سالوں میں ہندوستان نے جانچ ایجنسیوں کو بی جے پی لیڈروں کے سنگین گناہوں کو دھوتے ہوئے دیکھا ہے۔ معاملہ چاہے ہیٹ اسپیچ کا ہو یا فسادات بھڑکانے کا، موب لنچنگ اور قتل کے معاملوں میں بھی ان کے مبینہ رول یا اعلیٰ سطح پر بدعنوانی ہی کا رہا ہے ، اس سلسلے میں بی جے پی لیڈروں پر کسی بھی قسم کی آنچ نہیں آئی ہے اور نہ ان پر کسی طرح کی جانچ کا شکنجہ کسا گیا ہے، یہ سب اتنا واضح ہے کہ کئی اپوزیشن لیڈر جانچ ایجنسیوں کے چنگل سے بچنے کے لیے بادل نخواستہ بی جے پی میں شامل ہو چکے ہیں۔ تب جا کر ان کی جان بچی ہے، جہاں تک تفتیشی ایجنسیوں کا سوال ہے تو لگتا ہے کہ انہوں نے اپنی خود مختاری حکومت کے ہاتھوں پوری طرح سے گروی رکھ دی ہے۔ یو پی اے کے دورِ حکومت میں اسی بی جے پی نے ہندوستان کی اعلیٰ تفتیشی ایجنسی، سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس کو پنجڑے میں بند طوطا کہا تھا۔ لیکن ان ایجنسیوں نے مودی حکومت میں پنجڑے سے باہر نکلنے کا شاید ہی کبھی کوئی ثبوت دیا ہے۔ درحقیقت ان میں سے زیادہ تر ایجنسیوں نے صرف واضح طور پر انتقامی جذبے کے تحت کام کرنے والی بی جے پی حکومت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے رجحان کا ہی مظاہرہ کیا ہے۔ ایسے میں جبکہ مختلف حلقوں میں مودی میوزک کا اثر پھیکا پڑتا جا رہا ہے اور مودی سرکار کے خلاف تنقید کا لہجہ دن بہ دن بلند ہوتا جارہا ہے وہیں جمہوریت کے دو بڑے ستون میڈیا اور عدلیہ جیسے اداروں پر مودی حکومت کی مکمل بالادستی قائم کرنے میں مدد کی ہے۔ اگر مودی حکومت واقعی کسی نئی شروعات کی مستحق ہے تو یہ بگ میڈیا کا اس کے سامنے مکمل ہتھیار ڈالنا ہے۔ مودی حکومت میں ہندوستانی میڈیا جس طر ح سے سرکار کے مفادات کو آگے بڑھانے کے ایک نکاتی ایجنڈے پر کام کر رہا ہے ایسا کبھی مشاہدے میں نہیں آیا۔ اکثر اوقات میڈیا کو سماجی تقسیم اور اکثریت پسندی کو فروغ دینے کے لیے یکساں طور پر مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ اس دوران عدلیہ نے عام لوگوں میں کسی قسم کا اعتماد بحال کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ چند اہم فیصلوں کو چھوڑ کر پوری عدلیہ نے زیادہ تر مقدمات میں حکومت کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔چاہے بابری مسجد-رام جنم بھومی معاملے کا فیصلہ ہو یا حالیہ گیان واپی مسجد کا تاریخ حکومت کے غیر جمہوری احکامات کے خلاف ججوں کے فیصلہ دینے کی رہی ہے۔ اس کی بہترین مثال آپ کے سامنے اور کیا ہو سکتا ہے، گجرات ہائی کورٹ نے کانگریس کے قدآور لیڈر راہل گاندھی کی "مودی سرنام کیس” میں تبصرہ کرنے پر مجرمانہ ہتک عزت کے مقدمے میں سزا پر روک لگانے کی عرضی کو خارج کر دیا ہے۔ جسٹس ہیمنت پرچھک کی عدالت نے 7 جولائی صبح 11 بجے یہ فیصلہ سنایا۔ اس طرح ان کی سزا برقرار رہے گی۔واضح رہے کہ سورت کی میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ عدالت نے 23 مارچ 2023 راہل گاندھی کو تعزیرات ہند (IPC) کی دفعہ 499 اور 500 (مجرمانہ ہتک عزت) کے تحت گجرات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایم ایل اے پرنیش مودی کی طرف سے دائر 2019 کے مقدمے میں قصوروار ٹھہراتے ہوئے 2 سال جیل کی سزا سنائی تھی۔
عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کے مطابق اگر کسی شخص کے خلاف ایسے معاملات میں دو سال کی سزا سنائی جاتی ہے تو وہ شخص پارلیمان اور اسمبلی کی رکنیت سے محروم ہو جاتا ہے اور دو سال کی سزا کاٹنے کے بعد چھ سال تک الیکشن لڑنے کا نااہل ہو جاتا ہے۔
لوک سبھا سیکریٹریٹ نے کورٹ کے فیصلے کے پیشِ نظر 24 مارچ کو ان کی رکنیت منسوخ کر دی تھی جب کہ ہاؤسنگ محکمے نے اوّل فرصت میں ان کا سرکاری بنگلہ ان سے خالی کرا لیا تھا.
راہل گاندھی لگاتار چار مرتبہ سے لوک سبھا کے انتخابات میں چنندہ پارلیمنٹ کے ممبر ہیں اور 2019 میں صوبہ کیرالہ کے وائیناڈ سے لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے تھے. کانگریس کے سینئر لیڈر ابھشیک منو سنگھوی جو سپریم کورٹ کے سینئر وکیل بھی ہیں انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ راہل گاندھی معاملہ پر گجرات ہائی کورٹ کا فیصلہ مایوس کن ضرور ہے، لیکن یہ غیر متوقع نہیں۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ابھشیک منو سنگھوی نے کہا کہ اس فیصلہ کا انتظار ہم 66 دنوں سے کر رہے تھے۔ یہ اپیل 25 اپریل کو فائل کی گئی تھی۔ یہ سوال کیا گیا تھا کہ جو عرضی دہندہ اور شکایت کرنے والا ہے، وہ خود کیسے ہتک عزت کا شکار ہوا۔ اس کا آج تک جواب نہیں ملا۔ابھشیک منو سنگھوی کا کہنا ہے کہ ہتک عزت قانون کا پوری طرح غلط استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود راہل گاندھی ڈرنے والے نہیں ہیں۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ان پر جتنا بھی حملہ ہو، جیل کے نام سے جتنا بھی ڈرایا جائے، مجھے نہیں لگتا کہ راہل اس سے خوفزدہ ہونے والے ہیں۔
راہل گاندھی سچائی پر بے خوف ہو کر چلنے والے مسافر ہیں۔ وہ بی جے پی کے جھوٹ کا پردہ فاش کرتے رہیں گے۔ جھوٹ کا پردہ فاش ہونے کی وجہ سے ہی حکومت گھبرائی رہتی ہے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ابھشیک منو سنگھوی یہ بھی کہتے ہیں کہ حکومت نوٹ بندی، چین معاملہ، موجودہ معاشی حالت جیسے ایشوز پر بات نہیں کرتی اور لوگوں کا دھیان ان ایشوز سے ہٹانے کے لیے غیر ضروری چیزوں پر بات کرتی ہے۔ لیکن مجھے عدلیہ پر یقین ہے، وہ سچ کا ہی ساتھ دے گی۔‘‘ اس دوران ابھشیک منو سنگھوی نے یہ بھی واضح کیا کہ ’مودی‘ کنیت معاملے میں راہل گاندھی کو جو سزا سنائی گئی ہے، اس کے خلاف اب سپریم کورٹ کا رخ کیا جائے گا۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر ہائی کورٹ نے ان کی سزا کو معطل کر دیا ہوتا تو ان کی لوک سبھا کی رکنیت بحال ہو جاتی۔ تاہم ان کو جیل نہیں جانا ہوگا کیوں کہ ایک عدالت نے سزا پر عمل درآمد پر روک لگا رکھی ہے۔
کانگریس نے گجرات ہائی کورٹ کے فیصلے کی مخالفت کی ہے۔ پارٹی کے جنرل سیکریٹری اور کمیونی کیشن انچارج جے رام رمیش نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ پارٹی فیصلے کا مطالعہ کرے گی اور آگے کی حکمتِ عملی طے کرے گی۔ ان کے مطابق اس فیصلے نے اس معاملے میں ہمارے عزم کو بڑھا کر دگنا کر دیا ہے۔
کانگریس کے قومی ترجمان اور سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے نئی ایک نیوز کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ غلط ہے، یہ قانون کے مطابق نہیں ہے۔ پارٹی جلد ہی اس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔ اُنہوں نے عدالت کی جانب سے راہل گاندھی کے خلاف 10 مقدمات کے حوالے پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جج صاحب کا اس کا حوالہ دینا غلط ہے۔ ان میں سے کسی بھی کیس میں راہل گاندھی کو سزا نہیں سنائی گئی ہے۔ دوسری بات یہ کہ یہ تمام مقدمات بی جے پی کے کارکنوں اور عہدے داروں کی جانب سے دائر کیے گئے ہیں۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی بار بار کہتی ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ہتک ہوئی ہے تو میرا کہنا ہے کہ پھر نریندر مودی خود کیوں نہیں عدالت میں شکایت کرتے۔؟ ان کے بقول مبینہ توہین کسی اور کی ہوئی اور مقدمہ کسی اور نے قائم کیا ہے ۔
کرناٹک کے وزیر اعلی سدھا رمیا اور نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیو کمار نے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا اور الزام عائد کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نہیں چاہتی کہ راہل گاندھی پارلیمنٹ میں جائیں۔ ڈی کے شیو کمار کے مطابق اس معاملے میں انصاف نہیں ہوا ہے۔ یہ افسوسناک ہے اور جمہوریت کا قتل ہے۔ پورا ملک اور اپوزیشن جماعتیں راہل گاندھی کے ساتھ ہیں۔ وہیں بی جے پی نے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ پارٹی کے قومی ترجمان شہزاد پونہ والا نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ سچ کی جیت ہوئی ہے۔ سیشن کورٹ کے بعد ہائی کورٹ نے راہل گاندھی کی درخواست خارج کر دی۔ ان کے بقول راہل گاندھی کو لوگوں کی توہین کرنے کی عادت۔ انھوں نے پسماندہ سماج سے معافی نہیں مانگی بلکہ کانگریس اس پر ڈھٹائی سے قائم رہی۔ سینئر بی جے پی رہنما اور سابق مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ راہل گاندھی دوسروں کی ہتک کرتے رہتے ہیں اور معافی مانگنے کے بجائے غیر ذمہ دارانہ حرکتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
سپریم کورٹ کے وکیل راکیش کمار سنہا کے مطابق یہ فیصلہ سزا کو معطل کرنے کی درخواست پر سنایا گیا ہے۔ جب کہ سزا کو منسوخ کرنے کی درخواست عدالت میں زیر التوا ہے۔ ان کے خیال میں عدالت کی جانب سے راہل کے خلاف دس مقدمات کے درج ہونے کی دلیل دینا ناقابل فہم ہے۔ عدالت کو اس معاملے میں میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ دینا تھا۔اُنہوں نے کہا کہ اس سے قبل ہتک عزت کے کسی بھی معاملے میں اتنی سزا نہیں سنائی گئی۔ عدالتیں ایسے معاملات میں وراننگ دے کر معاملہ ختم کر دیتی ہیں۔ یہ پہلی بار ہوا کہ ہتک عزت کے معاملے میں سب سے زیادہ دو سال کی سزا سنائی گئی۔
راہل گاندھی کے خلاف عدالت کے فیصلے کے بعد تجزیہ نگاروں کے درمیان یہ بحث زور پکڑتی جا رہی ہے کہ آیا اس سے کانگریس پارٹی کو 2024 کے عام انتخابات میں فائدہ ہوگا یا نقصان.
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی کے خلاف اس فیصلے سے کانگریس کو سیاسی نقصان نہیں ہوگا۔ کیوں کہ وہ عوام میں جا کر کہے گی کہ چونکہ راہل گاندھی گوتم اڈانی اور نریند رمودی کے رشتے کے بارے میں سوال کرتے رہے ہیں، اس لیے بی جے پی عدالت کا سہارا لے کر ان کے خلاف بدلے کی کارروائی کی جا رہی ہے۔ تاکہ کوئی دوسرا بھی یہ سوال کرنے کی جرات نہ کر سکے۔ تجزیہ کار ہرویر سنگھ نے کہا کہ کانگریس اس معاملے میں حکومت کو گھیرنے اور عوام کو یہ سمجھانے کی کوشش کرے گی کہ حکومت راہل گاندھی سے انتقامی جذبے سے کام لے رہی ہے۔ان کے خیال میں کانگریس پہلے بھی عوام کو یاد دلانے کی کوشش کرتی رہی ہے اور اب ایک بار پھر کرے گی اور کہے گی کہ انتقامی جذبے کے تحت ہی راہل گاندھی کی رکنیت ختم کی گئی اور ان کا سرکاری بنگلہ چھین لیا گیا۔ کچھ دیگر تجزیہ کاروں کے مطابق کانگریس جہاں اس معاملے میں بی جے پی اور حکومت کے خلاف بیانات دے گی وہیں بی جے پی اور حکومت کی جانب سے کہا جائے گا کہ یہ فیصلہ عدالت نے سنایا ہے جس میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ پھر یہ سوال بھی ہوگا کہ بی جے پی رام مندر معاملہ میں عدالتی فیصلے کو اپنی کامیابی کے کیسے جوڑ رہی ہے؟ ان کے بقول اس معاملے پر سیاسی ماحول ایک بار پھر گرم ہونے والا ہے۔ اور کچھ مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس معاملے میں 2024 کے عام انتخابات سے قبل حتمی فیصلہ سنائے جانے کا امکان نہیں ہے۔ ابھی راہل گاندھی کی جانب سے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی اور عدالتوں میں معاملات کافی عرصے تک زیر التوا رہے گا ۔
واضح رہے کہ ہتک عزت کا قانون انگریزی دور حکومت میں 1837 میں وضع کیا گیا تھا اور یہ پہلا موقع ہے جب اس کے تحت کسی کو دو سال کی سزا سنائی گئی ہے۔
