ابو احمد مہراجگنج 

جیسے جیسے 2024 کا لوک سبھا الیکشن نزدیک آرہا ہے، اسی قدر سیاسی بساط تیزی سے بچھنا شروع ہوچکا ہے۔حالیہ دنوں میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد نے اپنے الائنس کا نام”انڈیا”رکھا تو حکمران جماعت نے اپنے اتحادیوں سمیت خود کو بھارت گھوست کردیا ۔اب اس انڈیا اور بھارت کے درمیان پھنسے ہیں جمن میاں ۔

پہلے بات کرلیتے ہیں "انڈیا” کی، اس کا فل فارم ہے Indian National Developmental Inclusive Alliance جس میں کل 26 پارٹیاں ہیں ۔جن میں سے کچھ کے نام انڈین نیشنل کانگریس ، سماجوادی پارٹی ۔ عام آدمی پارٹی، جے ۔ڈی۔یو۔، ترنمول کانگریس، آرجے ڈی، انڈین نیشنل کانفرنس جیسی پارٹیاں ہیں۔

تو وہیں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی معاون پارٹیوں کے الائنس NDA نے خود کو بھارت کا ٹائٹل دیا ہے ۔

اس اتحاد میں چالیس سے زائد پارٹیاں شامل ہیں ۔کچھ پارٹیوں کے نام اس طرح سے ہیں ۔ بی۔جےپی، شیو سینا ، این سی پی ، راشٹریہ لوک جن شکتی پارٹی ،نیشنل پیوپلس پارٹی وغیرہ ۔

اس مختصر سی تفصیل سے آپ کو معلوم ہوگیا ہوگا کہ "انڈیا” اور "بھارت” جیسے الائنس نے ۔ مسلم قیادت والی دو بڑی پارٹیوں یو نائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف ) اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم ) کو اپنے اتحاد میں شامل نہیں کیا ہے.

رہی بات بی جے پی کی تو اس کے سیاست کا دار ومدار ہی مسلمانوں کی مخالفت اور ان کو دوئم درجے کا شہری بنانے کے وعدوں پر منحصر ہے ۔

بھارت کے مسلمانوں کو جمن بناکر ان سے دری بچھوانے کا کام ، دلتوں سے بھی پسماندہ بناکر ان سے ہمدردی کا سوانگ سیکولرازم کی علمبردار پارٹیوں نے بہت سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا ہے ۔ ان کو جمن کا ووٹ تو چاہیے ، لیکن جمن میں سے کوئی نیتا بن کر اپنا حق مانگنے والا انھیں قبول نہیں ہے۔

آزاد غلام تو چاہیے لیکن غلام آزاد ہوجاۓ یہ انھیں ہرگز قبول نہیں ہے۔

آپ سوچیں گے تو آپ کو حیرت بھی ہوگی اور برہمن وادی پارٹیوں کے زہرآلود فکر کی عکاسی بھی نظر آۓ گی ،جے ڈی یو جس نے اپنا اکثر وقت بی جے پی کے گود میں بتایا ہے اسے تو انڈیا نامی اتحاد میں شامل کرلیا گیا ہے ۔عام آدمی پارٹی جس کا مقصد ہی کانگریس کے وجود کا خاتمہ ہے اس کو بھی اس اتحاد میں جگہ مل گئی ہے اگر اس اتحاد میں نمائندگی نہیں ملی ہے تو وہ ہے جمن میاں کی پارٹی ۔آپ سوچ کر تو دیکھیے کہ اگر بالفرض”انڈیا” اتحاد کو واضح اکثریت حاصل نہ ہوتو اس کی کیا گارنٹی ہے کہ نتیش کمار این ڈی اے میں واپس نہیں جائیں گے ۔ممتا بنرجی بی چے پی کے ساتھ سرکار نہیں بنائے گی۔ یا عام آدمی پارٹی عین حکومت سازی کے وقت اپنے کو الائنس سے الگ کرکے کانگریس کی پوتی بی جے پی کے لئے راہ ہموار نہیں کرے گی ۔

دیکھنے میں رنگ اس کا ظاہرا پیلا نہ تھا

اس کا مطلب یہ نہیں اندر سے زہریلا نہ تھا

ہاں مولانا اجمل اور اویسی کبھی بھی بی جے پی کے ساتھ نہیں جاسکتے اس کی گارنٹی دی جاسکتی ہے ۔

اس "انڈیا” نامی اتحاد سے مسلمان لیڈروں کو کچھ بھی ملنے والا نہیں ہے ۔ملے گی دری بچھانے، کرسی سجا نے اور پنکچر لگانے کی ذمہ داری۔

اے کاش کہ ہم مسلمان اپنے لوگوں پر بھروسہ جتاتے اور اپنے پیرو پر چلنا سیکھتے ۔ گرتے ۔ سنبھلتے ۔ اٹھتے اور پھر گر کر اپنے پیروں سے چلنا سیکھ لیتے۔

کبھی گرتے تو کبھی گر کے سنبھلتے رہتے

ابیٹھے رہنے سے تو بہتر تھا کہ چلتے رہتے

چل کے تم غیر کے قدموں سے کہیں کے نہ رہے

اپنے پیروں سے اگر چلتے تو چلتے رہتے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے