از:۔ ڈاکٹر ابو زاہد شاہ سید وحید اللہ حسینی القادری الملتانی
کامل الحدیث جامعہ نظامیہ،
یہ امر سنت الٰہیہ کے خلاف ہے کہ خدا اپنے بندوں کو ہدایت عطا کرنے سے قبل کسی عذاب میں مبتلا کرے جیسا کہ ارشاد باری ہورہا ہے۔ وما کنا معذبین حتی نبعث رسولاً۔ (15/17) اور ہم عذاب نازل نہیں کرتے جب تک ہم نہ بھیجیں کسی رسول کو۔ جمہور علماء کرام اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ تعالی کسی قوم پر دنیا میں اپنا عذاب نازل نہیں فرماتا جب تک کہ اس قوم میں اپنا رسول مبعوث نہیں فرماتا۔ جب کہ بعض علماء کرام فرماتے ہیں کہ اگر انبیاء و مرسلین کی بعثت نہ ہوتی تو قیامت میں بھی عذاب کا کوئی تصور نہ ہوتا چونکہ عقل بھی اس بات کی متقاضی ہے کہ جب تک کسی شخص کو دعوت (یعنی احکام رب ذو الجلال) نہ پہنچے وہ مستحق عذاب ہونے سے مبراء رہے (تفسیر قرطبی 232/10)۔ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و سلم میں آتا ہے کہ بروز قیامت چار قسم کے اشخاص باری تعالی سے ہم کلام ہوں گے (1) گراں گوش (بہرا) (2) احمق (بے عقل) (3) ضعیف العمر (کمزور) (4) وہ لوگ جن کے زمانہ میں کوئی رسول مبعوث نہ ہوا ہو۔ یہ چاروں اپنے اپنے عذر کو اس طرح پیش کریں گے بہرا گویا ہوگا کہ احکام اسلام مجھ تک ضرور پہنچے لیکن میں ان کی سماعت سے قاصر تھا احمق (ناداں) کہے گا آپ کا پیغام تو مجھ کو ضرور ملا تھا لیکن میری یہ حالت تھی کہ بچے مجھ پر مینگنیاں پھینکا کرتے تھے ضعیف العمر (ناتواں) اس بات کی طرف پناہ لینے کی کوشش کرے گا کہ آپ کے دین سے میں آشنا تو ہوچکا تھا لیکن میرے ہوش و ہواس گم ہو کر رہ گئے تھے جس کے باعث مجھے اسے سمجھنے میں کوتاہی ہوئی اور وہ لوگ جن کے زمانے میں کوئی رسول مبعوث نہ ہوئے ہوں یہ معروضہ پیش کریں گے کہ جب مجھ کو حق کی طرف رہنمائی ہی نہیں ہوئی تو باز پرس کیسی؟ تو خالق کائنات ان چاروں سے مخاطب ہوکر حکم صادر فرمائے گا کہ جاؤ جہنم میں داخل ہوجاؤ حضور ختمی المرتبتﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر وہ اس حکم خداوندی پر عمل کرتے ہوئے دوزخ میں داخل ہوجائیں گے تو آتش جہنم ان پر ٹھنڈک و سلامتی کا باعث بن جائے گی اور جو حکم عدولی کا مرتکب ہوگا نار جہنم اس کا مقدر بن جائے گا چونکہ اس سے یہ بات از خود ثابت ہوجائے گی کہ جو فرمان الہی کی نافرمانی کرتا ہے وہ بدرجہ اولی انبیاء و مرسلین کی نافرمانی کرے گا (تفسیر ابن کثر 28/3 و تفسیر در منثور 306/4)۔ علامہ قرطبی اس آیت مبارکہ کو مستدلل بناتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ معتزلہ کے دعوی باطلہ کی بطلان میں صریح نص ہے چونکہ اس آیت شریفہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ احکام اسلام صرف شریعت مطہرہ (یعنی صرف رسول کے بتائے ہوئے احکامات) سے ثابت ہوتے ہیں قطع نظر اس کے عقل اسے حسن یا قبیح قرار دے ان ہی اصول سے روگردانی کرنے کو عذاب کے مستحق ہونے کی وجہ گردانا گیا ہے۔ چنانچہ عقل و فہم کو کسی چیز کے قابل عمل ہونے یا نہ ہونے میں کوئی دخل نہی جیسا کہ معتزلہ کا گمان ہے۔ چنانچہ رشد و ہدایت انسانی کیلئے رب قدیر نے انبیاء و رسل کا روحانی و نورانی قافلہ مبعوث فرمایا جس کی انتہاء اپنے محبوب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم پر فرمایا جس کے بعد اس گراں قدر ذمہ داری ”علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل“ کی حامل عالی مرتبت ہستیاں یعنی بزرگان دین نے انجام دی یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں ان مبارک ہستیوں کے آستانے مرجع خلائق رہے شہر حیدرآباد کو جن گوناگوں خصوصیات نے امتیاز و انفرادیت کا درجہ بخشا ہے ان میں اولیت اس بات کو حاصل ہے کہ سرزمین شہر حیدرآباد ہمیشہ علماء، زعماء، صلحاء، اولیاء، صوفیاء کی آماجگاہ رہا ہے جنہوں نے اپنے علوم ظاہری و باطنی سے مختلف انداز میں بلا لحاظ مذہب و ملت طالبان حق کو سرفراز فرمایا جن سے اکتساب فیض و استفادہ کرنے کو عوام الناس ہی نہیں بلکہ شاہان وقت بھی اپنی عروج و اقبال مندی تصور کرتے تھے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حکمران و سلاطین نے نہ صرف رعایا کی خوشحالی و ترقی، امن و شانتی اور استحکام سلطنت بلکہ جنگ و معرکہ آرائیوں کے اوقات میں بھی ان برگزیدہ اور پوشیدہ ہستیوں سے بصد ادب و احترام تعاون و استعانت کی درخواست و التجا کیا کرتے نتیجتاً اپنے مقاصد میں کامیاب و کامران ہوتے یہ مبارک ہستیاں نہ صرف شاہان وقت کے منظور نظر رہے بلکہ عمائدین سلطنت، امراء اور جاگیرداران متعلقہ نے بھی اپنی اپنی بساط و بصیرت کے موافق خاصان خدا کے متلاشی اور ان کی دلجوئی و خاطر و مدارت اور خدمت گزاری کو راحت دنیا اور رحمت اخروی کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ گہوارہ بزرگان دین متین کے اس شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد کو قطب الارشاد کا لقب دیا جائے تو مبالغہ آرائی نہ ہوگی (نوٹ: شیخ احمد سرہندیؒ نے یہ لقب اپنے دور میں شہر لاہور کو عطا فرمایا تھا) بے شمار اولیاء کرام نے گمنامی کی زندگی بسر کی اور گزر بسر کے ایسے ذرائع اختیار فرمائے کہ ان کے حقیقی مقام تک عوام کی رسائی ممکن نہ تھی چونکہ صدائے ”پدرم سلطان بود“ کو بلند کرنے کے بجائے ان روشن ضمیر، وسیع النظر صوفیائے کرام نے ہمیشہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کو ترجیح دی ہر دور میں اہل اللہ بمشیت ایزدی کبھی عیاں کبھی پنہاں رہتے ہیں جس کے باعث عوام الناس عموماً ان مبارک ہستیوں کے وصال فرمانے کے بعد ان کے مقام و مرتبہ سے آشنا ہوتے ہیں۔ طالبان حق کو چاہئے کہ وہ ہر وقت طلب حق کی جستجو کرتا رہے اور حتی المقدور ان بزرگان دین کی صحبت فیض رساں سے مستفید ہونے کی کوشش میں منہمک رہے کسی عارف نے کیا خوب کہا۔
یک زمانہ صحبت باولیاء
بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا
ان ہی اولیاء عظام و مشائخ کبار میں کامل شریعت و طریقت، حامل حقیقت و معرفت، وارث علوم رسالت، مخزن رشد و ہدایت، منبع طاعت و عبادت، مرکز دانائی و حکمت، مرقع زہد و ریاضت، محور ذہانت و فطانت، یگانہئ روزگار و روحانیت و ولایت، نیک نہاد، عہد ساز و برگزیدہ ہستی ابو العرفان حضرت شاہ سید احمد عارف حسینی القادری الملتانیؒ المعروف میاں قبلہ کا شمار ہوتا ہے اس مضمون کو رقم کرنے کا مقصدِ بابرکت و محرک اعلیٰ ترویج احکام شریعت، اشاعت اسلامی معاشرت، تبلیغ عناصر سیرت اور دین حنیف کی آبیاری کرنے والی اس عظیم ہستی کے پراسرار و ایمان افروز احوال و کوائف پوشیدہ سے نقاب کشائی کرنا ہے۔ آپ کی ولادت باسعادت بارہویں صدی ہجری کے آخری دہے میں بعہد والی دکن نواب میر محبوب علی خان بہادر بمقام ملتانیہ منزل امام پورہ شریف میں ہوئی آپ میں خاندانی وجاہت و خوب روئی بدرجہ اتم موجود تھی آپ کی تربیت آپ کے والد ماجد حضرت شاہ سید عبدالرحیم حسینی القادری الملتانی خادمؒؒ کی جاودانی نوازش و شفقت میں علوم عقلی و نقلی، قواعد روحانیت اور اصول طریقت کے مطابق ہوئی جس کے باعث آپ اپنے پدر بزرگوار کے مراد یکتا و نابغہ ثابت ہوئے چونکہ آپ کے والد محترم آمیزش علم و تصوف کی اہمیت و افادیت سے بخوبی آشنا تھے اسی لیے آپ نے اپنے فرزند دلبند کو جہاں شاہراہ علم پر گامزن فرمایا وہیں اپنی راست نگرانی میں تصوف کی کھٹن راہیں طئے کروائیں یہ آپ ہی کے سایہئ عاطفت کا فیضان تھا کہ دولت ظاہری و باطنی سے مالامال اس گوہر نایاب کی عالمانہ اور عارفانہ ارشادات و فرمودات کی تابنائی و ضیاپاشی نے علمائے ظاہر و بندگانِ خدا کو سلوک و معرفت کی راہ دکھائی حضرت شاہ سید عبدالرحیم حسینی القادری الملتانی خادمؒ نے اپنے فرزند کو عین جوانی میں خلافت و جانشینی سے سرفراز فرمایا آپ کے لیل و نہار یاد الہی اور ذکر سرور عالمانﷺ سے عبارت تھے۔ ذات رسالتﷺ سے عشق و وارفتگی، نسبت و وابستگی آپ کی سیرت کا اہم عنصر تھا۔ ”بلغوا عنی ولو آےۃ“ پر کاربند یہ برگزیدہ ہستی اپنے علمی و روحانی فیضان سے اپنے تین بھائیوں یعنی شیخ باوقار حضرت سید شاہ پیر حسینی القادری الملتانی (ثانی) المعروف صاحبان پاشاہ ؒ شیخ محترم حضرت سید شاہ اسماعیل حسینی القادری الملتانی ؒ اور شیخ جلیل حضرت سید شاہ عبدالقادر حسینی القادری الملتانی ؒ کو نوازا۔ آپؒ نے حضرت صاحباں پاشاہؒ کو خرقہ خلافت سے سرفراز فرمایا۔ آپؒ کو فارسی کے علاوہ لغت عربی پر بھی کامل دسترس و عبور حاصل تھا چنانچہ کم عمری میں بزبان عربی حمدیہ و نعتیہ اشعار رقم فرمانا آپ کا اہم مشغلہ تھا۔ فن خطاطی میں آپ درہ یتیم تھے۔ آپ کو جسمانی ورزش سے بھی خاصا لگاؤ تھا جس کے باعث آپ ہمیشہ نہایت توانا و تندرست ہشاش بشاش رہا کرتے بود و باش بالکل سادہ تھی شریعت کی پابندی آپ کا بنیادی و امیازی وصف تھا اراتمندوں و عقیدت مندوں سے نذرانہ قبول کرنے کو معیوب خیال فرماتے اپنے جد اعلیٰ کے اوصاف مرضیہ میں ہمیشہ ربط اللسان رہتے اور آپ کا عرس شریف بڑے عقیدت و احترام سے منعقد کرتے امام پورہ شریف ہی میں زراعت و باغبانی فرماتے باوجود ذرائع آمدنی محدود ہونے کے جب کبھی کسی کی پریشان حالی سے واقف ہوتے تو آپ کا عمل۔ ”واما السائل فلا تنھر“ (10/93) کا مصداق ہوتا آسیب زدہ بیمار آپ کی دعاء مستجاب سے شفاء کاملہ و عاجلہ پاتے جب آوازہئ حق بلند کرنا محال ہوجاتا، بنیاد اسلام میں رخنہ اندازیاں ہوتی ہیں، تعلیمات مصطفوی صلی اللہ علیہ و سلم کو مسخ کیا جاتا ہے کارہائے ہدایت انسانی از حد دشوار ہوجاتے ہیں تو رب قدیر اپنے مقرب بندوں کو وہ باطنی قوت (بشکل کرامات) عطا فرماتا ہے جہاں تک عقل انسانی کی رسائی ممکن نہیں اس قوت کا اظہار گمراہ انسانیت کو شاہراہ رشد و ہدایت پر لاکھڑا کرنے میں ممد و موثر ثابت ہوتا ہے چنانچہ آج سے تقریباً کوئی 102 سال پہلے کا واقعہ ہے کہ چند اشرار آپ کی عبادت و ریاضت میں خلل پیدا کرنے کی نیت سے مکان اور درگاہ شریف کے مابین عوامی شاہراہ پر خرافت و رقص کا غیر معمولی مظاہرہ کرنے لگے خادمین کے گانے بجانے والوں کو باوجود منع کرنے کے وہ اپنی شرارت پر اٹل رہے اور آگے بڑھنا نہیں چاہتے تھے جب حضرت ممدوح کے علم میں یہ بات لائی گئی تو آپ نے فرمایا اب یہ لوگ اس مقام کو عبور نہیں کرپائیں گے آپ کی لسان مبارک سے یہ جملہ ادا ہونا ہی تھا کہ ان لوگوں کے پاؤں اکڑ گئے چونکہ وہ اس کا سبب پہلے ہی سے جانتے تھے اس لیے فوراًخائف و تائب ہوکر آپ سے معذرت چاہی اور آگے بڑھنے کی اجازت طلب کی آپ نے اپنے دسترخوان کرم سے اجازت مرحمت فرمائی اور یہ لوگ اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہوئے ”مرضی مولیٰ از ہمہ اولی“ کو ہر آن پیش نظر رکھنے والی یہ عظیم ہستی اپنے والد ماجد کے وصال کے تیسرے سال بزمانہ طاعون بعمر 32 سال بروز چہارشنبہ بتاریخ 26 محرم الحرام 1330ھ اپنے مالک حقیقی کو لبیک فرمایا ”انا للہ و انا الیہ راجعون“۔ آپؒ کے وصال کے وقت آپؒ کے فرزند حضرت وہاب پاشاہ صاحبؒ بہت کمسن تھے۔ ہر سال اسی روز عرس شریف بمقام احاطہ درگاہ پیر قطب المشائخ حضرت شاہ سید پیر حسینی القادری الملتانی محققؔ امام پورہ شریف زیرسرپرستی ابو المحامد حضرت شاہ سید عبدالرزاق حسینی القادری الملتانی المعروف سید منیر الدین حسینی حفظہ اللہ تعالی خلیفہ و جانشین حضرت ابو العارف شاہ سید شفیع اللہ حسینی القادری الملتانی المعروف بہ حضرت عارف پاشاہ صاحب قدس سرہ العزیز فرزند اکبر پیر طریقت حضرت العلامہ ابو القاسم شاہ سید عبدالوہاب حسینی القادری الملتانی المعروف بہ حضرت وہاب پاشاہ صاحبؒ (سابق سجادہ نشین درگاہ امام پورہ شریف) بڑی سادگی سے انجام پاتاہے۔
