ابو احمد مہراج گنج

نہ ہی میں کانگریس کا سپورٹر ہوں اور نہ ہی ووٹر ،میں سمجھتا ہوں کہ کانگریس نے سیکولرزم کے نام پر مسلمانوں کے ساتھ جو چھلاوا کیا ہے اسی چھلاوے کی سزا ہے کہ وہ سیاست و حکومت کے عرش سے فرش پر سیر کناں ہے ۔یہ سارا ملک جانتا ہے کہ کانگریسیوں نے بھی بدعنوانیوں میں کوئی کسر باقی نہیں رکھا تھا ۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ کانگریس کے ٹاپ لیڈروں نے بھی اپنی آنکھوں پر مذہبی رنگ کا چشمہ لگا رکھا تھا ۔جبھی تو UPAحکومت کے دونوں ٹرم میں جس قدر بے گناہ مسلمانوں کو دہشتگردی کے نام پر جیل کی سلاخوں کے پیچھے چھوڑا گیا ،آزاد بھارت کی تاریخ میں شاید ہی کبھی اتنے نوجوان ناکردہ گناہوں کی سزا سلاخوں کے پیچھے جھیلے ہوں گے ۔ان بے گناہ نوجوانوں اور انکی بوڑھی ماؤں کی آہ سحر گاہی کا بھی کانگریس کو اقتدار کے نشہ سے چھٹکارا دلانے میں بہت اہم رول رہا ہوگا۔

وہ تو بھلا ہو ہیمنت کرکرے جیسے بہادر نڈر اور فرض شناس کا جس نے کانگریس کے چھلاوے اور دوغلے رویہ کی قلعی کھول دی ۔لیکن کانگریس کے رہنما اسے بھی کھلے دل سے قبول کرنے میں شش وپنج سے کام لیتے رہے۔اور قصور وار مسلم نوجوانوں کو ہی مانتے تھے ۔

اس وقت کے معمر ،معتبر،اورسیاست کے شہ سوار سمجھے جانے والے کانگریسی رہنماؤں کے درمیان ایک ننھاسا کھلاڑی سیاست میں قدم رنجہ کرتا ہے ،اور ان سیاسی پنڈتوں کے قد کی بلندی اور فکری پستہ قدی سے مرعوب ہوئے بغیر تخریبی فکر کی حامل جماعتوں ،گروہوں اور تنظیموں پر اپنے خیالات کا اظہار کرتاہے اور بلا تامل کہتا ہے کہ” ساورکر ویر نہیں تھا ,ساورکر نےانگریزوں سے معافی مانگی اور ان کا وفادار بن کر رہنے کی یقین دہانی کی ہے”آپ جانتے ہیں کہ وہ شخص اپنے اس قول پر آج بھی پتھر کی لیکر کی طرح ثابت قدم ہے۔اور وقتا فوقتاً اس جملے کا اعادہ بھی کرتا رہتا ہے۔

یہ جملہ نہ تو کوئی نیا جملہ ہے اور نہ ہی کوئی بہت بڑی تحقیق ہے بلکہ یہ جملہ تخریب کے راستے پر بھارت کو لے جانے والے سیاسی جماعتوں کے لئے سد راہ ہے۔اس جملہ کو کانگریس کے بہت بڑے بڑے نیتا بولنے اور زبان پر لانے سے بچتے ہیں ۔لیکن پپو کہے جانے والے راہل گاندھی نے اپنے نام کے ساتھ گاندھی لاحقہ کی لاج رکھا اور کھل کر بولا کہ گاندھی کے دیش میں گوڈسے اور ساورکر کی فکر پروان چڑھانے میں راہل گاندھی سدراہ رہا ہے اور رہے گا ۔

راہل گاندھی نے اپنے فکری صلابت اور گاندھی کےبھارت والے فلسفے کو جس مضبوطی اور خوبصورتی سے پیش کیا ہے وہ راہل گاندھی کا اپنا حصہ ہے۔اس میں کوئی کانگریسی لیڈر ان کے آس پاس بھی نظر نہیں آتا ۔راہل گاندھی کے اس فکرسے متاثر ہوئے بغیر رہا بھی نہیں جاسکتا ۔کیونکہ تخریب کے راستے حکومت چلانے کا انجام بھارت کے پڑوسی ممالک پاکستان ،سری لنکا اور برما سب کے سامنے ہیں۔

راہل گاندھی نے 2019کے لوک سبھا الیکشن میں ایک انتخابی تقریر میں کہا تھا کہ بھارت سے پیسہ لیکر بھاگنے والے سارے چوروں کا سر نیم "مودی "ہی کیوں ہے۔اس پر تخریبی سیاست کے سپاہیوں نے ان پر مقدمہ دائر کیا ، تخریبی سیاست کی نرسری یا تجربہ گاہ سمجھے جانے والے ریاست کے ایک شہر سورت کی ضلع عدالت میں راہل گاندھی پر ہتک عزت کا مقدمہ ہوا اور راہل گاندھی کو پارلیمنٹری سیاست سے کنارے لگانے کی غرض سے ان پر دوسال کی سزا،اور پھر ہائی کورٹ سے ہوتے ہوئے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا اور وہاں راہل گاندھی نے ایک حلف نامہ داخل کرکے کہا” میں معافی نہیں مانگوں گا” دراصل یہ جملہ نہیں تخریبی سیاست کے علمبرداروں کے سینوں پر ایک نشتر تھا کہ میں ساورکر نہیں گاندھی ہوں ۔

مجھے نہیں معلوم کہ راہل گاندھی بھارتیہ سیاست میں عملی طور سے کتنے مضبوط پلیئر ثابت ہوں گے۔ اس کا ابھی انتظار رہےگا ۔لیکن فکری اور نظریاتی طور پر وہ بہت مستحکم ہیں اس کا تو انھوں نے بارہا ثبوت پیش کیا ہے ۔شاید یہ شعر راہل گاندھی کے غیر متزلزل نظریہ کے مطابق ہو۔

اصولوں پہ جہاں آنچ آۓ ٹکرانا ضروری ہے

جو زندہ ہو تو پھر زندہ نظر آنا ضروری ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے