تحریر: محمد مقصود عالم قادری اتر دیناجپور مغربی، بنگال
نواسئہ رسول ,جگر گوشہ بتول سلطان کربلا، حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی ولادت باسعادت 5 شعبان المعظم 4 ھ مدینہ منورہ میں ہوئ۔
آپ رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی ایک عالمی اور آفاقی ذات ہے,جس کسی نے بھی جس جہت کے اعتبار سے آپ رضی اللہ عنہ کی حیات مبارکہ کا مطالعہ کیا باکمال اور بے مثال پایا, آپ رضی اللہ عنہ کا خاندان عظمتوں شرافت کا گنجینہ ہے ,آپ کے فضائل ومناقب خود زبان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے وارد ہوئے ہیں ,جیسا کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا:” جس نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا”(سیرت امام حسین ص۱۷)
اور ایک جگہ فرمایا”کہ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے (خطبات محرم)
حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اہل بیت میں سب سے زیادہ حسنین کریمین سے محبت کرتے تھے ,آپ کی تعظیم و تکریم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے معزز اور جلیل القدر صحابی بھی کرتے تھے,آپ رضی اللہ تعالی عنہ اپنے نانا جان صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے حسن و جمال کا روشن آئینہ تھے , آپ رضی اللہ عنہ کی مبارک زندگی تمام مسلمانوں کے ایک عظیم رہنما ہے,کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ کا ہر ہر ادا سنت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تھا,آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے نانا جان صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و اطوار اور سنت کو اپنا حرز جاں بنا لیا تھا,یعنی آپ رضی اللہ تعالی عنہ ذات رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی چلتی پھرتی ایک تصویر تھی,
معدوم نہ تھا سایہ شاہ ثقلین
اس نور کی جلوہ گاہ تھی ذات حسنین
(اعلی حضرت رحمتہ اللہ علیہ)
اگر ایک مسلمان امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی سیرت اور ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو جائے تو دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل ہوگی,آج ہمارے مسلمان بھائ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے نام پر دل کھول کر نیاز سبیل اور لنگر کا اہتمام کرتے ہیں ,اور محرم میں تو ان کی محبت عروج پر ہوتی ہے ,لیکن صدافسوس! کہ آج کے مسلمان امام عالی مقام رضی اللہ تعالی عنہ کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے ,ہماری قوم کے خطباء حضرات بھی صرف امام حسین کے فضائل و مناقب اور داستان کربلا تک ہی اپنی تقریر کو محدود رکھتے ہیں,ان کو چاہئے کہ قوم کو امام حسین کی تعلیمات اور ان کے افکار و نظریات سے آشنا کرے کیونکہ اس پرفتن دور میں جہاں شریعت کے قوانین کو پامال کیا جارہا ہے, مسلمانوں کو ستایا جاتا ہے,اور طرح طرح کے فتنے جنم لے رہے ہیں, امام حسین کے افکار و نظریات اور ان کی تعلیمات کو عام کرنے کی سخت حاجت ہے, زہے نصیب کے مقررین حضرات اس پر عمل کریں , ذیل میں امام حسین رضی اللہ عنہ کےچند افکار و نظریات کو سپرد قرطاس کیا جاتا ہے ملاحظہ فرمائیے۔
امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا:” کہ زیادہ سخی وہ شخص ہے جو اس شخص پر سخاوت کرے جس سے اس کی امید نہ ہو, اور زیادہ پاکدامن بہادر وہ ہے جو قادر ہونے کے باوجود معاف کردے, زیادہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے جو ٹوٹے ہوئے رشتے داروں کو ملائے,جو شخص اپنے بھائی پر احسان کر کے اللہ تعالی کی رضا چاہتا ہےاللہ تعالی مشکل وقت میں اس کا بدلہ دیتا ہے اور اس سے سخت مصیبت ٹال دیتا ہے,جس شخص نے اپنے بھائ سے دنیوی مصیبت دور کی اللہ تعالی اس سے اخروی مصیبت دور کر دیتا ہے۔ -(نورالابصار فی مناقب آل بیت النبی المختار مترجم ص ٤٠ /٤۱)
محترم قارئین! کس قدر سبق آموز اقوال ہیں, اے کاش!کہ ہمیں ان اقوال پر عمل کرنے کی توفیق ہو-
کربلا کا پیغام :
امام حسین رضی اللہ نے اپنی مختصر سی زندگی میں ایسے کارہائے نمایا انجام دیئے جس کہ مثال نہیں,ان میں سے ایک عظیم کارنامہ میدان کربلا ہے,مسلمان صرف داستان کربلا کو سن کر غم اور افسوس کرتے ہیں لیکن کربلا سے جو سبق ملا اس کو حاصل نہیں کرتے,امام حسین رضی اللہ عنہ نے کربلا سے جو امت کو فکر دیا اس کو حاصل کرنا بہت ضروری ہے,امام حسین رضی اللہ عنہ میدان کربلا سے یہ فکر دیا-
(1) دین اسلام اور شریعت پر جب بھی کوئی حملہ کرے تو ہاتھوں میں چوڑیاں پہن کر نہ بیٹھنا بلکہ دین کے نام پر چل پڑنا اور دین کی سربلندی کے لئے ہر جائز کوشش کرنا۔
(2) جب دین کی حفاظت کے لیے اپنے گھر والوں, دوست و احباب بلکہ اپنی جان کو بھی راہ خدا میں قربان کرنا پڑے تو الٹے قدم نہ آنا ،کیونکہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے تو اپنے چھ ماہ بچے حضرت علی اصغر رضی الہہ عنہ کو بھی راہ خدا میں پیش کر دیا ۔
(3) اگر اس مختصر سی دنیا میں اپنے اوپر ہزاروں مصائب و آلام اور تکالیف آ پڑے تب بھی احکام شریعت کو ترک نہ کرنا بلکہ ان پر عمل کر کے خدا کا شکر بجالانا، امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس مشکل گھڑی میں بھی نماز تو نماز جماعت کو بھی بلکہ سنن و مستحبات کو بھی ترک نہ کیا,بلکہ آخری وقت میں جب کہ آپ کا جسم اطہر خون سے تر بتر تھا اس وقت بھی آپ نے اپنے رب کے حضور سجدہ کیا،اور آج وہ لوگ جو امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے محبت کا دعویٰ کرتے اور ان کا نعرہ لگاتے ہیں ہفتہ مہینہ بلکہ سال گزر جاتا ہے اللہ کے حضور سجدہ کرنے کی توفیو نہیں ہوتی،اللہ ایسے مسلمانوں کو عقل سلیم عطا فرمائے ،آمین۔
(4) جب بھی شریعت مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ ہو تو یہ کہہ کر احساس کمتری کا شکار مت ہونا کہ ہماری تعداد مٹھی بھر ہے ہم کیا کر سکتے ہیں ؟بلکہ اللہ تعالی کی ذات پر مکمل بھروسہ رکھنا،کیونکہ میدان کربلا میں جہاں دشمنوں کی تعداد ہزاروں کی تھی وہیں حسینیوں کی تعداد صرف بہتر تھی ،یہ حضرات دشمنوں کی بھاری تعداد کو دیکھ کر رمق برابر بھی پیچھے نہ ہٹیں اور نہ خوفزدہ ہوئیں بلکہ اللہ تعالی کی ذات پر مکمل یقین کر کے آخری سانس تک لڑیں،اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے ،”بارہا چھوٹی جماعتیں غالب آئ ہیں بڑی جماعتوں پر اللہ کے اذن سے” (سورة البقرہ الآیت 249)
(5) یہ سب سے اہم درس ہے کہ کبھی بھی اقتدار، مال ودولت اور شہرت کے لیے اپنے ایمان کو مت بیچنا، جب یزید پلید نے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اقتدار، مال و دولت اور شہرت کی لالچ دینے کی کوشش کرتے ہوۓ کہا تھا کہ اپنا ہاتھ ہمارے ہاتھ میں دے دو تو آپ نے کہا تھا کہ حسین سر تو دے سکتا ہے لیکن اپنا ہاتھ کبھی نہیں دے سکتا،
سر داد، نداد دست درِ دست یزید
حقا کہ بنائے لا الہ است حسین۔
یہی وجہ ہے کہ آپ نے جب دنیاوی بادشاہت کو ٹھوکر ماری تو اللہ تعالی نے آپ کو ایسی دائمی بادشاہت عطا کردی کہ قیامت تک ہر مسلمان یہی کہے گا۔
شاہ است حسین، بادشاہ است حسین
دیں است حسین، دیں پناہ است حسین۔
