اٹوا(سدھارتھ نگر): بزم ارباب ادب اٹوا کی 79ویں طرحی نشست جناب جمال قدوسی صاحب کی سرپرستی اور جناب ہدایت اللہ خان شمسی صاحب کی صدارت اور جناب ارشد اقبال صاحب و جناب شکیل ضاغط صاحب کی مشترکہ نظامت میں جمال ٹریڈرس پر نیز بعد نمازِ عشٕاء آن لاٸن تحریری منعقد ہوئی جس میں قرب وجوار اور دور دراز کے شعرٕاء نے شرکت کی اور اپنا اپنا کلام پیش کیا۔چنندہ اشعار اردو دوست، ادب نواز، باذوق ناظرین و قارئین کی بصارتوں کےحوالے ہیں۔
دیوار کی پینٹنگ سے رِستا ہے لہو شمسی
ہر چیز سے قاتل کی تصویر جھلکتی ہے
ہدایت اللہ شمسی
سر باز، وفا پرور ہر یُگ میں جنم لیں گے
اشفاق، بھگت، بسمل، شیکھر کی یہ دھرتی ہے
جمال قدوسی
مسموم فضائیں ہیں حالات کشیدہ ہیں
گلشن سے پرندوں کی ہجرت یہی کہتی ہے
صغیر رحمانی
اربابِ خرد جیسے مدہوش ہیں خائف ہیں
ہے گنگ زَباں سچ کی کچھ کہنے سے ڈرتی ہے
ظہیر رحمانی
وہ قوم ہی کرتی ہے دنیا کی نگہبانی
میدانِ سیاست میں جو قوم نکلتی ہے
التجا حسین نور صدیقی
خوشیوں کے زمانے میں ہیں دوست رقیب اپنے
بے گانے سے لگتے ہیں جب بات بگڑتی ہے
شکیل ضاغط
بے خواب سی دولت ہے مخمل کے بچھونے پر
غربت مِرے زانو پر آرام سے سوتی ہے
ارشد اقبال
کمزوروں، غریبوں پر جب ظلم ہی کرتی ہے
ظالم یہ حکومت پھر کیوں کرنہیں گرتی ہے
سید عزیز الرحمٰن عاجز
رہتی ہے خبر جس کو ہرظلم و حوادث کی
کیوں اس کی زباں سچ کو کہنے سے ڈرتی ہے
ڈاکٹر جاوید کمال
یہ کیسی ترقی ہے یہ کیسا نیاپن ہے
انسانوں کی قیمت اب حیوانوں سے سستی ہے
جمال شاکر بھرتھناوی
اک وجد سا آتا ہے خوابوں میں ضمیر احمد
جب جلوہ ٕ احمدﷺ کی تنویرجھلکتی ہے
ضمیر قاسمی
وہ ہجر کی ماری ہے رہتی ہے بھری بیٹھی
لب کھلتے ہیں جب اس کے بس زہر اگلتی ہے
جمال اجمل
انصاف کی خاطر یاں ہر کوئی پھرے ہے یوں
جیسے کسی جنگل میں بدروح بھٹکتی ہے
دانش جمال
حالات ہیں ایسے کہ دیوانے نہ ہو جاٸیں
ہے بھیڑ میں دہشت اور تنہاٸی بھی ڈستی ہے
رحمت علی راہی
تاعمر مبیں اس کو ہم بھول نہیں سکتے
معصوم سی وہ صورت اس دل میں جو بستی ہے
عبدالمبین مبیں ایس نگری
مہتابی ترا چہرہ گردن کی یہ رعنائی
دانتوں کی چمک تیری بجلی سی چمکتی ہے
عبدالرب جوہر
یہ حسن قیامت سا قاتل سی ادا اس کی
شعلے سے نہیں کم ہے آتش سی بھڑکتی ہے
سلمان حنیف
اس موقع پر دیگر سامعین و ناظرین بھی شریکِ بزم رہے۔
