محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک۔
۱۔ڈاکٹر کامشورہ:۔
میں ڈاکٹرتھالیکن اکثربیمار رہاکرتاتھا۔ پھرایک دن مجھے صحت مندی کانسخہ مل گیا۔
اب میں کسی سے نہیں کہتاکہ صحت مندی کے لئے فوری طورپر ڈاکٹر کو اپنی بیماری دکھانی چاہیے۔صرف اتناکہتاہوں کہ رب کی عنایت کافی ہے۔اگرطبیعت مائل ہوتو دوبارہ ڈاکٹرکو دِکھالیں ورنہ نہیں
۲۔ املی کاکھٹا:۔
نظم اس قدر بگڑا ہواتھاکہ ہر شخص گویا زبان ِ حال سے جیسے کہہ رہاہو۔ اسی کو نظم کہتے ہیں، یہی آج کا تقاضہ ہے لہٰذاتمہاری سمجھ میں نہ آرہاہوتوچھوڑ کر چلے جاؤ۔مولوی صاحب عمر بھر اسی بگڑے تِگڑے نظم کے ساتھ نباہ کرتے رہے کہ اگر چھوڑ کر چلے جائیں تو دنیا کیاکہے گی ؟
عسکر فیض کو پتہ چلاتو اس نے برجستگی کے ساتھ کہا’’دراصل مولوی صاحب املی کے کھٹے کے دیوانے تھے ، اس لئے منہ کولگاکھٹا عمر بھر چھوٹ نہ سکا‘‘
۳۔کباب :۔
قصائی نے گوشت کی چھوٹی بڑی بوٹیاں کیں اور ایک تھیلی میں ڈال کر مجھے پکڑا دیں تو مجھے لگاکہ چھوٹے بڑے سائز کے پچاسوں افسانچوں کے کچے خاکے اس تھیلی میں ہیں۔اور مجھے تھوڑی محنت کے بعد انہیں اپنے قارئین تک کباب بنا کر پہنچادینا ہے۔
۴۔ شکریہ پارٹنر:۔
ساراگھر بلکہ بچوں کی دیکھ بھال اورپسند کے ڈاکٹرس سے علاج کرانے کی ذمہ داری اس نے بچوں کی ماں کی خواہش کے عین مطابق اسی پر عائد کررکھی تھی ۔ اب وہ خالی بیٹھاہواتھا۔ اسے قطعی لگتانہیں تھاکہ اس کابھی کوئی گھر ہے جس کاوہ ذمہ دار ہے اور وہاں اس کی بھی کوئی بات سنی جاتی ہوگی یعنی اس کی اپنے ہی گھر میں نہیں چلتی تھی لیکن گھر کاپورا نظم جیسے خودکارطریقے سے چل رہاتھا۔اُسے صرف اتناکرنا ہوتاتھاکہ اپنی کمائی کی پائی پائی لاکر بیوی کے ہاتھ پررکھنی ہوتی تھی۔اور وہ پوری فرماں برداری کے جذبہ سے بیوی کے ہاتھوں پراپنی ماہانہ کمائی رکھ دیتااوربیوی کے گال پر بوسہ دینا نہ بھولتاجیسے کہہ رہاہو’’تھینک یوپارٹنر‘‘
۵۔اچھاسوال :۔
خوشی کے موقع پر بھی خوش رہتے رہتے اداس ہوجایاکرتاتھا۔ ایسا مسلسل ہورہاتھا۔ ایک دن اس نے خود سے سوال کیا ’’آیا، میں صوفی ہوتاجارہاہوںیا کسی دیوانگی نے میرے جسم وجاں میں گھر کرلیاہے ؟‘‘
اسے کوئی جواب نہ ملا۔ لیکن یہ سوال اس کو مسرت بخش گیاجیسے کہہ رہاہو، صحیح سوچ رہے ہو، سوال کرتے رہو، جواب ایک نہ ایک دن ملنا ہی ہے ۔
۶۔ تیرے بِن :۔
وہ تین دن سے اپنے میکے میں ہے اور گھر سنسان پڑاہے۔ جیسے ہی وہ واپس آئے گی گھر جاگ جائے گا۔ اس کی ویرانی اور سنسان پن فوری ختم ہوگااورمیں اس کی آمد پر دل ہی دل میں مسکرادوں گالیکن زبان سے کہوں گاکہ ’’اور بھی کچھ دن میکے میں گزار کرآئی ہوتی ، میراکیاہے ، تمہارے بنارہ سکتاہوں میں ‘‘مگر ایک بات نوٹ کی گئی ہے کہ وہ میری بات سن کر مسکرادیتی ہے۔ کچھ کہتی نہیں ہے ۔ اس کی مسکراہٹ میں شاید یہ پیغام چھپا ہوتاہے ’’میں سب جانتی ہوں کہ آپ اور یہ گھر میرے بناکتنے دِن رہ سکتے ہیں ؟‘‘
۷۔سناتن دشمن لوگ :۔
وہ لوگ اسلام کے پیچھے پڑے تھے کہ اچانک ہی ایک نوجوان آوازاٹھی کہ سناتن دھرم کو ختم کردیاجائے۔ میں حیرت زدہ ساسوچ رہاہوں کہ اسلاموفوبیامیں مبتلا لوگوں کے لئے شایدایک اور نئی مصیبت کھڑی ہوگئی ہے۔جو جیساکرے گا ویسا بھرے گا سے قطع نظر افسوس اس بات کا ہے کہ مذاہب کارول سماج میں متنازعہ بنادیاجارہاہے۔ اُدھریورپین چرچ چھوڑکربھاگ رہے ہیں اوراِدھر جنوبی ایشیاء میں سناتن دھرم کوختم کردئے جانے کی بات اٹھی ہے۔ دیکھنا ہوگاکہ آگے کیاہوتاہے ۔
لیپ ٹیپ بندکرکے کرسی پر دراز ہوکرمیں نے اپنی آنکھیں بند کرلیں اورفکرمند ہوگیاکہ یار ، سب کوچھوڑیں، سوال یہ ہے کہ اسلام غالب کب ہوگا؟تاکہ میرے ساتھ ساتھ انسانیت بھی سکون کاسانس لے سکے۔

