دربھنگہ: المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ دربھنگہ کی جانب سے محلہ ملا حلیم خاں ڈاکٹر ریشما تبسم صاحبہ کی رہائش گاہ دربھنگہ میں ایک گفتگو پروگرام کا اہتمام کیا گیا ۔ جس کی صدارت پروفیسر احتشام الدین نے کی ۔ ڈاکٹر احسان عالم کی کتاب ”آﺅ بچو! تمہیں بتائیں“ پر ایک رسمی گفتگوکی نظامت ڈاکٹر منصور خوشتر نے انجام دیئے۔ اس موقع پر پروفیسر احتشام الدین نے کہا کہ ڈاکٹر احسان عالم بہت سے موضوعات پر کتابیں لکھتے رہے ہیں۔ بچوں کے لئے ان کی دوسری کتاب ”آﺅ بچو! تمہیں بتائیں“ ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے احسان عالم بچوں کو کوئی خاص بات بتانا چاہتے ہیں۔ سب سے پہلے انہوں نے کتاب کا تعارف کرایا ہے ۔ اس کے بعد بچوں کی کردار سازی پر روشنی ڈالی ہے۔ ویسی شخصیتوں میں ماں، باپ اور استاد کی اہمیت مسلم ہے ۔ آگے انہوں نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ بچوں کے لئے کون سی چیزیں فائدہ مند ہے اور کون سی چیزیں نقصان دہ ہے۔ اس طرح یہ کتاب بچوں کے ساتھ گارجین اور اساتذہ کے لئے بھی فائدہ مند ہے۔ چند سائنسدانوں کی مختصر سوانح حیات ہے جن کی زندگیاں بچوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ ڈاکٹر عطا عابدی نے ڈاکٹر احسان عالم کو ان کی کتاب پر مبارکباد دیا اور کتاب کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب بچوں کے حوالے سے گھر سے لے کر اسکول اور پھر سماج و زندگی کے مختلف مرحلوںمیں اخلاقی اور تعلیمی رہنمائی کے جذبہ سے معمور ہے۔ چونکہ احسان عالم برسہا برس سے اسکول کے ذمہ دار کی حیثیت سے بچوں کے تعلیمی و تربیت کے مرحلوں سے عملی طور پر وابستہ رہے ہیں لہٰذا یہ کتاب بچوں کے لئے بہت مفید اور مو ¿ثر نکات کی حامل بن گئی ہے۔ اس کتاب سے جہاں بچے استفادہ کر سکتے ہیں وہیں بچے کی تعلیم و تربیت کے لئے بڑوں کے لئے بھی کتاب کی باتیں اہمیت رکھتی ہیں۔
المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ دربھنگہ کی جانب سے محلہ ملا حلیم خاں ڈاکٹر ریشمہ تبسم صاحبہ کی رہائش گاہ دربھنگہ میں ایک پروگرام کا اہتمام
ڈاکٹر منصور خوشتر نے اس کتاب پر ڈاکٹر احسان عالم کو مبارکباد دی اور بچوں کے لئے مصنف کی فکر و محنت کی داد دی۔ انہوں نے اس کتاب میں مختلف حوالوں سے بچوں کی رہنمائی کے خطوط اجاگر کئے۔ ڈاکٹر احسان عالم ایک اسکول کے پرنسپل ہیں۔روزانہ انہیں سینکڑوں بچوں سے واسطہ رہتا ہے۔ ان کی حرکات و سکنات کا وہ جائزہ لیتے رہتے ہیں، ان کی نفسیات کو دیکھتے سمجھتے رہتے ہیں اور ان کے مسائل کے تدارک میں لگے رہتے ہیں۔ اپنے ان ہی تجربات کی روشنی میں انہوں نے کتاب ”آﺅ بچو! تمہیں بتائیں“ تحریر کی ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر انور آفاقی نے بذریعہ موبائل کتاب پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”آﺅ بچو! تمہیں بتائیں“ ڈاکٹر احسان عالم کی تازہ تصنیف ہے جسے انہوں نے گرچہ بچوں کے لیے لکھی ہے لیکن دراصل اس کتاب کو بچوں سے پہلے ان کے گارجین اور اساتذہ کو پڑھنے کی ضرورت ہے۔ جب گارجین حضرات اس کا مطالعہ کریں گے تو وہ یقینا اسے اپنے بچوں کو بھی پڑھائیں گے تاکہ ان کی اصلاح اور رہنمائی ہوسکے۔ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے بھی بذریعہ موبائل اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کتاب ”آﺅ بچو! تمہیں بتائیں“ 104صفحات پر محیط ہے۔ اس کے تین ابواب میں 21مضامین ہیں۔ پہلے باب میں ماں، باپ اور استاد کی اہمیت و مقام ، اس کی نگرانی اور اثرات کو واضح کیا گیا ہے۔ دوسرے باب میں زندگی سے وابستہ چند ہدایتیں ، انداز تربیت، جسمانی و دماغی صحت یابی میں غذا کی اہمیت ، کمپیوٹر، موبائیل ، ٹیلی ویژن اور کتابوں کی اہمیت پر 12مفید مضامین درج ہیں۔ تیسرے باب میںچند اہم سائنسدانوں کے زندگی کا مختصر تعارف پیش کیا ہے جو بچوں کے لئے مشعل راہ ہوسکتے ہیں۔
ڈاکٹر احسان عالم نے آخر میں تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے کتاب کی پذیرائی اور حوصلہ افزائی سے نوازا۔ محترمہ ڈاکٹر ریشما تبسم نے حسب روایت پرتکلف ضیافت کا اہتمام کیا تھا۔ اس نشست میں اگلی بار ممتاز شاعر وادیب ڈاکٹر لطف الرحمن پر گفتگو کا فیصلہ ہوا۔
