✍️زینب زاہد 

کلکتہ یونیورسٹی 

دور حاضر کے تمام مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ منشیات کا استعمال ہے۔ روۓ زمین کا شاید ہی کوئی ایک خطہ اس مسئلہ سے دو چار نہ ہوگا۔ منشیات کا فروغ حیات و کائنات کیلیے تشویشناک امر ہے۔ نوجوان نسل کا 80 فیصد حصہ اس لعنت میں گرفتار ہے۔

منشیات استعمال کرنے والوں میں نسل اور مذہب کا کوئی امتیاز باقی نہیں رہ گیا ہے۔

پہلے لوگ اس کا، استعمال بہت محتاط ہو کر کیا کرتے تھے مگر اب اس کا استعمال عوام و خواص سب کے لیے ہوگیا ہے۔ منشیات کے زد میں دور جدید میں سب سے زیادہ شمار ان لوگوں کا ہے جو اسکول اور کالج میں زیر تعلیم ہیں۔ جن طلباء و طالبات کو اپنے روشن مستقبل کیلیے منہمک ہونا چاہیے اس کے برعکس وہ بڑے انہماک سے والدین کے نظر سے بچ کر اسکا استعمال کر رہے ہیں۔

منشیات ایک جان لیوا نشہ ہے ۔ نشہ آور چیزوں میں ہیروئن , LSD, براؤن شوگر وغیرہ دیگر ڈرگس شامل ہیں۔ جو انسانی زندگی کو موت کے قطار میں لانے کیلئے کافی ہے۔

منشیات کاعادی ہونا دراصل اپنی زندگی کو برباد کرنے اور موت کے قریب تر ہونے کے لیے کافی ہے۔ تمام عالم انسان اس تلخ حقیقت سے واقف ہے تاہم آج تک وہ لوگ خود اس قفس پا کو توڑ نہیں سکے۔

اس میں مبتلا شخص کی مدافعتی اعصابی اور قوت ارادی ختم ہو رہی ہے۔ وہ لوگ آہستہ آہستہ مختلف طرح کے مرض۔ Lung or Heart disease, stroke, Mental health condition and cancer وغیرہ کے زد میں آگۓ ہیں۔

ان تمام مرائض سے باخبر ہونے کے باوجود اس لعنت سے خود کو ازاد کیوں نہیں کر رہے ہیں ۔ منشیات کا عادی ہوناپروانہ موت پر دستخط کرنے کے مماثل ہے۔

منشیات میں مبتلا شخص دراصل ذہنی انتشار سے نبردآزما ہیں با الفاظ دیگر اس کے زیادہ تر اسباب کا دارومدار نفس پر ہے کیونکہ نفسیات تمام علوم و فنون کی ماں ہے۔ بالافاظ دیگر انسان کے تمام حرکات و سکنات میں نفس ایک اہم رول ادا کرتی ہے۔

جو لوگ اب اپنی تمام خواہشات سے محروم ہوگئے انھوں منشیات کی آغوش میں پناہ حاصل کرنے کو راہ نجات سمجھ لیا اور اس کے مسلسل استعمال سے اپنی تکلیفوں کا ازالہ کرنے لگے۔ جس کے تمام اسباب نفسیاتی تھے محبت میں ناکامی، اپنے مستقبل کو روشن کرنے کا خواب، عدم تحفظ، تمام تر کوششوں کے باوجود بیروزگاری جو کہ عہد حاضر کے نوجوانوں کا اہم مسئلہ۔ روزگار کے سبب ہی وہ نجی اور سماجی زندگی میں ایک مثالی انسان بن سکتا ہے۔ ان نا آسودہ غم کی وجہ سے عہ لوگ منشیات کے غلام بنتے جا رہے ہیں۔

اسکول میں بھی اب اس کا استعمال زور وشور سے ہورہا ہے ایک نئ چیز اور اس سے نا واقف ہونے کی وجہ سے اس کا، رجحان عام ہوگیاہے اور اس رجحان نے انکو تمام تر سماجی سرگرمیوں سے محروم کردیا ہے ان کی اس محرومی نے ان کے اندر سے خوداعتمادی کو ختم کر دیا ہے۔ خوداعتمادی ہر کس وناکس کیلے اہمیت کی حامل ہے۔ ایسے نوجوان نسل کو ضرورت ہے تو صرف ایسے لوگوں کی جو ان کی ذہنی آبیاری کرسکے ان کے پوشیدہ صلاحیت کو منظر عام پر لاۓاور ان کو یہ احساس دلاۓکہ ان کی بھی بے حد ضرورت ہے سماج کو۔

منشیات سے فورا نجات مشکل ضرور ہے مگر ناممکن تو نہیں اگر تمام لوگ ایک پلیٹ فارم پر آکر مستقل حوصلہ افزائی کرے اور ان کو مختلف طرح کے کاموں میں ا مدد لے اور ان کو اس کا احساس دلانے کی کوشش کرے کہ تمام لوگوں کی طرح ان کا بھی ایک خاص مقام ہے تو ان کو، اس تکلیف سے نجات حاصل کرنے میں آسانی ہوگی اور وہ بہت جلد اس عادت کو ترک کرسکیں گے

 

قومی و بین الاقوامی سطح پر مختلف طرح کے سینٹر قائم کیے گےء ہیں۔ ہمارے ملک میں Anti Narcotic Bureau اس پر روک لگانے کا کام کر رہی ہے۔ اسکے علاوہ Excise Departmentاس کی تجارت کو بند کرنے کی کوشش کر ہی ہے۔

لیکن اس کے باوجود اس پر مکمل طور پر کامیابی نہیں مل رہی ہے اور یہ بات حیرت انگیز ہے کہ مختلف علاقوں میں طور اس پر موت کا پروانہ جاری کر دیا جاتا ہے مگر تمام طرح سے اس رجحان کو روکنے کے لیے کوشش کر رہے ہیں مگر اس کے تئیں ایک اہم قدم اٹھانے سے اب بھی قاصر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے