کتبہ: محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی
میں معلم ہوں تدریس ہے شیوہ میرا
نامہذب کو میں تہذیب کی لودیتا ہوں
میری ہستی ہے ضیا خلق امت کیلئے
میں زمانے کو نئے عزم کی لودیتا ہوں ،
غالباً ارسطو کا قول ہے” والدین بچے کو زمین پر اتارتے ہیں اور اساتذہ آسمان پر لے جاتے ہیں ”
جسطرح ایک مضبوط و خوبصورت عمارت کی تعمیر کے لئے ایک ماہر تعمیرات اور فن میں کمال رکھنے والا انجینیئر کی ضرورت ہوتی ہے بالکل اسی طرح ایک بچے کو ہونہار وقابل بنانے کیلئے ایک محنک ،تجربہ کار اور مخلص معلم کی سرپرستی ضروری و لابدی ہے ،بیج کو تناور و پھلدار درخت بنانے کیلئے جیسے ایک کسان ہمیشہ مستعد رہتا ہے ٹھیک ویسے ہی ایک استاد اپنے شاگرد کو باکمال بنانے اور عروج وارتقاء کی منازل طے کرانے کی کوشاں میں رہتا ہے ،
معزز قارئین : حقیقت یہ ہے کہ معلم کی کتاب حیات کے ورق ورق اور سطر سطر پرصرف علم نہیں بالکل محبت لکھی ہوتی ہے ،مخلص معلم طلباء کیلئے نیک تمناؤں ،صالح آرزؤوں کا ایک سمندر اپنے دل میں رکھتا ہے ،کیونکہ معلمی تو پیغامبری ہے ،معلمی یہ کوئی پیشہ نہیں یہ محبت وعقیدت کا دوسرا نام ہے ، معلم ہی مفتاح العلو والارتقاء ہے اسی لئے مخلص معلم کی صحیح تعلیم کو بے لوث تعلیم سے موسوم کیا جاتا ہے ، معلم کے کارناموں ،ان کے جہود وتضحیات پر متنبی کا یہ شعر صادق آتا ہے ،
وعلیٰ تفنن واصفیہ بوصفہ
یفنی الزمان وفیہ مالم یوصف،
’’یعنی اس کے کارنامے اتنے بلند اور زیادہ ہیں کہ گننے والا،شمار کرنے والا کوئی جائزہ نہیں پیش کر سکتا۔‘‘
ہم کسی معین دن کے "ٹیچر ڈۓ ” کے قائل نہیں ، ہماری زندگی کے سارے ایام معلم کے لئے تبجیل واکرام کے سوغات پیش کرتاہے ، ہم مخصوص دن میں پھول ہار پہنا کر ادا کاری نہیں کرتے ، جبکہ بہت سارے ٹیچر ڈۓ منانے والے اساتذہ کے ساتھ برا سلوک وتعامل کرتے ہیں ،اساتذہ پر لاٹھی چارج کردیتے ہیں ،اسٹرائیک تک نوبت آجاتی ہے ۔ جبکہ ہمارا مزاج ہے کہ ہم مخلص اساتذہ کو ” إِنَّ مِنْ إِجْلالِ اللَّهِ تَعَالَى: إِكْرَامَ ذِي الشَّيْبةِ المُسْلِمِ، وَحَامِلِ الْقُرآنِ غَيْرِ الْغَالي فِيهِ والجَافي عَنْهُ، وإِكْرَامَ ذِي السُّلْطَانِ المُقْسِطِ "لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا، وَيَعْرِفْ شَرَفَ كَبِيرِنَا” کی نظر سے دیکھتے ہیں ، ہم اپنے اساتذہ کے احترام اور ان کی صحت وعافیت کیلئے ہمیشہ دعاء کرتے ہیں ، یہ ہمارا موقف ہے جو بالکل واضح ہے ۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسے مخلص و پاکباز اساتذہ سے تعلیم دلائے جن کے اندر علم کے ساتھ ساتھ تربیت دینے کا جذبہ و ہنر بھی ہو۔
