اس کو موضوع بحث بنا کر ووٹوں کو پولرائز ہونے کا موقع نہیں دینا چاہئے

عبدالغفارصدیقی

ہمارے وطن عزیز میںاس وقت یکساں سول کوڈ کا ایشو زیر بحث ہے ۔مرکز میںحکمراں سیاسی زعفرانی جماعت نے اعلان کیا ہے کہ وہ یکساں سول کوڈ نافذ کرے گی ۔اس کے لیے اس نے لاء کمیشن کو اہل ملک سے رائے لینے کے لیے کہا ہے ۔جس کی آخری تاریخ 30جولائی ہے ۔یکساں سول کوڈ کا ایشو نیا نہیں ہے بلکہ آئین کی تشکیل کے ساتھ ہی شروع ہوگیا تھا ۔آئین مرتب کرتے وقت ہی اس پر اعتراضات کیے گئے تھے لیکن اس وقت زبانی تسلیاں دے کر خاموش کردیا گیا تھا ۔موجودہ حکومت کے پاس اہل ملک کو مطمئن کرنے اور انھیں اپنا ہمنوا بنانے کے لیے ترقیاتی کاموں کی فہرست میں کوئی کام نہیں ہے ،اس لیے کہ گزشتہ نو سال میں شاید ہی ایسا کوئی کام ہوا ہو جس پر فخر کیا جاسکے ۔لیکن اس کے پاس سب سے آسان نسخہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو ہیجان اور خوف میں مبتلا کیا جائے اور پھرشدت پسند ہندو ووٹوں کو متحد کرلیا جائے ۔پہلے رام مندر ،پھر کشمیر،پھر طلاق ثلاثہ اور اب یکساں سول کوڈ اس کے بعد اور بھی ایشو ہوں گے جو آئندہ کسی مناسب موقع پر اچھالے جائیں گے ۔مثلاً مسلمانوں کے مذہبی تعلیمی ادارے بند کیے جاسکتے ہیں ۔ان سے ووٹ دینے کا اختیار چھینا جاسکتا ہے ۔شہریت بل کی آڑ میں ان کو اپنے ہی ملک میں مہاجر بنایا جاسکتا ہے وغیرہ۔
یوں تو بھارت میںمسلم امت 1857سے ہی مختلف قسم کے مسائل سے نبرد آزما ہے ۔لیکن اس وقت اس کے سامنے جومسائل ہیں وہ بہت زیادہ ہیں ۔ایک طرف حکومت اور فرقہ پرست جماعتوں نے اس کی زندگی دو بھر کردی ہے دوسری طرف خود مسلم قیادت کی ایمان فروشی اور ملت فروشی میں بھی اضافہ ہوا ہے اور تیسری طرف اس کے اندر اس قدر اخلاقی زوال آگیا ہے کہ شاید تاریخ کے کسی دور میں بھی اتنا نہیں تھا ۔حکومت کے قوانین اور عوام مخالف پالیسیوں کا شکار اگرچہ ملک کی ساری عوام ہے لیکن مسلمان اپنی نادانی کی بنا پر کچھ زیادہ ہیں ۔سفر ہو یا حضر کہیں بھی کسی بھی الزام میں ماب لنچنگ کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں ۔عبادت گاہوں پر سوالات کھڑے کیے جاتے رہتے ہیں ۔یہاں تک کوئی شخص کسی بھی عوامی مقام پر اللہ کے سامنے سجدہ بھی نہیں کرسکتا ۔قوم کے رہنما ہر موقع پر مسلمانوں سے اس طرح امن و امان کی اپیلیں کرتے نظر آتے ہیں جیسے کہ مسلمان ہی بدامنی اور لاقانونیت کے ذمہ دار ہیں ۔ابھی حال ہی میں عید الاضحیٰ کے موقع پر سرکاری ہدایت تو تھی ہی کہ ممنوعہ جانوروں کی قربانی نہ ہو اور متعینہ مقامات کے علاوہ کہیں بھی نماز عید ادا نہ کی جائے ،میرا خیال ہے یہی کافی تھااس لیے کہ امن و قانون کے نفاذ کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے ،اس لیے وہ ہر موقع پر اس طرح کی ایڈوائزری جاری کرتی ہے ۔وہ صرف مسلم تیوہاروں پر ہی نہیں بلکہ ہندو تیوہاروں پر اس قسم کی ہدایات جاری کرتی ہے اور مقامی پولس اسٹیشنوں میں امن کمیٹی کی میٹنگ میں وہ ہدایات ذمہ داروں کے سامنے پڑھ کر سنادی جاتی ہیں ۔اس کے باوجود مسلمان مذہبی اور ملی رہنمائوں کی جانب سے بڑی شد و مد کے ساتھ اپیلیں بھی جاری ہوتی ہیں ۔جس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔مسلمان ہمیشہ سے ہی بحیثیت قوم امن پسند ہیں ۔وہ قانون پر عمل کرتے رہے ہیں ۔لاقانونیت کا مظاہرہ برادران وطن کی جانب سے کیا جاتا رہا ہے اور کیا جارہا ہے۔مسلم رہنمائوں کی اپیلیں قوم کو مجرم کے کٹہرے میں کھڑا کردیتی ہیں۔کبھی غیر مسلم رہنمائوں کی جانب سے اپیلیں جاری ہوتی نہیں دیکھی گئیں ۔خدارا آئندہ اس حرکت سے باز آئیے ۔محض اخبارات میں نام چھپوانے اور صاحب اقتدار کی خوش آمد کرنے کے لیے قوم کو مجرم مت بنائیے ۔
یکساں سول کوڈ کی جہاں تک بات ہے ۔اس وقت وہ محض ایک انتخابی حربہ ہے ۔بی جے پی نے اس ایشو کے ذریعہ تمام نام نہاد سیکولر پارٹیوں کو پس و پیش میں مبتلا کردیا ہے ۔اگر مخالفت کرتی ہیں تو حکومت انھیں آئین مخالف اور وطن مخالف قرار دیتی ہے ،حمایت کریں تو مسلمانوں کی ناراضی مول لیتی ہیں ۔بی ایس پی کی سپریمو بہن مایاوتی جی نے گول مول بیان دیا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ یکساں سول کوڈ نافذ ہونا چاہیے لیکن حکومت کا طریقہ غلط ہے ۔سب سے زیادہ مظلوم طبقہ اگر ملک میں کوئی رہا ہے تو وہ دلت ہے ۔یکساں سول کوڈ کا سب سے زیادہ فائدہ انھیں پہنچے گا ۔وہ سمجھتے ہیں کہ ان کو مذہبی معلاملات میں برہمنوں کی مساوی حقوق حاصل ہوں گے ۔(دل کے خوش کرنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے )پھر آئین کے معمار بابا صاحب بھیم رائو امبیڈ کر ہیں ،یو سی سی کی مخالفت کا مطلب بابا صاحب کی دانش مندی پر سوال اٹھانا ہے ۔عام آدمی پارٹی کے سربراہ نے بھی حمایت میں بیان دے کر گیند بی جے پی کے پالے میں ڈال دی ہے ۔وہ سمجھتے ہیں کہ دہلی میں مسلم ووٹ ان کی حکومت کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے ۔بی جے پی خیمہ اور سنگھ زدہ سیاسی جماعتوں کا موقف واضح ہے ۔کچھ پارٹیاں ہوا کا رخ دیکھ رہی ہیں۔
کیا یکساں سول کوڈ بھارت جیسے ملک میں ممکن ہے ؟یہ ایک بڑا سوال ہے ۔ظاہر ہے یکساں سول کوڈ کا تعلق عائلی قوانین ہے ۔ہمارے ملک میں ایک مذہب کے ماننے والوں کے درمیان بھی عائلی رسومات میں اختلافات ہیں۔یہاں تک کہ موجودہ ہندو میرج ایکٹ میں بھی یکسانیت نہیں ہے ۔بھارت میںہر سو کلومیٹر پر کلچر بدل جاتا ہے ۔مذاہب کی تعداد بھی اچھی خاصی ہے ۔ملک میں اس وقت آئی پی سی اور کرمنل لاء میں بھی اختلافات ہیں ۔کسی ریاست میں ایک جرم کی کوئی اور سزا ہے ،دوسری ریاست میں کچھ اور،کہیں گائے کا ذبیحہ ممنوع ہے اور کہیں نہیں ہے ۔کسی ریاست میں دوسری ریاست کے لوگ زمین کے مالک نہیں ہوسکتے ،کہیں ہوسکتے ہیں ۔کسی اسٹیٹ میں ہندی کو سرکاری زبان کا درجہ حاصل اور کسی اسٹیٹ میں غیر ہندی کو ۔پھر ایسے میں یکساں سول کوڈ کو کیسے ممکن بنایا جاسکتا ہے ؟کبھی ہم بھارت کی انیکتا میں ایکتا پر فخر کرتے تھے ۔آج اسی انیکتا کو ختم کرنے پر تلے ہیں۔
یکساں سول کوڈ کا تعلق رہنما اصولوں سے ہے ۔جس کا نفاذ کرنا یا نہ کرنا حکومت کی صواب دید پر منحصر ہے ۔حکومت کو چاہئے کہ اگر وہ واقعی ملک کی اتحاد و یکجہتی کے لیے اس غیر ضروری اور ضرررساں عمل کو ضروری خیال کرتی ہے تو بجائے اس کے کہ یکساں سول کوڈ کا سوشہ چھوڑ کر ہنگامہ آرائی برپا کرے اسے یکساں سول کوڈ کا مسودہ عوام کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔ظاہر ہے یہ عمل ایک طویل مشق کا متقاضی ہے ۔اس میں تدریج کا راستا اپنایا جانا چاہئے ۔سب سے پہلے کرمنل لاء ،آئی پی سی اور سول کوڈ کے وہ قوانین جو کسی مذہبی پرسنل لا ء کا حصہ نہیں ہیں ان میں اصلاح کی جانی چاہئے ،ان کی یکسانیت پر کسی کو مذہب میں دخل اندازی کا کوئی خطرہ نہیں رہے گا ۔اس کے بعد ہر مذہب کے پرسنل لاء میں موجود ناہمواریوں کو دور کیا جانا چاہئے ،مثال کے طور اسلام کو ماننے والوں کا ایک ہی پرسنل لاء ہو ،اس میں مسلک کی بنیاد پر تفریق نہ ہو ،ہندوئوں کا پرسنل لاء سب کے لیے ایک جیسا ہو،اس میں علاقہ و ذات کی بنیاد پر فرق نہ ہو،باقی مذاہب کے لیے بھی ایسا ہی ہو۔یعنی حکومت سب سے پہلے ان قوانین میں یکسانیت پیدا کرے جن کا تعلق مذہبی پرسنل لاء سے نہیں ہے ،اس کے بعد ایک مذہب کے ماننے والوں کے ان کا یکساں پرسنل لاء بنائے ،اس طرح کم سے کم دو مرحلے طے ہوجائیں گے ۔مجھے امید ہے کہ ان مرحلوں سے گزرنے میں ہی پسینے آجائیں گے۔
حکومت بتائے کہ شادیاں کس قانون کے تحت انجام دی جائیں گی ۔کیا تمام لوگ سرکاری دفاتر میں مجسٹریٹ کے سامنے ایجاب و قبول کریں گے یا کوئی اگریمنٹ سائن کریں یا ورمالا پہنائیں گے ۔ایک سے زائد شادیوں پر اگر پابندی لگے گی تو لیو ان ریلشن شپ پر بھی قدغن لگایا جائے گایا نہیں،چائلڈ میرج ایکٹ کا کیا ہوگا ؟جو لوگ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوسری شادی ،یا بال وواہ کرتے ہیں تو کیا کرانے والوں کو صرف سزا دی جائے یا ان کی شادی غیر قانونی قرار پائے گی ،غیر قانونی قرار دیے جانے کی صورت میں ان کے بنیادی حقوق کاکیا ہوگا ؟اگر اس جوڑے سے اولاد ہوگئی تو اس اولاد کا کیا ہوگا ؟ حکومت کو یہ بھی بتانا چاہئے کہ جو خواتین یا مرد کسی وجہ سے بن بیاہے رہ جائیں گے تو وہ ان کی شادی کا کیا نظم کرے گی ۔اگر دو سے زائد بچے ممنوع قرار دیے جائیں گے تو اس کا بھی حل بتانا چاہئے کہ جن جوڑوں کے اولاد نہیں ہوگی تو ان کے لیے اپنی نسل کو آگے بڑھانے کا کیا فارمولہ ہوگا ؟ یہ اور اس طرح کے سوالات اس وقت تک گردش کرتے رہیں گے جب تک کوئی واضح دستاویز سامنے نہیں آجاتی ۔
افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ مسلمان تنظیمیں آج تک اسلام کے عائلی قوانین خود مسلمانوں کو بھی نہیںسمجھا سکیں ۔کسی بھی شہر میں کوئی سینٹر ،کوئی ادارہ اس کے لیے نہیں بنا ۔لاکھوں مساجد میں ہر جمعہ کو امام صاحب عربی خطبہ کے علاوہ خوب تقریریں کرتے ہیں لیکن شاذو نادر ہی ان موضوعات پر کبھی بات کرتے ہیں۔ہزاروں مدارس سے ہر سال ہزاروں مفتیان دین فارغ ہوتے ہیں ،لیکن نہ جانے کہاں گم ہوجاتے ہیں ؟اگر کبھی منہ کھولتے بھی ہیں تو وہی قصے کہانیاں سناکر اور حوروں کی تفصیلات بتاکر تسکین حاصل کرلیتے ہیں۔
دراصل یکساں سول کوڈ کے ایشو کے پس پردہ زعفرانی تنظیمیں اسلام کو بدنام کرنا چاہتی ہیں ۔مسلمانوں کو اس موقع پر ہوش مندی سے کام لینا چاہئے ،مسلمان کوئی نرم چارہ نہیں ہیں کہ کوئی انھیں چبا جائے گا ،اس آسمان نے سیکڑوں بار ہمارا امتحان لیا ہے ،ہم کربلااور سقوط خلافت کے بعد بھی زندہ ہیں اور ان شاء اللہ زندہ رہیں گے ،ہم ان ممالک میں نہ صرف شان سے جی رہے ہیں،بلکہ پھل پھول رہے ہیں جہاں یکساں سول کوڈ موجود ہے ۔بغیر مسودہ دیکھے کسی طرح کی بیان بازی سے گریز کرنا چاہئے ،پہلے سے ہی یہ کہنا کہ ہم یونیفارم سول کوڈ نہیں مانیں گے،حکومت کی راہ کو آسان بنانا ہے ۔ میری رائے ہے کہ اس موضوع پر حکومت کو اپنا کام کرنے دینا چاہئے ،اس کو موضوع بحث بنا کر ووٹوں کو پولرائز ہونے کا موقع نہیں دینا چاہئے ۔البتہ یہ ایک اچھا موقع ہے جب مسلم پرسنل لاء بورڈ ایک ایک ایشو پر اسلام کی تعلیمات کی حکمت دنیا کے سامنے پیش کرسکتا ہے ۔کیا ہی اچھا ہو کہ یکساں سول کوڈ کی مخالفت میں وقت برباد کرنے کے بجائے کچھ تحقیقاتی ادارے ان موضوعات پر ملک کی مختلف زبانوں میں دلائل کے ساتھ فولڈرس ،کتابچے اور کتب شائع کریں ۔لیکن معاف کیجیے گا ہماری دینی و ملی تنظیمیں سنجیدہ اور دور رس نتائج کے حامل منصوبوں پر کم ہی توجہ دیتی ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے