محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک۔ 

۱۔ عبرت اور عزت
زندگی کیاتھی ، تاخیر کاعبرت ناک نمونہ تھی۔ کوئی چیز وقت پر میسر نہیں تھی۔ وقت نے کبھی ساتھ نہ دینے کی جیسے قسم کھائی ہو۔ اس لئے جھلاہٹ کے سوازندگی میں اور کچھ نہیں بچا تھا۔
پھروہ وقت بھی آیاکہ ہر جانب بہاریں ہی بہاریں تھیں۔موسم نے جیسے مردہ رگوں اور مردہ خیالات میں زندگی دوڑا دی ہو۔ پتہ ہی نہیں چلتاتھاکہ کبھی زندگی عبرت کے راستوں سے ہوکرگزری ہو۔بہرحال جس کو عبرت یاد رہی وہ کامیاب ہوگیااور جس کو موجودہ عزت اور شہرت یاد رہی وہ آخرکار ناکام ہوکر رہا۔

۲۔ چالاک مرد
دنیا کی کرسی پر براجمان ہونے کی ہوڑ سی لگی ہوئی تھی۔ چالاک مردوں نے جب دیکھاکہ یہ کرسی مخصوص افراد تک محدود ہوکر رہ جائے گی تو پھر انھوںنے خواتین کوکرسی کالالچ دے کراس ہوڑ میں لاکر چھوڑ دیااور انہیں اپنے پشت پناہ ہونے کاقوی احساس بھی دلایا۔ دنیا کی اس کانٹے دار کرسیوں کے حصول کیلئے غافل خواتین دوڑ پڑیں اور آخرکاروہ اُن کرسیوں پر بیٹھ گئیں۔ چالاک مرد وں سے ہنسی ضبط نہیں ہورہی تھی۔ جہاں دیدہ بزرگ ’’لاحول ‘‘ پڑھتے دیکھے گئے۔نئی نسل انٹرنیٹ پر مشغول تھی۔ انھیں دنیا اورآخرت سے کچھ لینادینانہیں تھا۔

۳۔ کم قیمت ٹماٹر
گلیوں میں پھرپھر کر وہ ترکاری فروخت کرتاتھامگرکوئی اس سے سیدھے منہ بات تک نہیں کرتاتھا۔ کم سے کم قیمت پراس سے ترکاری خریدی جاتی تھی۔ ویسے اس کواحساس تھاکہ یہ لوگ مجھے چھوٹا آدمی سمجھتے ہیں لیکن اس کو کوئی غلط قدم نہیں اٹھاناتھااور چھوٹا بن کر ہی ان کے درمیان ترکاری فروخت کرنی تھی۔
پھر ایک دن ایسابھی آیاکہ گردن اکڑا اکٹر اکروہ ٹماٹر فروخت کرنے لگا۔ملک بھر کے بازار میں ٹماٹروں کی قلت ہوچکی تھی اور وہ صرف اور صرف ٹماٹر لئے اپنی متعلقہ گلیوں میںفروخت کرنے کیلئے گھومتاجا رہاتھا۔سبھی حیرت زدہ تھے کہ اتنے مہنگے ٹماٹر اس کو کہاں سے مل گئے ؟اور بازار سے 50روپئے کم میں ٹماٹر فروخت کی وجہ کیاہے؟
جاننے والے دوچار لوگوں ہی کو پتہ تھاکہ وہ ایک بڑا دل رکھتاتھا۔ مہنگائی کے اس دور میں اپنے کھیت کے ٹماٹر وہ کم رقم میں اسلئے فروخت کررہاتھاکہ پچھلے ایک ماہ قبل ہی ٹماٹر کی زیادہ پیداوار کے سبب وہ کئی ٹن ٹماٹراپنے ہی کھیت میں ضائع کرچکاتھا۔اب اللہ نے موقع دیاتو وہ اس موقع سے فائدہ اٹھانے کو غلط سمجھ کر بازار سے 50روپئے کم میں ٹماٹر فروخت کررہاہے۔گردن اکڑانے کی ایکٹنگ کے باوجود وہ دل ہی دل میں اللہ کاشکرگزار تھاکہ وہ کئی گھروں کے کام آرہاہے جو کم قیمت ٹماٹر اس کے پاس سے خرید رہے ہیں۔

۴۔نام کی گونج
بارش حد سے زیادہ ہورہی تھی۔ندی کے پلوں کے اوپر سے بارش کا پانی بہہ رہاتھا۔شہری علاقوں میں پانی البتہ گھروں میں گھس آیاتھا۔ اورزندگی جیسے تھم کر رہ گئی تھی۔اور دل کی دنیا میں صرف اور صرف اللہ کا نام گونج رہاتھا’’رہے نام اللہ کا‘‘

۵۔ شیطانی مسکراہٹ
دیندارعورتیں خوش تھیں کہ انہیں ترقی کے مواقع مل رہے ہیں اور وہ دعوتی کام کے لئے گھر وں سے نکل رہی ہیںمگر جس وقت ایک بھولی بھالی خاتون نے اپنے شوہر سے لڑبھڑ کر دعوتی کام کے لئے گھر سے باہر نکلی تو اسی گھر کے سامنے کھڑا شیطان اپنی کامیابی پر مسکرارہاتھا۔جس کو اُس کے شوہر نے تو دیکھ لیا تھا لیکن وہ بھولی بھالی خاتون اُس شیطانی مسکراہٹ کو دیکھ نہ سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے