تعزیت بر وفات : مسیحائے قوم وملت الحاج گلزار احمد اعظمی نوراللہ مرقدہ
سکریٹری قانونی امداد کمیٹی جمعیۃ علماء مہاراشٹر
🖋️ مقیت احمد قاسمی گونڈوی
__________________________
آج ۲۰/اگست ۲۰۲۳ ع بروز اتوار صبح ساڑھے دس بجے سکریٹری قانونی امداد کمیٹی جمعیۃ علماء مہاراشٹرا الحاج گلزار احمد اعظمى كا انتقال ہوگيا، إنا لله وإنا إليه راجعون، إن لله ما أخذ وله ما أعطى وكل شيء عنده بأجلٍ مسمّى، فلتصبر ولتحتسب۔
آج جبکہ پورے ملک میں مسلمانوں کے خلاف منافرت کا طوفان سا اٹھا ہوا ہے، برسہا برس سے جیلوں میں قید مسلم نوجوانوں کی کربناک صورت حال آنکھیں نمناک کرنے کے لئے کافی ہیں۔ ان مسلم نوجوانوں کے ماتھے پر دہشت گرد ہونے کا کلنک محض اس لئے چپکا دیا گیا ہے کہ ان کا تعلق اسی ملت بدنصیبہ سے ہے جسے مسلمان کہا جاتا ہے اور جس پر دہشت گردی وملک سے غداری جیسے الزامات کا کاپی رائیٹ تصور کیا جاتا ہے۔ دہشت گردی کے الزامات میں جیلوں میں قید ان معصوموں کی گرفتاری سے لے کر جرم قبول کروانے تک اور پھر عدالتوں میں پیشی سے لے کر چارج شیٹ داخل کئے جانے تک کا مرحلہ اس قدر دلدوز ہے کہ اس کے تصور سے روح کانپ اٹھتی ہے۔ محض شک کی بنیاد پر گرفتار اور پھر متواتر تھرڈ ڈگری کے ٹارچر سے گزرنے کے بعد ان بے قصوروں کے پاس اتنا حوصلہ بھی نہیں رہتا ہے کہ وہ زندگی میں کبھی اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکنے کا تصور کرسکیں، مگر الحاج گلزار احمد اعظمی مرحوم تھے کہ جنہوں نے ان بے سہاروں کے لئے ایک مضبوط سہارا بن جاتے اور نہ صرف سہارا بنتے بلکہ ان کی آواز بھی بن کر ان کو رہا کرانے تک مسلسل کوششیں کرتے رہتے۔ اور اس کوشش میں کتنی دشواری سے گذرتے تھے ایک انٹریو میں آپ نے بتا یا تھا ” کہ دہشت گردی میں ماخوذ مسلم نوجوانوں کے مقدمات کی پیروی کے نتیجے میں مجھے مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں ملتی رہتی ہیں۔ ریاستی حکومت کی جانب سے مجھے تحفظ فراہم کیا گیا ہے لیکن مجھے معلوم ہے کہ یہ تحفظ محض ایک دھوکہ ہے۔ اصل تحفظ تو اللہ رب العزت کا ہے جس کی رضا کے لئے ہم بے قصوروں کی گردنیں چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ اس راہ میں میری جان چلی جاتی ہے، میرے بعد اور کوئی اللہ کا بندہ کھڑا ہوگا جو اس کام کو آگے بڑھائے گا”
یقیناً آپ ملت کے دردمند قائد، ماہر قانون داں، مسیحائے قوم وملت، اور بے قصور محروسین کی آواز بھی اور آسرا بھی تھے، آپ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔آپ کا انتقال کسی عظیم سانحہ سے کم نہیں ہے۔
آپ قانونی امداد فراہمی کے علاوہ کئی اہم تعلیمی اداروں کے ذمہ دار بھی تھے، اور مقدمات کی پیروی کے ساتھ ساتھ آپ تعلیم کے میدان میں بھی بڑی خدمت انجام دے رہےتھے ، آپ کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے ،درجات کو بلند کرے اور ملت کو آپ کابدل عطاء فرمائے۔آمین۔
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
شریک غم
مقیت احمد قاسمی گونڈوی
امام وخطیب مسجد ناصر العلوم وصدر مدرس ناصر العلوم اسٹیشن روڈ صاحب گنج بڑگاؤں گونڈہ یوپی
20/08/2023
