دہشگردوں کے ذریعہ انسانیت کا جنازہ کب تک اٹھتا رہیگا!سوشل قائد محمد آفاق
سہارنپور(احمد رضا): 06 اگست، اتر پردیش بھر میں سماجی خد مات انجام دینے والی فعال تنظیم راشٹریہ سماجک تنظیم کے کنوینر محمد آفاق نے ہریانہ ریاستی کے مختلف حصوں میں رونما ہونے والے پر تشدد واقعات پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نوح کے بعد پورے ہریانہ بشمول گروگرام اور فرید آباد میں حالات بدستور کشیدہ ہیں دھشت پسند افراد مظلوم اور بے قصور مسلم افراد کو نشانہ بنا کر انکے مکانات اور گھروں کو لوٹ رہے ہیں سیاسی جماعتوں کے رہنما خاموش ہیں اقلیتیں طبقہ کے خلاف کاروائی کی جا رہی ہے انہی کو مارا پیٹا گیا اور اسکے بعد اب سرکار عملہ بھی انہی کے مکانات اور دکانات کو بلڈوزر سے تہس نہس کرنے میں مصروف ہیں یہ کیسا مزاق قانون کے ساتھ کیا جا رہا ہے اور کیسے مظلومین کو تباہ اور برباد کیا جا رہا ہے, سوشل قائد محمد آفاق نی کہا ہے کہ بتایا یہ بھی جارہا ہے تشدد کے معاملے میں اب تک کل 100 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور 200 سے زیادہ لوگوں کو نامزد کر تے ہوئے انہیں حراست میں لیا گیا ہےانہوں نے گڑگاﺅں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 19 سالہ حافظ محمد سعد کو 200 دہشت پسند افراد کے ہجوم نے پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا ان کا گھر بہار کے سیتامڑھی ضلع کے مانڈیہ گاؤں میں ہے، انہوں نے 6 ماہ قبل انجمن مسجد، سیکٹر 57، گڑگاو ¿ں میں امامت کرنا شروع کی تھی آدھی رات کو 200 سے زائد دہشت گردوں کا ہجوم مسجد میں گھس آیا اور گولیاں برسائیں، 3 افراد مسجد میں سو رہے تھے جو بری طرح زخمی ہوئے، کسی نہ کسی طرح ہسپتال پہنچا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ حافظ سعد شہید ہو گئے ہیں، فسادیوں نے مسجد کو بھی آگ لگا دی لیکن ان کے خلاف ہریانہ سرکار نے جانتے ہوئے بھی کوئی نامزد رپورٹ درج نہیں کی اور قاتلوں کے گھروں اور تجارتی مراکز پر بلڈوزر نہی چلا صرف اور صرف ایک طرف مسلم طبقہ کے خلاف ظلم اور جبر برپہ کیا جا رہا ہے ،مرکزی سیکورٹی فورسز کی 20 کمپنیاں اور ہریانہ پولیس کے دستے امن بحال کرنے کی کوشش میں علاقے میں مسلسل فلیگ مارچ کر رہے ہیں صورتحال کو دیکھتے ہوئے دیگر اضلاع میں بھی ہائی الرٹ کی خبر سامنے آرہی ہے نوح میں پرتشدد حملے کے بعد لوگوں میں شدید غصہ پایا جارہاہےآخر میں محمد آفاق نے کہا کہ سعد کا جنازہ ہندوستان میں انسانیت کے ضمیر اور انصاف کا جنازہ ہے اللہ سعد کو آخرت میں بہتر نعمتوں والی جوانی عطاءکرےسعد کی یہ جوان اور پھول سی بےجان تصویر بصورتِ لاش دیکھ کر دل و دماغ سن ہوگیا ہے، حکومت بتائے کہ اس بیچارے کو کس جرم میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اس کا جرم صرف یہ ہے کہ یہ کلمہ پڑھنے والا تھا؟ اور میری سیکولرازم کا نعرہ بلند کرنے والے خاموش تماشائی بنے ہیں ان رہنماﺅں سے شکایت ہے کہ وہ اب تک ان ظالمانہ اور جابرانہ معاملوں میں خاموش کیوں ہیں کیا انہیں صرف اقلیت کا ووٹ چاہئے اور انکو مسلم طبقہ کےافراد سےکچھ بھی ہمدردی نہی؟چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہی!
