بیدر2؍ستمبر (پریس نوٹ):  یکم ستمبر جمعہ کو بعد مغرب اسلامی لائبریری، رٹکل پورہ بیدرمیں محفلِ مشاعرہ کا انعقاد عمل میں آیا جس کی صدارت جناب سید لطیف خلشؔ نے کی جبکہ نظامت کے فرائض محمدیوسف رحیم بیدری نے انجام دئے۔ مشاعرہ کا آغازمفتی افسرعلی نعیمی ندوی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ ابتدائی کلمات پیش کرتے ہوئے محمدیوسف رحیم بیدری نے بتایا کہ عرصہ دراز کے بعد محفلِ مشاعرہ کا انعقاد عمل میں آیا ہے۔ اگر محبانِ اردو ادب چاہیں گے اور رب کا فضل وکرم شامل حال رہا تو ان ادبی محفلوں کی سرگرمیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔ موصوف نے آگے کہا کہ ایم آرایف نامی تنظیم نے بیدر کے الامین ڈگری کالج میں اپنی جانب سے ایک ماہی TET امتحانات کی مفت تیاری کروائی تھی۔ اس کے اختتامی اجلاس میں یہ بات سامنے رکھی کہ اردواسکولوں کی آسامیوں کے حصول کے لئے ابتداء میں بڑی جستجور ہتی ہے، جب سرکاری اردو اسکولوں میں ملازمت مل جاتی ہے تو اس کے تین سال تک بڑا اہتمام ،اور بڑی ایمانداری برتی جاتی ہے۔پھراس کے بعد چراغوں میں روشنی باقی نہیں رہتی۔ اِمسال بیدر میں 20تا25سرکاری اردواسکول بند کردئے گئے۔ ان اسکولوں کو بند کرنے کی وجہ یہ رہی کہ ٹیچرس نے اول تا چہارم اسکولوں کوپنجم سے ششم تک بڑھانے میں دلچسپی نہیں لی اور اپناٹرانسفر ان دیہاتوں سے کرواکر شہربیدر کے قریبی اسکولوں میں پڑھانا شروع کردیا۔ چوں کہ کئی سرکاری اسکولوں میں ایک یادوٹیچر ہی تھے، اوروہ بھی وہاں سے ٹرانسفر لے کر شہریااس کے قریب چلے آئے تو ان اردو اسکولوں کو بند کردِیاگیا۔

جناب محمدیوسف رحیم بیدر ی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اگر طلبہ اردو نہیں پڑھیں گے اور اسی طرح اردو اسکول بند ہوتے رہیں گے تو پھر اردو ادب کو ، ہمارے لکھے گئے کلام کو پڑھنے والے بھی نہیں رہیں گے ۔ جس پر ہم شعراء اور ادباء تشویش کااظہا رکرتے ہیں۔ اردوکے اساتذہ سے ہماری اپیل ہے کہ وہ اردو اسکولوں کو بچانے ہی نہیں بلکہ اردواسکولوں کے جال کو دوردورتک پھیلانے کاکام انجام دیں۔ زبان کی خدمت کرتے ہوئے کچھ تکلیف اگر اٹھانی پڑتی ہے تو اس کااجراساتذ ہ اپنے رب کے ہاں موجودپائیں گے۔ بعدازاں مفتی افسرعلی نعیمی ندوی کے کلام سے محفلِ مشاعرہ کاآغاز عمل میں آیا۔ حالات حاضرہ پر کافی جذباتی کلام مفتی صاحب نے پیش کیاجس کی پذیرائی ہوئی۔ جناب رحمت اللہ رحمتؔ (شیموگہ) نے ابتداء میں چارچارمصرعہ قرآن مجید کی مختلف سورتوں کو بنیاد بناکر پیش کئے۔ پھر ایک غزل پیش کی۔ ان کے کلام کو کافی سراہا گیا۔

بزرگ مؤظف پرنسپل اور صاحب ِ دیوان شاعر جناب محمد کمال الدین شمیم ؔ نے چند قطعات اور ایک غزل پیش کی۔انھیں بھی دادوتحسین بھرپور ملی۔ جناب امیرالدین امیرؔ نے مسلسل کئی غزلیں سناکر دل جیت لیا۔ میرؔبیدری نے دوغزلیں پیش کیں ۔ پھران کے بعد جناب سید لطیف خلشؔ صدر مشاعرہ نے اپنا کلام پیش کیا۔ اس طرح محفل ِ مشاعرہ اپنے اختتام کوپہنچی۔ اردو ادب کوچاہنے والے چارمہذب نوجوانوں نے شرکت کی تھی جب کہ ماسٹر الطاف اور سراج الحسن شادمان نے انتظامی اُمور کی دیکھ بھال کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے