ابو احمد مہراج گنج

آزاد بھارت کی تاریخ میں مسلمانوں کے بیچ سے بہت سے سیاست دانوں نے جنم لیا اور اپنے سیاسی سمجھ بوجھ کا استعمال کرتے ہوئے قوم اور ملک کو فائدہ پہنچایا۔گذشتہ بیس سالوں کے دوران بھی بہت سے پڑھے لکھے ،خاندانی، ٹیلینٹیڈ اور ان پڑھ گنوار سبھی قسم کے لیڈر مسلمانوں کی صفوں میں سے آۓ اور وقت کی رفتار کا سامنا کرتے ہوۓ جس دئیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جا ئے گا کے مانند صفحہ سیاست سے گذرگئے۔

لیکن ان سبھی کے بیچ ایک ستارہ سیاست کے افق پر نمودار ہوا اور اپنی روشنی بکھیرتے ہوئے أگے بڑھتا رہا۔بڑھتا رہا اور آج آسمان سیاست کاستارہ نہیں سورج بن کر دمک رہاہے،اور ہر چہار جانب اپنی فکری جولانیوں اور سیاسی بصیرتوں کا لوہا منوا رہا ۔دنیا جسے اسد الدین اویسی کے نام سے جانتی ہے ۔

آج کی اس تحریر میں ہم اویسی صاحب کی چند خصوصیات پر نظر ڈالیں گے جن کی بدولت اویسی صاحب سیاست کے میدان میں تیزی اور تندہی کے ساتھ آگے بڑھتے جارہے ہیں اور ان شاءاللہ بڑھتے جائیں گے ۔

تندئ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

یہ تو چلتی ہیں تجھے اونچا اڑانے کے لیے

اویسی صاحب کی سب سے اہم خصوصیت جس نے ان کو سیاست کے میدان میں آگے بڑھایا وہ ہے ان کا مسلم ایشوز پر آواز بلند کرنا ،جب بھی کوئی ملی مسئلہ ہو سب سے پہلے جو آواز کانوں میں سنائی دیتی ہے وہ اویسی صاحب کی ہی ہوتی ہے ۔جس سے ظاہر ہے کہ وہ ہمہ وقت حاضر اور تیار رہتے ہیں ۔ قومی اورملی مسائل پر سیاسی مفادات کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں ۔

دوسری اہم خصوصیت جس نے اپنوں اور غیروں میں مقبولیت دلائی وہ ہے ان کا وسیع مطالعہ ۔وہ بھارتیہ مسلمانوں کے لیڈروں میں سب سے زیادہ پڑھتے رہنے والے لیڈر ہیں ۔بھارت میں شاید ہی کوئی ایسا مسلم لیڈر ہو جو کسی بھی ٹاپک پر زبان کھولے تو اپنے اور بیگانے سب کو سننے پر مجبور کر دے ۔بلاشبہ اویسی صاحب جب کسی ٹاپک پر گفتگو کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ شاید انھوں نے اس پر پی ایچ ڈی کیا ہے ۔یہ ایسی خصوصیت ہے جس کے نتیجے میں اپنے اور بیگانے سبھی اپنی معلومات میں اضافے کے لیے اویسی صاحب کو بادل ناخواستہ سننے کو مجبور ہوتے ہیں ۔بالیقین یہ اویسی پر اللہ رب العزت کا خصوصی کرم ہے۔ایں سعادت بزور بازو نیست تانبخشد خداۓ بخشندہ ۔

تیسری اہم خصوصیت ہے جس سے اویسی صاحب کی شخصیت مزید نکھر جاتی ہے وہ ہے ان کا خود کو مسلمان بناۓ رکھنا۔اپنی وضع قطع اور ڈریسنگ سنس سے وہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ سب سے پہلے مسلمان ہیں پھر کچھ اور ہیں ۔اویسی صاحب کی ڈاڑھی ہی کیا کم تھی زغفرانی اور جنیو دھاری گینگ کے دردسر کو بڑھانے کے لیے اس پر مزید ان کی تاج شاہی کو شرمندہ کرنے والی ٹوپی ،اور سر سیداحمد خان، مولانا محمد علی جوہر، مولانا حسرت موہانی مولانا ابوالکلام آزاد کے طمطراق کی نشانی شیروانی تو مخالفین کے دلوں میں نشتر چبھاتی ہے۔ لیکن وہ اویسی ہے جسے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔

میرا خیال ہے کہ اویسی صاحب کی شخصیت اور ان کے بڑھتے اثرات سے سجادہ نشینوں ،پشتینی رہنماؤں اور سیکولرازم کی ٹوپیاں پہنانے والوں کو اپنی گدی۔کرسی۔اور پارٹی کے لیے درپیش خطرہ نظر آنے لگا ہے اور وہ مایوسی اور دہشت کے زیر اثر اویسی صاحب کو بی ٹیم سی ٹیم کہہ کر مخاطب کرتے ہیں ۔

لیکن بڑے افسوس سے یہ بھی کہنا پڑتا ہے کہ اویسی صاحب کی پارٹی کے ضلعی عہدوں پر وہ حضرات فائز ہیں ۔جو نہ تو پڑھنے لکھنے کا ۔مشغلہ رکھتے اور نہ ملی، سماجی اور سیاسی شعور رکھتے ہیں ۔بلکہ وہ صرف اویسی صاحب کے نام پر اپنی ایمیج میکنگ کررہے ہیں ۔اپنے وجود اور اپنی ذات کو اویسی صاحب کی زندگی اور ان کے عادات و اوصاف کا پرتو بنانے پر توجہ ہی نہیں دیتے۔جبکہ اویسی صاحب بارہا یہ کہتے ہیں کہ میں ان کو لیڈر بنانا چاہتا ہوں لیکن یہ اپنے لیڈر کی کوالٹی کو اپنانے کے بجاۓ لیڈر پرستی کو سیاسی ترقی کی کلید سمجھ رہے ہیں ۔

اللہ کرے کہ میرے لیڈر اور میرے رہنما کی حیثیت اور اہمیت کا ادراک ان لوگوں کو بھی ہوجاۓ جو ابھی کسی سیاسی بہکاوے کا شکار ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے