ابو احمد مہراج گنج
اسرائیل اور فلسطین کے حماس کے درمیان جو کنفلکٹ اور خونی کھیل چل رہا ہے وہ اذا یئس الانسان طال لسانہ* کسنور مغلوب یصول علی الکلب کے مصداق پر صادق آتا ہے ۔مطلب تنگ آید بجنگ آید ۔
اب تک تو آپ نے فلسطین اور اسرائیل کے تعلق سے بہت ساری تحریریں پڑھ لی ہوں گی اور بہت سارے لعنت و ملامت اور دعا و درود کے ورد سے اپنے سرسے بوجھ کو ہلکا بھی کرلیا ہوگا۔اس سے زیادہ ہم اور آپ کر بھی کیا سکتے ہیں جب ہم صرف اس پر یقین رکھتے ہیں کہ "دعا مومن کا ہتھیار ہے” ۔ بغل میں موجود مصر لبنان سیریا جارڈن ایران،عراق،ترکی،سعودی بھی یہی کررہے ہیں اور جب تک فلسطین کا وجود باقی ہے تب تک کرتے بھی رہیں گے ۔
اور سوفیصد سچ یہی ہے کہ اس سے نہ تو فلسطین کی زمین سے یہود کا غاصبانہ قبضہ ایک انچ گھٹے گا اور نہ ہی فلسطین کی مقدس سرزمین پر بہنے والا خون رکے گا ۔
دراصل ساٹھ ستر سالوں میں ہم اہل اسلام اور مسلمانوں نے خود کو خوش خوراک اور خوش لباس بنانے پر توجہ مرکوز کی ہے۔گلف اور جزیرۃ العرب کے ممالک نے تو خوش خوراکی اور خوش لباسی کو ہی اپنا مطمح نظر بنایا ہواہے۔نہ تو بیرونی مداخلت سے نمٹنے کیلئے کوئی سیکریٹ پلان ہے اور نہ ہی بہترین تعلیمی ادارے ہیں اور نوجوان تو خیر ماشاءاللہ پزہ ،برگر،کولڈ ڈرنک کے ہمراہ آئی فون ,14,13, میں پب جی اورفری فائر پر فائرنگ میں مصروف ہیں ۔افسوس تو مجھے جب بھی نہیں ہوا جب سعودی حکومت کے مذہبی امور کے شعبہ سے فتویٰ جاری ہوا کہ پب جی کے متعارف نئے ورژن میں کعبۃ اللہ کی توہین پر مبنی گرافس ہیں نوجوان اس سے احتراز کریں ۔
کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ ” دنیا کی ہر چیز چین میں پیدا ہوتی ہے لیکن مرد اور مردانگی فلسطین میں”
عرب کے مسلمان اسرائیل کے خلاف کھڑے بھی ہوں گے تو مسجد کے مصلے پر اور اسرائیل کی تباہی کی دعائیں بھی مانگیں گے تو اس حال میں کہ پیٹ میں یہودیوں کی پیدا کی ہوئی چکن کا بریانی اور چکن روسٹ رول ہوگا،گلے میں پیپسی اور کوکاکولا کے مرداربنانے والے گھونٹ ہوں گےاور جس مائک سے ہم دعائیں رب کی بارگاہ میں پیش کررہے ہوں گے وہ ساونڈ سسٹم بھی یہودیوں کے ہوں گے۔عجب نہیں کہ وہ ایک کرکے سب کو دبوچے گا اور سب فارمی مرغیوں کو طرح اپنی اپنی باری کا انتظار کر رہے ہوں گے اور جب نمبر آۓگا تو تھوڑا سا پھڑپھڑانے لگیں گے لیکن وہاں ان کی پھڑپھڑاہٹ کو دیکھنے اور سمجھنے والا کوئی موجود نہیں ہوگا۔
آپ کو یقین ہو یا نہ ہو اسرائیل فلسطین کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی غلطی کبھی نہیں کرے گا ،جانتے ہیں کیوں؟؟ کیوں کہ فلسطین اور حماس اسرائیل اور اس کے آقاؤں کی نظر میں وہ پچ ہے جس پر بیٹنگ کرکے امریکہ اور برطانیہ خلیجی ممالک کو اپنی گرفت میں لئے ہوئے ہیں اور اپنی بگڑیل اولاد اسرائیل کو فنڈنگ کرکے ان سارے پڑوسیوں کو نکیل لگاۓ رکھتے ہیں جو تیل اور گیس کے ذخائر سے مالامال ہیں ۔
سن 48میں جب اسرائیل وجود میں آیا اور 70،75سالوں میں اس نے اپنے آقاؤں کی فنڈنگ اور اپنی ہمہ جہت کوشش سے اس خطہ میں سپریم پاور بن چکا ہے اور اس کے پڑوسی ملک مصر، لبنان ،جارڈن ،سیریا ،عراق ایران اور سعودی عرب ،ترکی نے کیا کیا سوائے مسلکی منافرت اور خوش لباسی اور خوش خوراکی کے۔جب کہ اسرائیل دنیا کو جدید ٹیکنالوجی فراہم کرانے میں سب سے آگے ہے ۔جدید جنگی ہتھیار ایکسپورٹ کرنے کا ریکارڈ بردار ہے۔ذرائع مواصلات سب اس کے ہاتھ میں ہیں ،اسرائیل ذراعت۔تجارت،صنعت،میڈیکل غرضیکہ لوازمات زندگی کے ہر فیلڈ میں اپنے پڑوسیوں سے برتر اور بہت بہتر ہے تو اس کا زعم اور خود اعتمادی اور خود مختار ی کا ٹشن تو رہے گا ہی لیکن پھر بھی وہ فلسطین کو ختم نہیں کرے گا بلکہ قسطوں میں پر کو کتر کتر کے زخم دے گا اور بڑے بڑے ہورڈنگ بورڈ لگاکر بتاۓ گا کہ خیبر تمہارا آخری دن تھا اور اب ہمارا دن ہے۔
اس خطے میں اسرائیل کے قیام کے ساتھ ساتھ تین نسلیں پروان چڑھ چکیں ہیں اور مصالحت پسندی میں اپنے پیش روں سے بھی پیش پیش تو یہ امید رکھنا کہ عالم عرب یا عالم اسلام اسرائیل کو نیست ونابود کردے گا یا صفحہ ہستی سے مٹادے گا سوائے خواب وخیال کے کچھ اور نہیں ہوسکتا ۔
یہ باتیں نہ تو فلسطین کی مخالفت میں لکھی گئی ہیں اور نہ ہی اسرائیل کی حمایت میں بلکہ کھلی آنکھوں سے جو دیکھا جارہا ہے اس کو بلا لومت لائم قلم بند کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات۔

