محمد یوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک۔

جاگتی اورترقی کرتی ہوئی اقوام زندگی کے مختلف پہلوؤں پر نظر رکھتی ہیں اور ان میں موجود کمیوں اورکوتاہیوں کودورکرنے میں کوئی دقیقہ اٹھانہیں رکھتیں۔ جواقوام ترقی یافتہ تھیں (اورہیں) ان میں انگریزوں کانام سرفہرست ہے۔ انگلینڈ (برطانیہ )سے تعلق رکھنے والے انگریزوں نے ایک زمانہ قبل بی بی سی لندن ریڈیو شروع کیاتھا۔ جس کے نمائندے دنیاکے تقریباً تمام مقامات سے اہم اہم واقعات کولندن روانہ کرتے اور ان تازہ ترین واقعات کو نشریاتی ادارہ’’ بی بی سی لندن‘‘ سلیقہ سے نشر کرتے ہوئے دنیاکو یہ بتانے کی کوشش کرتاکہ دنیا دیکھ لے ہماری خدمات ، ہم اپنے پاس آئینہ رکھتے ہیں جن میں دنیاکے واقعات کی من وعن تصویر پیش کی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہواکہ دنیا اس نشریاتی ادارے سے مرعوب ہوتی چلی گئی ۔ اس کی خدمات کوسراہا اور اس کی نشریات کو مستند ماناگیا۔ یہی حال پرنٹ میڈیا سے متعلق بھی ہے۔انٹرنیٹ اور سوشیل میڈیا کے اس دور میں آج بھی دنیا بھر میں پرنٹ میڈیا(اخبارات ورسائل) کی اپنی اہمیت ہے بلکہ سوشیل میڈیاپر ہر قسم کی الٹی سیدھی خبروں اور اطلاعات کی بھرمارکے دوران لوگ باگ پرنٹ میڈیاسے دوبارہ رجوع کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ایک بڑا طبقہ پرنٹ میڈیا میں خبر کی اشاعت ہی کو مستند تصورکرتاہے ۔ ان کے نزدیک سوشیل میڈیا سوائے منفی پروپگنڈا کے اور کسی کام کانہیں رہ گیاہے۔
یہ تمہید اسلئے باندھی گئی ہے کہ آج ایک ایسی شخصیت کے بارے میں آپ سے گفتگو کرنی ہے جنہوں نے اپنی ایمانداری ، قناعت پسندی ، صبر وتحمل ، آزادانہ نقطہء نظر ، باخبری ، اور اپنی زندگی کے پورے عمل کے ذریعہ ثابت کردیاکہ اردوصحافت کو ثمر آور رکھنے کے لئے بے لوث رہ کر پوری زندگی لگادینی پڑتی ہے۔جو لوگ قربانیاں دینا جانتے ہیں ، ان ہی کانام دنیا اور آخرت میں زندہ وپائندہ رہتاہے۔ آج اردو بولنے لکھنے پڑھنے والی آبادی ، اردو تقاریر کے ذریعہ اپناکاروبار چلانے والے چھوٹے بڑے افراد اورپریس نوٹ دے دے کراپنے اداروں کو موٹاتازہ رکھنے والے ترقی یافتہ ادارے اردو صحافت کو درخور اعتنا نہیں سمجھتے،اس المیہ پر افسوس ہی کیاجاسکتاہے اور کچھ نوجوان صحافی اردو صحافت کی طرف متوجہ بھی ہوتے ہیں تو ان کی سہل پسندی اس پیشہ کیلئے سودمند نہیں ہوتی ۔

جنوبی ہندوستان کاشہر اُردو’محمد آباد بیدرشریف‘ بہمنی سلاطین کا کبھی پایہ تخت رہااور اسی دورسے اردو زبان وادب کا بھی گہوارہ رہاہے۔ یہاں کی اردو صحافت کی تاریخ تقریباًایک صدی اور ایک دہائی پر مشتمل ہے۔بیدر جو کبھی حیدرآباد کی نظام حکومت کاحصہ بھی رہا ۔17؍ستمبر 1948؁ء کوسقوط حیدرآبادکے بعد ہندوستان میں آشامل ہوا۔ بیدرتاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے ایک بڑا ضلع ہونے کے سبب اس کے کئی ٹکڑے کردئے گئے اوراس کوکرناٹک ، مہاراشٹراور آندھرا(موجودہ حصہ تلنگانہ) میں بانٹ دیاگیا۔ ریاست کرناٹک میں جو حصہ چلاآیااس کانام بیدر ہی رہا۔
اسی بیدر میں کرناٹک میں برسراقتدار آنے والی کئی حکومتوں نے کنڑی زبان کے اثر کودھیرے دھیرے ضلع میں بڑھانا شروع کیا۔ریاستی زبان کنڑاکی ترقی کے لئے زائد فنڈ جاری کیاگیا۔ آج 75سال کے باوجود بھی کنڑی زبان بیدر ضلع کی عوام میں اس درجہ میں رائج نہیں ہے جیساکہ حکومت چاہتی ہے یاکنڑاپریمی چاہتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ بیدر کاسرحدی ضلع ہونا بھی ہے۔ مہاراشٹر اور تلنگانہ کی سرحدیں یہاں ملتی ہیں اور اس ضلع میں کنڑا، اردو ، ہندی ، مراٹھی ، انگریزی،دکنی اور تیلگو زبانیں رائج ہیں۔موڑی زبان کاروبار کے لئے مختص ہے۔ لمباڑی ا ورقصائیوں کی زبانیں بھی ان کے اپنے حلقہ میں بولی جاتی ہیں جس کی کوئی لیپی نہیں ہے۔کبھی فارسی یہاں عام تھی لیکن اب یہ ایرانیوں تک محدود ہے۔ مارواڑی زبان بھی یہاں چلتی ہے۔شروع ہی سے سب سے زیادہ اثر بیدر ضلع میں مراٹھی اور اردو زبان کا رہاہے اور اب بھی الحمد للہ اردو کا اثر باقی ہے۔
اتنی ساری زبانوںکے درمیان اردو صحافت نے بیدر ضلع میں وہ معیار قائم کررکھاہے جس پر جتنا رشک کیاجائے کم ہے۔ اردو صحافت کو قایم ودائم رکھنے میں روزنامہ اور ہفت روزہ ’’گاوان ‘‘ ، ادبی عکاس اور سرخ زمین کاحصہ ہے لیکن ان تمام اردو اخبارات میں روزنامہ ’’حیدرآباد کرناٹک‘‘ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ روزنامہ ’’حیدرآبادکرناٹک‘‘ اپنی حیات کے 64سال مکمل کررہاہے۔ اور ان 64سال میں بانی مدیر اعلیٰ جناب ایم اے حمیدصاحب نے کبھی اپنے اخبار کے لئے پروپگنڈاسے کام نہیں لیا۔ سرکاری محکمہ جات میں اگر کوئی گھپلہ ہوااور اس خرد برد کے خلاف مہم چھیڑی تو اس کو پایہ تکمیل تک پہنچاکر دم لیا اور خاطیوں کوقرار واقعی سزا ملی۔ کارنجہ ڈیم میں ہونے والی ہیراپھیری کو جب انھوں نے اپنے روزنامہ ’’حیدرآبادکرناٹک‘‘ کے ذریعہ طشت ازبام کرنے کاآغاز کیاتو انہیں دھمکیاں بھی ملیں اور رقم کالالچ بھی دیاگیا۔ کہاجاتاہے کہ اس زمانے کے 2؍لاکھ روپئے نقدان کی میز پر رکھے گئے۔ تب مرحوم ایم اے حمید صاحب نے کہا’’یہ رقم اٹھائیں اورفوراً یہاں سے چلے جائیں ، ورنہ پولیس کے حوالے کردئے جائیں گے ‘‘ اسی ایماندار اورخود داروالد کے زیرسایہ رہ کر ایم اے صمد مرحوم نے صحافت کی عملی تربیت پائی تھی۔
والدبزرگوارہی کی طرح ایم اے صمد صاحب کے مزاج میں خاموشی کا غالب عنصر تھا۔گھنٹوں خاموش بیٹھ کرغور وفکر میں لگے رہتے۔ایک زمانہ تک انھوں نے اپنے والد اور بڑے بھائی مرحوم عبدالحئی کی رہنمائی میں روزنامہ ’’حیدرآبادکرناٹک‘‘کی طباعت اور کتابت پر بھرپور توجہ دی۔ یہاں تک کہ اخبار کو گاؤں تک پہنچانے کے لئے مختلف بسوں میں اخبار ڈالنے کافریضہ بھی انجام دیا۔ پھر اس کے بعد وہ دور بھی آیاجب ایم اے صمد صاحب محکمہ اطلاعات ونشریات سے کنڑی زبان میں آنے والی خبریں محکمہ کے دفتر سے روزنامہ’’ حیدرآبادکرناٹک ‘‘کے دفتر لاکراس کاترجمہ اردو میں خود کرنے لگے۔ یہ کام انھوں نے مرتے دم تک انجام دیا۔ انھوں نے کنڑی خبروں کا آخری ترجمہ 28؍جولائی 2023؁ء(جمعہ) کو کیا۔ 29؍جولائی(ہفتہ) کی صبح طبیعت ناساز ہوئی ۔ فوری طورپرانھیں دواخانہ میں شریک کیاگیا۔ 30؍جولائی (اتوار) کی شب وہ پروردگار کے حضور حاضر ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ رحم وکرم کامعاملہ فرمائے۔ جنت الفردوس عطاکرے۔ آمین
جناب ایم اے صمد صاحب نے اردو کی صحافتی خدمات چار دہائیوں تک انجام دیں۔ بڑے بھائی جناب عبدالحئی کے انتقال کرجانے کے بعد وہی خاندان اور روزنامہ ’’حیدرآباد کرناٹک‘‘ کے ذمہ دارقرار دئے گئے۔ ضلع اور علاقہ کے اردواخبارات کے ساتھ جو مشکلات ہوتی ہیں ان مشکلات کو انھوں نے انگیز کیا۔ ایم اے حمید صاحب مرحوم بفضل ِ الٰہی کثیرالعیال رہے ۔ بھائی بہنوں کی ذمہ داری کوایم اے صمدصاحب نے خندہ پیشانی سے اپنے کندھوں پر اٹھایا۔ کبھی اف تک نہ کی۔ ان کامزاج برداشت کرنے کاتھا۔ والداور مرحوم بھائی عبدالحئی کی صحبت اور ان کے اپنے ذاتی مزاج نے مل کر انہیں قناعت پسند بنادیاتھا۔کسی بھی حال میں قانع رہناان کی زندگی کاگویادرس تھا۔ زندگی میں کمانے کھانے کی لالچ سے زیادہ ذمہ داریاں اداکرنے کوانھوں نے اہم سمجھااور اخبار کو زندہ رکھنا ہی ان کی زندگی کامشن گیا۔
ان کے برادر خورد جناب عبدالعلی بتارہے تھے کہ ایم اے صمد صاحب جب ڈگری کررہے تھے تب محکمہ پولیس سےPSIعہدے کے لئے انٹرویو کال وصول ہوئی۔ والد کو پتہ چلاتو انھوں نے سرکاری ملازمت سے منع کردیا اور اپنے ساتھ اخبار میں رہنے اور صحافتی خدمات انجام دینے کوکہا۔ والد کے حکم سے انھوں نے کبھی سرموانحراف نہیں کیا۔ ان کے حکم کے خلاف نہیں گئے(تمام بھائی بہنوں کی یہیں عادت شریفہ رہی ہے الحمد للہ ) آٹھویں دہائی کے بعد جناب صمد صاحب نے صحافتی تجربہ کاآغاز کیا۔ ضلع بیدر کی تقریباً اہم خبریں ان کے پاس جمع ہوتیں۔دوسری جانب ضلع کے بڑے بڑے سیاست دان ان کے والد سے ملنے ان کے دفتر آتے جہاں وہ خود بھی موجوہوتے۔ اسی طرح پریس کانفرنس میں اور دیگر مقامات پر سیاست دانوں سے ملاقاتیں ہوتیں لیکن وہ آج کے ’’چینل صحافیوں‘‘ کی طرح سیاست دانوں سے چپکے نہیں رہتے تھے۔ دوری بنائے رکھناان کامزاج تھا۔ کسی نے ان سے بات کی توانھوں نے خوشدلی سے بات کرلی ۔ اور اگر کوئی سیاست دان بات نہ کرتا تووہ اس سے گفتگو کی ضرورت بھی محسوس نہ کرتے۔ آج کااخبار کس طرح شائع ہو؟ یہ ذہن میں ہوتا۔ اخبار کی اشاعت سے بڑھ کر کوئی چیز ان کے نزدیک اہم نہ ہوتی۔

ایم اے صمد صاحب کے ساتھ میں نے کافی عرصہ گزار اہے۔ حیدرآباد کرناٹک اخبار کے لئے میں نے بھی اپنی خدمات پیش کی ہیں۔محکمہ اطلاعات ونشریات سے آنے والی تازہ ترین کنڑی خبروں کووہ اردو میںڈکٹیٹ کرواتے اور میں ان خبروں کو ٹائپ کرتاچلاجاتا۔ اسی دوران میںاگر کبھی گھر سے اہلیہ کافون آجاتاتووہ انھیں ڈانٹ دیتے۔ بہت کم ایساہوتاکہ انھوں نے اطمینان سے بات کی ہو۔
ایک دفعہ وہ دفتر میں بیٹھے خبروں کاManualترجمہ کررہے تھے کہ سابق وزیر اور رکن اسمبلی اپنے لاؤ لشکرکے ساتھ الیکشن مہم کے دوران تشریف لے آئے تو انھوں نے ان سے ملنے سے انکار کردیااور کہاکہ خبریں لکھی جارہی ہیں، ملاقات نہیں ہوسکتی ۔ اس قدر اپنے پیشہ سے لگاؤ شاید ہی دیکھنے کوملے۔ جب سے الیکٹرانک میڈیا کو ’’گودی میڈیا‘‘ کاخطاب ملاہے ، تب سے الیکٹرانک میڈیا سیاست دانوں کا غلام بن چکاہے لیکن چند ایسے جیالے صحافی بھی موجودہیں جنہوں نے کبھی اپنے نفع ونقصان کی پروانہیں کی۔ اوراپنے پیشہ کوہرحال میں مقدم رکھا ۔جن میں پرنٹ میڈیا کے حوالے سے جناب ایم اے صمد کانام سنہرے حرفوں میں لکھاجاناچاہیے۔
جناب ایم اے صمد صرف مترجم ہی نہیں تھے بلکہ وہ ایک اچھے صحیفہ نگار بھی تھے۔ انھوں نے جتنے مضامین لکھے ، اس میں ضلع بیدراورگلبرگہ کی سیاست کے اس زمانے کے نقوش بآسانی ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ فضل علی کمیشن کے بارے میں لکھتے رہے ۔ اورجو لکھاڈنکے کی چوٹ پرلکھااور جتنا کچھ لکھاکبھی ناکامی ہاتھ نہیں آئی۔ ایک آدھ دفعہ انھوں نے ناواقفیت کی بناپر کچھ لکھ دیاتو ان کے برادر خورد اور نیوزایڈیٹر ’’جناب عبدالعلی‘‘ نے اس آرٹیکل کوروک دِیا۔ دوسرے دن انھوں نے اس آرٹیکل کے بارے میں دریافت کیاتو بتایاگیاکہ فلاں مقام کے حالات تبدیل ہوچکے ہیں، شاید آپ تک وہ باتیں نہیں پہنچی ہیں۔ عبدالعلی کی باتوں سے وہ مطمئن ہوگئے۔ کبھی ایسابھی ہواکہ کسی سبب سے ان کامختصر آرٹیکل کامودہ اشاعت سے روکاگیالیکن آگے چل کر ان کی وہ بات پوری ہوکر رہی۔ جس کی اشاعت نہ ہونے پر افسوس ہی کرسکتے تھے ایساہی کیاگیا۔
لیکن ان تمام باتوں کاافسوس ایم اے صمد کو بالکل بھی نہیں ہوتاتھا۔ وہ اپنی ہی شان کے نرالے آدمی تھے۔جس زمانے میں انٹرنیٹ نہیں تھا۔ تب وہ دوڈھائی کیلومیٹرپیدل چل کر محکمہ کو جاتے اور خبریں وصول کرکے واپس پیدل اپنے اخبار کے دفتر کو پہنچتے۔ سردی ، گرمی یابارش ان کاکچھ نہیں بگاڑ سکتی تھی۔ ٹووہیلر چلانے سے وہ گریز کرتے تھے لیکن اگر کوئی ٹووہیلرپربیٹھنے کی پیش کش کردے تو اس کو بھی ردکردیاجاتا۔خود میرے ساتھ کئی دفعہ ایساہوا۔ میرے شدید اصرا رپرشاید دو دفعہ میری موٹرسائیکل پر بیٹھ کر محکمہ کے دفتر گئے ہیں۔انھیں کوئی شوق نہیں تھاسوائے چائے کی پیالی اور ایک عدد سگریٹ کے۔ اور یہ شوق بھی اس وقت پوری طرح ختم ہوگیاجب ڈاکٹر نے ان سے کہاکہ وہ سگریٹ اور چائے چھوڑ دیں۔ دنیا سے بے نیازی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ کوئی ایسا خواب نہیں دیکھاجس کو وہ پور انہ کرسکتے ہوںبلکہ وہ خواب سے زیادہ عملی دنیا کے صحافی تھے۔ کبھی ان کے دوست احباب ہواکرتے تھے۔ سابق رکن اسمبلی سید ذوالفقار ہاشمی مرحوم ان کے دوستوں میں سے تھے۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے دوست نہیں کے برابررہ گئے تھے۔تب بھی انھوں نے دوستوں کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ ضرورتوں سے بے نیاز رہنے کو وہ ترجیح دیتے تھے۔
ایم اے صمد صاحب صبح سات بجے دفترآیاکرتے تھے۔شروع سے ان کایہی معمول تھا۔ دس بجے واپس گھر جاتے اور ایک گھنٹہ بعد دوبارہ دفتر واپس آکر اس کو پوری طرح کھول دیتے اورپھروہاں سے حکومتی محکمہ کے دفتر جاتے ۔وہاں کی اپنی دفتری ضروریات کے پورا ہوتے ہی خبریں لے کر واپس اخبارکے دفتر پہنچتے۔ ترجمہ کاکام شروع ہوجاتا لیکن جب انٹرنیٹ کانظام شروع ہوگیاتو بہت کم محکمہ کے دفتر جانے کی ضرورت پڑنے لگی۔ خبریں ای میل کردی جاتیں یاپھر واٹس ایپ کے ذریعہ ارسال کردی جاتی تھیں۔ اس سہولت کے میسرآنے کے بعد وہ صبح گیارہ بجے دفتر پہنچنے لگے۔ دوپہرگھر جاکر کھاناکھالیتے۔ پھر تین بجے تک واپس دفتر میں حاضر ہوجاتے۔ نیوزایڈیٹر عبدالعلی ای میل ، واٹس ایپ اور دیگر ذرائع سے آنے والی خبریں ان کے حوالے کرتے ۔ پھرتو ترجمہ کرنے کاان کاManual کام شروع ہوجاتا۔وقت کم ہوتاتوراست طورپر خبروں کاترجمہ کیاجاتا۔ جس کو کوئی نہ کوئی فرد کمپیوٹر پر ٹائپ کردیتا۔ کئی سال تک جناب قمرالدین صاحب ٹائپ کرتے رہے اور جناب ایم اے صمد صاحب کنڑی خبروں کاترجمہ انھیں راست ڈکٹیٹ کرواتے۔ترجمہ کے دوران بہت کم انہیں رک کر کسی لفظ کو سوچتے اور اس کے بارے میں سرچ کرتے ہوئے پایاگیا۔وہ اس قدر روانی سے ترجمہ کے عادی ہوچکے تھے کہ میں جب دوسرے دن خبریں پڑھتا اور وہی خبر بنگلور کے ’سالار‘ میں دیکھتاتوصاف محسوس ہوتاکہ ایم اے صمد صاحب نےManual ترجمہ کاحق پوری طرح اداکردیاہے۔ویسے وہ زبان کے معاملے میں فصاحت کو ترجیح نہیں دیتے تھے لیکن خبرکو مختصر کرنے کافن گویا انھیں پر ختم تھا۔ حیدرآباد کرناٹک گوکہ چار صفحات کا اخبار (قیمت 3؍روپئے )ہے لیکن تازہ ترین خبریں صرف صفحہ اول پر ہوتی ہیں۔روزانہ 26تا32خبریں ایک ہی صفحہ پر لے آنا ایم اے صمد صاحب ہی کی اختراع ہے۔ بڑی بڑی خبروں میں سے اس کامغز نکال کر صرف مغز ہی کو شائع کرنے کافن ان ہی پر ختم تھا۔
اللہ تعالیٰ جناب ایم اے صمد صاحب کی خدمات کو قبول فرمائے۔ ان کی اہلیہ اور تینوں بچوں کاحامی ومددگار بن جائے۔ ان کے بھائیوں میں آپسی مثالی الفت ومحبت خوب پروان چڑھے۔ مرحوم ایم اے حمید صاحب کے گھرانے پر فضل خداوندی جاری وساری رہے۔ان دونوں (ایم اے حمید صاحب اور ایم اے صمد صاحب )کانعم البدل ملت اسلامیہ کو عطاکرے تاکہ بیدر میں اُردو صحافت ہمیشہ زندہ وپائندہ رہے۔ آمین ثم آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے