سہارنپور(احمد رضا): ضلع بھر میں آج بھی سیلاب جیسے حالات بنے ہوئے ہیں ہزاروں افراد بے گھر بار ہوکر نیلے آسمان کے زیر سایہ زندگی گزار نے کو مجبور ہیں ضلع انتظامیہ کانوڈ لانے لیجانے والوں پر پھولوں کی بارش کر رہے ہیں انکے لئے بہتر سے بہتر سہولیات اور کھانے پینے کا بندوبست کیا جا رہا ہے مگر اصلی مالک کی بھیجی ہوئی اصلی بارش سے متاثرہ لاکھوں افراد کے کھا نے پینے اور رہنے کی کسی کو بھی رتی بھر پرواہ پچھلے پانچ دنوں سے کہیں بھی ہمکو دیکھنے یا سننے کو نہی ملی پانی گھروں اور تجارتی مراکز میں گھس جانے کے باعث لاکھوں افراد کے کام دھندے بند گھر کا سازو سامان خرد برد ہو چکا ہے اور روٹی کے لئے لاکھوں افراد آسمان والے سے رجوع کئے ہیں زمین والے کسی قابل بھی نہیں پھر بھی اللہ تعالٰی معاف کر ے یہ زمین والے خود کو خدا سمجھ کر تکبر کے نشہ میں شراب ہوکر لاکھوں مصیبت زدہ افراد کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ ملک میں کچھ سالوں سے انسانیت کا جنازہ نکال دیا گیا، اپنے مقصد کے لئے ایک خاص طبقہ کی خوشامد کی جا رہی ہے، عام شہریوں کی طرف کسی کی نظر ہی نہیں اٹھ رہی ہے، پانچ دنوں سے لاکھوں افراد کو پیٹ بھرنے کے لئے ایک وقت کا کھانا بھی ملنا مشکل ہے، وہیں ضلع بھر کی سرحدوں سے کانوڈ یاترا کو بہ خیر نکالنے کے لئے دولت اور لذیذ پکوان کی سرکاری مشینری کی جانب سے نمائش لگی ہوئی ہے۔ اپنے اعلیٰ حکمرانوں کو خوش رکھنے کے لئے وہ سب کچھ کیا جا رہا ہے جس سہولت کی بابت عام انسان سو چ بھی نہیں سکتا!

سرساوہ ،گنگوہ ،شہر سہارنپور کے نچلے حصے میں مقیم افراد بے حد تنگی سے گھر ے ہو ئے ہیں کوئی خیر خبر لینے والا دور دور تک نظر ہی نہیں آرہا ہے نصیر کالونی, حبیب گڑھ ،آزاد کالونی ،کمیلا کا لونی،ایکتا کا لونی اور یمنا سے ملے ہوئے سیکڑوں دیہات کے علاقہ شھر سے مکمل طور سے کٹے ہوئے ہیں مگر کسی افسر یا لیڈر کے پاس ان مصیبت زدہ کو کچھ راحت بخش نیکے لئے اللہ نے توفیق نہیں دی مگر اللہ تعالیٰ بہت بڑے ہیں وہ اپنی مخلوق کو خود روٹی روزی پہنچانے میں قادر اور حاکم ہے مگر اس سرکار کے افسران اور لیڈران نے جو کارکردگی دکھائی اس کو باہوش عوام کبھی معاف نہیں کر سکیں گے!

ڈھمولا ندی کے کنارے بسے ہزاروں افراد اور پاؤں دھوئی ندی کے قرب و جوار میں مقیم لاکھوں افراد کی حالت بھی بہت اطمینان بخش نہیں کہی جا سکتی۔ یہ دونوں علاقہ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر علاقہ ہیں یہاں کے بچا س ہزار سے زائد افراد بھی پچھلے پانچ دنوں سے سخت ترین حالات سے گزر رہے ہیں کوئی راحت بخش کار کردگی ضلع انتظامیہ کی جانب سے ان کے لئے آج تک بھی انجام نہیں دی گئی۔ کل ملاکر اس برسات کے سبب ضلع میں جہاں کروڑوں کا نقصان تاجروں اور عوام کو پہنچا ہے وہیں تین جانے بھی ان حالات میں تلف ہو چکی ہیں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے