محمد ہاشم القاسمی
(خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال) موبائل نمبر 9933598528 
زندگی کا اصل حسن رشتو ں کا تقدس اور احترام ہے ۔ والدین، تائی، چچا ماموں، خالو، پھوپھا، اور بہن بھائیوں کے علاوہ بھی زندگی میں ایسے نازک اور اہم رشتے بھی ہوتے ہیں جن کو ایک خاص تناظر میں ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے اور وہ ہیں ’’سسرالی رشتے‘‘۔ ہمارے معاشرے میں مرد اس رشتے کو نہایت حسن و خوبی اور فراخ دلی کے ساتھ نبھانے میں تو کامیاب نظر آتے ہیں، دلہن کی والدہ (خوشدامن /ساس) دلہن کے والد (خسر /سسر) دلہن کے بھائی (سالے) دلہن کی بہن (سالیاں) دلہن کے دیگر رشتہ داروں یہاں تک کہ دلہن کی سہیلیوں کے ساتھ بھی حسن سلوک اور بلند اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ایک کامیاب مرد کا کردار ادا کر لیتے ہیں، مگر اس معاملہ میں زیادہ تر عورت کو ان رشتوں سے نباہ کرنا مشکل پڑتا ہے۔ شادی کے بعد عورت کا سب سے زیادہ واسطہ اور تلخ تجربہ اپنے گھر میں ’’ساس‘‘ یعنی شوہر کی ماں سے ہی پڑتا ہے۔ اکثر گھرانوں میں شادی کے کچھ ہی دنوں کے بعد ساس، بہو کے جھگڑے شروع ہوجاتے ہیں. بہو اگر اپنی ساس کو ماں سمجھ کراس کے ساتھ حُسنِ سلوک روا رکھے تو زندگی پر سکون گزر سکتی ہے زرا سوچیں کہ ایک معاشرے کی تشکیل دینے میں اس کی تعمیر کے وقت اپنی خوشیاں، اپنی ذات اور اپنی پہچان بھلا دینے والی اور اپنی ہستی مٹا کر گھر کی شناخت کو ترجیح دینے والی کون ہوتی ہے؟ دنیا جانتی ہے کہ وہ فرد اور کوئی نہیں صرف ماں ہوتی ہے ۔
اپنی سوچ اور نت نئے خوابوں کا گلا گھونٹ کر معاشرے کے لگے بندھے اصولوں کی آبیاری کرنے والی، اپنی خواہشوں کو بھول کر رشتوں کی ترجیحات میں درجہ بندی کرتے ہوئے اپنا آپ گنوانے والی، اپنی عمر کی نقدی دوسروں کی ضروریات پر خرچ کرنے والی اور اپنی ذات کو مٹا کر دوسروں کو پہچان دینے والی کون ہوتی ہے؟ کسے نہیں معلوم وہ دنیا کی عظیم الشان ہستی ماں ہوتی ہے۔اپنی قطرہ قطرہ کشید کی ہوئی خواہشوں کا رس اپنوں کی پیاس کے صحرا پہ لٹا دینے کا ظرف رکھنے والی ماں کا یہ کردار، ایثار، قربانی اور بےمثال محبت کا انمول کردار ہوتا ہے. وہ ماں ہزاروں لڑکیوں کو چھوڑ کر اپنے لخت جگر بیٹے کے لئے تمہارا اپنے بیٹے کی بیوی کی نسبت سے انتخاب کر کے معاشرے کے تمام نیتی رواج کا احترام کرتے ہوئے لاکھوں روپے خرچ کر کے اپنے دل میں لاکھوں ارمان لئے تم کو اپنے گھر بیاہ کر لاتی ہے. لہٰذا ایک بہو کا فریضہ بنتا ہے کہ وہ مادیت اور مغربی تہذیب سے بے پرواہ ہو کر مشرقی تہذیب کی تحت اپنی نئی زندگی کی شروعات کچھ اس طرح سے کرے کہ دیکھنے والے دیکھیں کہ آج کے دور میں لڑکیاں ہر رشتے کو نبھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں وہ کوشش کرتی ہیں خواہ وہ رشتہ بیوی کا ہو ، بہو کا ہو، بھابھی کا ہو، دیورانی کا ہو یا پھر جٹھانی کا۔ وہ اپنے اچھے رویے اور رکھ رکھاؤ سے سسرال میں نام اور جگہ پیدا کرسکتی ہیں، حقیقت یہی ہے کہ میاں بیوی کا باہمی اور اسی طرح سسرالی رشتہ حسنِ اخلاق، حسنِ معاشرت اور ہمدردی وایثارکے جذبہ سے ہی چل سکتا ہے، شریعتِ مطہرہ نے میاں بیوی کے حقوق میں توازن برقرار رکھا ہے اور حسنِ معاشرت کا حکم دے کر یہ واضح کیا ہے کہ میاں بیوی کا رشتہ باہم اخلاقیات اور ایثار و ہمدردی سے چلتا ہے، نہ کچھ چیزیں بیوی کے ذمہ لازم کیں، اور نہ ہی کچھ چیزیں شوہرکے ذمہ لازم کیں ہیں ، لیکن حسنِ معاشرت کے باب میں دیانۃً اور اخلاقاً یہ چیزیں دونوں کی ایک دوسرے پر لازم ہیں۔
لہذا عورت کے ذمہ ساس کی خدمت اگرچہ شرعاً واجب نہیں ہے، لیکن اَخلاقی طورپر عورت کو اِس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ اُس کے شوہر کی ماں ہے، جس طرح اپنی ماں کی راحت کا خیال رکھتی ہے اسی طرح شوہر کی ماں کی خدمت اور اُن کو راحت پہنچانا اُس کی اخلاقی ذمہ داری میں شامل ہے۔ لیکن اس میں یہ پہلو بھی پیشِ نظر ہونا چاہیے کہ شوہر اپنی بیوی کو اپنے والدین کی خدمت پر یا ساس کا اپنی بہو کو خدمت پر مجبور کرنا اور اس پر ظلم جبر کرنا درست نہیں ہے،(بلکہ خود شوہر پر اپنے والدین کی خدمت کرنا ضروری ہے) یعنی دونوں طرف اعتدال کی ضرورت ہے، ساس کو چاہیے کہ وہ اپنی بہو کو اپنی بیٹی کی طرح سمجھے، اور اس کے دکھ درد میں شریک ہو، اور بہو کو چاہیے کہ وہ ساس کو اپنی ماں کی طرح سمجھے اور اس کی خدمت کو اپنے لیے دنیا و آخرت کی سعادت سمجھے، اس سے گھریلو زندگی میں خوش گوار ماحول پیدا ہوگا، اور میاں بیوی کا ازدواجی رشتہ پائدار اور مستحکم ہوگا۔
حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی رحمۃاللہ علیہ اپنی معرکۃ الآراء کتاب ’’بہشتی زیور‘‘ میں خواتین کو خطاب کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ ’’جب تک ساس خسر زندہ رہیں ان کی خدمت کو، ان کی تابعداری کو فرض جانو، اور اسی میں اپنی عزت سمجھو، اور ساس نندوں سے الگ ہوکر رہنے کی ہرگز فکر نہ کرو، ساس نندوں سے بگاڑ ہوجانے کی یہی جڑ ہے، خود سوچو کہ ماں باپ نے اسے پالا پوسا اور بڑھاپے میں اس آسرے پر اس کی شادی بیاہ کیا کہ ہم کو آرام ملے اور جب بہو آئی، ڈولے سے اترتے ہی یہ فکر کرنے لگی کہ میاں آج ہی ماں باپ کو چھوڑدیں ۔۔۔ جو کام ساس نندیں کرتی ہیں تو اس کے کرنے سے عارنہ کرو، تم خود بے کہے ان سے لے لو اور کردو، اس سے ان کے دلوں میں تمہاری محبت پیدا ہوجائے گی‘‘۔ (بہشتی زیور، حصہ چہارم، نکاح کا بیان) ساس اور بہو کا یہ جھگڑا دراصل ملکیت کا ہوتا ہے، اور دونوں عورت خواہ ساس ہو یا بہو کے اندر احساس ملکیت اس قدر شدید ہوتا ہے کہ اس میں شراکت برداشت کرنا اس کے لیے قابل قبول نہیں ہوتا۔ بیوی کی حیثیت سے جس طرح وہ سوتن کو دیکھتی ہے، اسی طرح ساس کی حیثیت سے وہ بہو کو برداشت کرنے کے لیے بڑی مشکل سے تیار ہوتی ہے۔جب گھر میں ایک عورت بہو بن کر آتی ہے تو بیٹے کے وقت اور مال و دولت میں بھی شریک بنتی ہے۔ پھر یہ بات بیٹے کی ماں یعنی ساس کے لیے برداشت کرنا ذرا مشکل ہوجاتا ہے۔ اگر بہو نرم اور ٹھنڈے مزاج کی مالک ہے تو وہ ابتدائی سختیوں کو آسانی سے سہہ جاتی ہے، اور ساس کی سخت سست کو برداشت کرتی رہتی ہے، لیکن اگر تنک مزاج ہے تو بس جوابی کارروائیاں بھی شروع ہوجاتی ہیں، پھر تکرار میں جانبین کی آواز تیز اور تلخ ہوتی جاتی ہے جن کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوتا۔ پھر آپس میں محبت اور خلوص کے بجائے اگر دیکھا جائے تو اس رشتے میں حسد کا جذبہ بھی فعال کردار ادا کرتا ہے۔ انسان میں احساس ملکیت، سوچ، تکبر اور تکبر کے بعد حسد کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ ساس اور بہو کے درمیان ہونے والے تنازعات میں اگر بہو ساس کو ماں کے برابر عزت دے جب کہ ساس بہو کو بیٹی کا درجہ دے دے تو ان لڑائی جھگڑوں میں پچاس فیصد کمی لائی جاسکتی ہے۔ساس اور بہو کے درمیان چھوٹی موٹی نوک جھونک تو روز مرہ کا معمول ہے لیکن اس حد تک نہیں ہونی چاہیے کہ معاملہ لڑائی جھگڑے تک پہنچ جائے۔ ساس بہو کا رشتہ ایک مقدس رشتہ ہے اگر حقیقت میں اس رشتے کو پہچان لیا جائے تو ہر قسم کی قباحتیں ختم ہوجائیں گی۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ بہو ساس کو ماں کا درجہ نہیں دے پاتی اور ساس کا رویہ بھی شفیق ماں جیسا نہیں رہتا۔ خاندانی سسٹم کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے ضروری ہے کہ ساس اور بہو ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھیں گھروں میں ساس اور بہو کی لڑائیاں زیادہ تر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے ہوتی ہیں۔ اگر خاوند اپنی بیوی کو ایک دائرہ کار میں رکھے اور خود ماں کا احترام کرتے ہوئے بیوی کو گھر میں والدہ کے مقدم ہونے کا احساس دلاتا رہے تو اس سے گھریلو ماحول میں نہ صرف توازن پیدا ہوگا بلکہ اس کے بچوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ گھروں میں زیادہ تر جھگڑے اس لیے ہیں کہ ہم اسلامی تعلیمات سے دور ہوتے جا رہے ہیں اپنی حدود میں رہیں تو یہ جھگڑے ختم ہوسکتے ہیں۔ والدین جن کی ساری عمر بیٹے کی پرورش اور تعلیم پر صرف ہوجاتی ہے، بیٹے کی شادی کے بعد ان کی اولین خواہش ہوتی ہے کہ آنے والی بہو ان کی خدمت کرے۔ اگر اس وقت بیٹا اس بیوی کی باتوں میں آکر والدین کی نافرمانی شروع کردے تو والدین کے لیے یہ ناقابل برداشت ہو جاتا ہے، جس سے گھریلو ماحول میں عدم توازن پیدا ہونا یقینی بات ہے۔ اکثر گھرانوں میں ساس اپنی بہو سے یہ توقع رکھتی ہیں کہ وہ ان سے بھی اسی شدت سے محبت کرے جس طرح وہ اپنے والدین سے کرتی ہے اور ہر بات پر اپنی بہو کا مقابلہ اپنی بیٹی سے کرتی ہے، اسی طرح بہویں بھی اپنی ساس سے یہ توقع کرتی ہیں کہ وہ اسی مامتا بھری محبت کا اظہار ان سے کریں جیسا وہ اپنی بیٹی سے کرتی ہیں اور اپنا مقابلہ اپنی نند سے کرتی ہیں۔ ایسی صورت میں دونوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیوں کہ یہ سوچ اور توقعات غیر فطری اور غیر حقیقت پسندانہ ہیں اور ایسی توقعات نہ پوری ہونے کی صورت میں ساس بہو کے تعلقات میں مایوسی کے ساتھ ساتھ کشیدگی اور تناؤ پیدا ہوتا ہے، جو بڑھ کر دونوں کے درمیان فاصلے پیدا کر دیتا ہے۔ساس اور بہو کو اس حقیقت کا احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ خونی رشتوں کا مقابلہ تعظیمی رشتوں سے کرنا حقیقت پسندی نہیں۔ ساس اور بہو کے رشتے اور تعلقات کا انحصار ایک دوسرے سے برتاؤ پر منحصر ہے۔ اگر دونوں ایک دوسرے کا مقام و مرتبہ تسلیم کریں، ایک دوسرے کے ساتھ عزت اور محبت سے پیش آئیں، ایک دوسرے کی ضروریات اور احساس کا خیال رکھیں اور دکھ سکھ میں شریک رہیں تو یہ رشتہ مضبوط، پائدار اور مثالی ہو جاتا ہے، اور کبھی کبھی یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ یہ رشتہ خونی رشتہ پر بھی سبقت لے جاتا ہے۔ ہر رشتہ محبت، اخلاق، سامنے والے کا خیال رکھنے اور قربانی سے مضبوط ہوتا ہے اور اس میں پہل بہو کی جانب سے ہونا زیادہ موثر ہے کیوں کہ وہ سسرال میں باہر سے آتی ہے اور اپنے حسن سلوک اور بلند اخلاق سے اپنی جگہ بناتی ہے۔ اس کے برخلاف یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ محبت نچھاور کرنے کی شروعات ساس کی جانب سے ہونی چاہیے اس لئے کہ وہ اس کے بیٹے کی بیوی ہے۔ اگر وہ بہو کو بیٹی کی طرح محبت دے تو توقع ہی نہیں یقین کیا جاسکتا ہے کہ بہو بھی بیٹی جیسا برتاؤ کرے گی، دوسری اہم بات یہ ہے کہ شروع ہی سے بہت زیادہ توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہئیں تاکہ بعد میں مایوسی اور شکوے شکایات نہ ہوں۔کسی بھی بہو کا یہ ذہن بنالینا کہ اب میرا اپنی ساس سے نبھا نہیں ہوسکتا، آگ پر تیل ڈالنے کے مرادف ہوگا اور معاملے کو مزید بگاڑ دے گا، اور اگر بہو ہی اپنا ذہن تبدیل کرلے اور اپنے رویّے میں تھوڑی بہتری لے آئے تو حیران کن نتائج سامنے آ سکتے ہیں، اس بات کو ایک فرضی حکایت سے یوں سمجھئے
ایک بہو اپنی ساس سے تنگ آکر یہ بڑا فیصلہ لینے پر مجبور ہو گئی کہ ساس کو راستے سے ہی کیوں نہ ہٹادوں؟ چنانچہ اس نے اپنی ساس کو راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا۔ ایک دن بہو ایک حکیم صاحب کے پاس گئی ۔ اور اپنی داستانِ غم سنانے کے بعد کہا حکیم صاحب مجھے تھوڑا زہر دے دیں تاکہ اپنی ساس سے پیچھا چھڑا سکوں۔ حکیم صاحب مسئلہ سمجھ گئے تھے لہٰذا انہوں نے اس کے حل کے لئے ایک حکمتِ عملی اپنائی اور کہا بیٹی! اگر تم اپنی ساس کو جان سے مار ڈالنے کیلئے فوری زہر استعمال کرو گی تو سب تم پر شک کریں گے، اس لئے میں تمہیں یہ جڑی بوٹیاں دے رہا ہوں یہ آہستہ آہستہ جسم میں اپنا اثر پھیلائیں گی اور کچھ دنوں بعد وہ مر جائیں گی ۔ بس تم ہر روز کچھ اچھا پکانا اور اس میں یہ جڑی بوٹیاں ڈال دینا اور ہاں ! اگر تم چاہتی ہو کہ کوئی تم پر شک نہ کرے تو یہ خیال رکھنا ہوگا کہ تمہارا رویّہ انکے ساتھ بہت دوستانہ ہو۔ ان سے لڑائی مت کرنا، ان کی ہر بات ماننا اور انکے ساتھ بالکل سگی ماں جیسا برتاؤ کرنا۔ بہو حکیم صاحب کو ان باتوں پر عمل کا یقین دلایا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے جڑی بوٹیاں لے کر گھر چلی آئی۔ اب وہ موقع بموقع کوئی اچھی چیز پکا کر اپنی ساس کو خاص طور پر پیش کرتی۔ کسی بھی معاملے میں ساس بات کرتی یا ڈانٹتی تو وہ حکیم صاحب کی نصیحت کے مطابق غصے پر قابو رکھتے ہوئے اپنی ساس کی خدمت کرتی اور ہر بات کا جواب حسنِ اخلاق سے دیتی۔ کچھ ہی مہینے گزر ے تھے کہ ، گھر کا نقشہ ہی تبدل چکا تھا۔ بہو کی خدمت، باادب گفتگو اور سلیقہ شعاری ساس کو اس قدر بھائی کہ وہ اُسے اپنی بیٹیوں کی طرح سمجھنے لگی۔ ساس کی طبیعت میں نرمی، بہو کی جانب جھکاؤ اور بیٹی جیسا سلوک دیکھ کر بہو بھی ساس کو اپنی ماں کی طرح سمجھنے لگی تھی۔ بہو ایک دن پھر حکیم صاحب سے ملنے گئی اور کہنے لگی: حکیم صاحب اب آپ مجھے کوئی طریقہ بتائیے کہ میں اپنی ساس کو اس زہر کے اثر سے کیسے بچاؤں؟ جو میں نے اُنہیں دیا ہے، میری ساس اب بہت بدل گئی ہیں، اور میں بھی ان سے بہت پیار کرتی ہوں اور میں نہیں چاہتی کہ وہ اس زہر کی وجہ سے مر جائیں۔ حکیم صاحب مسکرائے اور کہنے لگے: تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں، میں نے تمہیں زہر دیا ہی نہیں تھا بلکہ جو جڑی بوٹیاں میں نے تمہیں دی تھیں وہ طاقت کی تھیں تاکہ تمہاری ساس کی صحت بہتر ہوجائے، زہر صرف تمہارے ذہن اور رویّے میں تھا لیکن وہ سب تم نے اپنے پیار سے ختم کردیا، جاؤ اور خوش و خُرم زندگی گزارو. ایک گھریلو سروے کے مطابق ٪50 فیصد لوگوں نے ان لڑائی جھگڑوں کی وجہ ساس کو قرار دیا ہے جب کہ ٪40 فیصد نے کہا ہے کہ ان جھگڑوں کی وجہ بہو ہوتی ہے، اور ٪10 فیصد لوگوں نے ان جھگڑوں کا ذمہ دار لڑکے یعنی شوہر کو قرار دیا ہے۔ ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ دراصل ہمارے معاشرے میں جب ایک لڑکی کی شادی ہوتی ہے تو وہ اپنے شوہر کے ساتھ مل کر صرف ایک نئی زندگی کا آغاز نہیں کر رہی ہوتی ہے، بلکہ وہ ایک خاندان کا حصہ بن کر اسے اپنی زندگی کا نئے سرے سے آغاز کرنا پڑتا ہے۔ ہر خاندان کے اپنے طور طریقے اور ملنے جلنے کے آداب ہوتے ہیں۔ معاملات طے کرنے کا اپنا اپنا انداز ہوتا ہے۔ آنے والی لڑکی خواہ وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، اس کا پس منظر بالکل علیحدہ ہوتا ہے۔ جب لڑکی اس حقیقت کو نظر انداز کر کے اپنے انداز سے زندگی گزارنا چاہتی ہے تو دراصل یہی لڑائی کی اصل وجہ ہوتی ہے۔ اس لئے تمام والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹی کی پرورش اس انداز سے کریں کہ وہ سسرال کو پرایا گھر نہ سمجھے بلکہ اپنا گھر سمجھے لیکن آج کل ہمارے ہاں لڑکیوں کے لیے والدین کی تربیت میں کمی واقع ہوگئی ہے۔انسان اپنی مختصر سی زندگی میں برداشت اور تحمل سے کام لیتے ہوئے تمام رشتوں کے تقدس اور ان کے حقوق کی پاس داری کرے۔ آپس میں محبت اور سلوک سے مل جل کر رہنے کا لطف اٹھائے تو یہی کامیاب زندگی ہے۔ لڑائی جھگڑے کرنے اور ایک دوسرے کے حقوق غصب کرنے والے نہ خود چین اور سکون سے رہ پاتے ہیں اور نہ دوسروں کو رہنے دیتے ہیں۔ آخر میں سوائے باہمی نفرت کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔***

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے