کتبہ: محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی
متنبی کا یہ شعر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کا سب سے بہترین ساتھی کتاب ہے ،
محترم قارئین! کتابوں کے سینہ میں علم کا خزانہ ہوتا ہے ، ان کے پڑھنے سے آدمی کا علم بڑھتا ہے ،شعور پختہ ہوتا ہے ، اور ذہنی کثافت کا خاتمہ ہوتا ہے ، دماغ روشن ہوتا ہے ، دل صیقل ہوتاہے ، اور برابر مطالعہ کرنے سے وہ علمی اعتبار سے ترقی کے سدرۃ المنتہٰی تک پہنچتا ہے ، اس کے برعکس جو لوگ کتاب نہیں پڑھتے ان کا دماغ تاریک ہوتا ہے ،دل شب دیجوری میں اٹکا رہتا ہے ، ان کے علم میں کمی ہونے لگتی ہے ،آدمی جسقدر کتابوں سے دور رہے گا اسی مقدار میں اس کا جہالت کا نصیبہ بڑھتا چلا جائے گا ،
علامہ شنقیطی کے بارے میں سنا ہے کہ آپ نے المغنی لابن قدامہ 80بار پڑھا تھا ، علامہ ناصرالدین البانی کتابوں کے بڑے دلدادہ تھے ، ایک دن ایسا ہوا کہ آپ کو ایک جدید کتاب ملا چنانچہ آپ نے مکتبۂ ظاہریہ کے سیڑھی میں کھڑے ہوکر ہی پوری کتاب پڑھ لیا اور رات کا اکثر حصہ گزر گیا ، کثرت مطالعہ بڑا مستحسن فعل ہے ،کتابیں ہی طلباء و اساتذہ کے ہتھیار ہے ،
لیکن برا ہو اس جدید تقنیانی وسائل کا جنہوں نے ہم سے ورقی کتابیں چھین لیا ، اتنا اعتراف ضرور ہے کہ جدید وسائل سے کچھ حدتک افادہ کیا جا سکتا ہے لیکن ہرگز ہرگز اسی کو معول علیہ کادرجہ نہیں دیا جا سکتا ،
مطالعہ کی پتہ ماری کون کرے ؟
میں نے اپنے بہت سارے اساتذہ سے سنا ہے کہ میں کلاس میں آنے سے پہلے دو دو مرتبہ پڑھ کے آتا ہوں اور ڈائری بھی ساتھ لاتا ہوں ،
لیکن کتنے جغادری ایسے ہیں جو درجات میں مضمون پڑھانے سے زیادہ چچا چھکن کی عینک کا واقعہ بتانے میں رغبت رکھتے ہیں ، اور ذہین طلباء کے چبھتے سوالوں سے بچنے کے لئے مختلف حربے اپناتے ہیں ، کوئی تو اعراب دیکھنے کے لئے گوگل کرتا ہے تو کوئی ایران وتوران کی پھینک کر گھنٹی برباد کرتا ہے ،سبب ظاہر ہے کہ حضرت نے فراغت کے بعد سے اب تک مراجعہ نہیں کیا ، یا الماری میں بند کتابوں کو کھولا ہی نہیں ،
خیر ! ہر ذی علم شخص کیلئے اپنا ایک چھوٹا سا مکتبہ ہونا ازحد لازمی ہے ، جبکہ بہت سارے مدرسہ جو بڑے بڑۓ بورڈ لگاۓ گئے ہیں لیکن معیاری لایبریری نہیں ہے ،کہیں ہیں بھی تو دیمک اور چوہے مطالعہ میں مشغول ہیں یا وہ کتابیں بڑۓ ذلیل وخوار پڑۓ رہتے ہیں بلکہ ایک زمانے تک غلاف ہی کے اندر ان کا دم گھٹ گھٹ کر نکل جاتا ہے اور سال خوردہ ہوکر کباڑی کی دوکان یا مزبلہ تک پہنچا دیا جاتا ہے ، مع السلامۃ۔
