از محمد مامون الرشید رشیدی پریہار سیتامڑھی بہار
☘️☘️☘️☘️☘️
ہم نے از اول تاآخر تعلیم یوپی کی مشہور ومعروف علمی وخانقاہی ادارہ مدرسہ اسلامیہ عربیہ بیت العلوم سراٸے میر اعظم گڑھ یوپی میں حاصل کی ہے اسکی اصل وجہ میرے والد بزرگوار حضرت مولاناحافظ محمد ھارون الرشید صاحب المظاہری رحمة اللہ علیہ سابق استاد مدرسہ بیت العلوم سراٸے میر خادم خاص حضرت مولاناسید عاقل صاحب ناظم اعلی وشیخ الحدیث مظاہرالعلوم سہارن پور ہیں۔
جوکہ خود بھی فارسی سے مشکوة شریف تک، اور مظاہر علوم سے فراغت کے بعد مدرسہ ھذإ کے *معلم و مٶذن و نگراں دارالاقامہ* مقرر ہوٸے اور پینتیس سال تک خدمت کرتے رہے۔
بعدہ علالت نے گھیر لیا اور کلمہ طیبہ پڑھتے ہوٸے داعی اجل کو لبیک کہہ گٸے ۔
اللہ تبارک وتعالی سے دعإ ہے کہ اللہ والد بزرگوار رحمة اللہ علیہ کی بال بال مغفرت فرماٸے آمین۔
دیگر صوبوں کے مدارس اور ہمارے یہاں کے احوال:
دیگر صوبوں کے مدارس میں اکثر ذہنی فکری آزادی ہے غلامانہ ذہنیت جیسے حالات نہیں ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے اساتذہ اور طلبہ یکسوٸی سے رہتے ہیں
دیگر صوبوں کی شخصیت :
ہم مدرسہ منبع العلوم میں پڑھارہے تھے دیکھاکہ وہاں کے ناظم صاحب مہینہ مکمل ہوتے ہی (حضرت مولانا محمد حفیظ الرحمن صاحب رحمة اللہ علیہ نقشبندی مجددی) تنخواہ اساتذہ کے کمرہ میں پہونچا دیتے تھے اور کہتے کہ رجسٹر میں دستخط کردیں گے۔ بعض دفعہ دیکھا کہ اگر کسی استاد کے نکالنے کی نوبت بھی آتی تو بار بار موقع دیتے تاکہ وہ انہیں سدھار کرلیں اگر سدھار نہ ہوتا تو شعبان رمضان کی ڈبل تنخواہ اور دس شوال تک کی تنخواہ دیتے اور کہہ دیتے کہ آپ کہیں اور جگہ لگ جاٸیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ ہمارے یہاں شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو۔ دوسرے صوبوں میں تنخواہ وقت پر ملتی ہے اور سالانہ بغیر کہے بڑھا دی جاتی ہے
بہار میں اپنی من مرضی ہے:
حفظان صحت کا خیال رکھتے ہیں یعنی کھانا ناشتہ عمدہ خود بھی کھاتے ہیں اور کھلاتے بھی ہیں۔ طلبہ اگر کھانے کی شکایت لیکر ذمہ داران کے پاس جاتے ہیں تو اس کی اصلاح کی پوری سعی کرتے ہیں، توجہ دیتے ہیں۔
دوسرے صوبوں میں چندہ کرنے والے اساتذہ کو کہا جاتا ہے کہ آپ مدرس ہیں، آپ اے سی کا ٹکٹ لیں، اس کے بعد سفر کریں۔ ہمارے یہاں جنرل ڈبے کی تبلیغ و ترغیب دی جاتی ہے۔
دوسرے صوبوں میں طلبہ کی اکثریت پر نہیں بلکہ تعلیم و تربیت اور حفظان صحت پر توجہ دیتے ہیں اور یہاں سب مفقود ہے ۔
دوسرے صوبوں میں اکثر نظمإء بعد تربیت نفس و اجازت شیخ مدرسہ کھولتے ہیں جو ہمارے یہاں بہت کم ہے۔
ہمارے یہاں کے اساتذہ مچند ہوتے ہیں، نوکر ہوتے ہیں، صرف اخلاص کا سبق مدرسوں کیلٸے ہے۔
بیچارے مدرسوں کا حال:
جب ایک مدت پوری ہوجاتی ہے نقاہت گھیرنے لگتی ہے اب بیچارے کو دن میں ستارے نظر آنے لگتے ہیں اسی کے برعکس اکثر نظمإء تو آخر تک جوان رہتے ہیں الٹی سیدھی کرتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے مال کی کثرت ہوتی ہے
مدرسوں پر ظلم:
ہمارے یہاں اکثر مدرسوں کو یہ فکر لاحق رہتی ہے وسعت کے باوجود کتنے کم سے کم پہ کم تنخواہ والے مدرس مل جاٸیں مل بھی جاتے ہیں نقصان یہ ہوتاہے کہ پڑھنے لکھنےکے ہوتے نہیں اب وہ چاپلوس بن کر مدرسہ کے تعلیمی وقار کو مجروح کرتے ہیں
دوسرے صوبوں میں اساتذہ سے کچھ کام لیتے ہیں تو پھر کچھ نہ کچھ معاوضہ دیتے ہیں جو یہاں بہت کم دکھنے کو ملتا ہے ۔
کاش ہمارے اساتذہ اپنی تمام تر ہمتوں کے باوجود ایک ہوکر اپنے حقوق طلب کرتے
ہمارے یہاں بکثرت دیکھنے کو ملتا ہے کہ مدرسہ کھولنے کے بعد پڑھنے پڑھانے سے دل اٹھالیتے ہیں اور ہمارے یہاں اکثر ملک میں جہاں بھی گٸے یہی کام کرتے ہیں بس چوبیسوں گھنٹہ چندہ ہی دل ودماغ پر سوار رہتاہے حالانکہ پڑھانا یہ بڑاکار ثواب ہے ادھر توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے نیز اوقات مدرسہ کابھی خیال نہیں رکھتے
اللہ تبارک وتعالی نظمإء حضرات کو اوقات مدرسہ اور اموال مدرسہ کی حفاظت کی توفیق عطإ فرماٸے آمین۔
