ارضِ فلسطین کی تاریخ سے امت مسلمہ کو واقف کرانا وقت کی اہم ترین ضرورت
از قلم : مجاہد عالم ندوی
صدر مدرس : مدرسہ مریم لتعلیم البنات تین کھمبا بیلا ارریہ بہار
فلسطین کی تاریخ ایک چیختی ، بلکتی ، سسکتی اور خونی داستان ہے جو ہزاروں سال سے جاری ہے ، فلسطین کے تاریخ کا آغاز قدیم زمانے میں ہوا جب یہ علاقہ مختلف بادشاہوں اور سلطنتوں کے زیر اختیار رہا یہ علیحدہ تاریخی مواقع کا حصہ رہا ہے ، مگر اس سے بھی پہلے یہ کئی انبیاء کا مسکن اور پناہِ ہجرت رہا ہے ، جس کی وجہ سے یہ مختلف مذاہب کے عقیدے کا حصہ بن جاتا ہے ، عقیدے کے لحاظ سے یہ تین مذہبوں کے عقیدے کا حصہ ہے ، جس میں مسلمان اور اہل کتاب شامل ہیں۔
تاریخِ فلسطین دنیا کی سب سے طویل اور متنازع تاریخ ہے جو اول تو نبیوں کا مسکن اور ارضِ من و سلویٰ رہا ، مگر پھر بعد میں فساد ، نافرمانی ، قتل و غارت گری ظلم و زیادتی کا مسکن بن گیا ، جو بنی اسرائیل سے لے کر آج تک یہودیوں اور عیسائیوں کی وجہ سے یہ پاک اور مقدس سرزمین خون سے لبریز ہے ، اور آج وہاں کی عمدہ نشانیوں کو بم اور گولی کے دھوؤں سے بدل دیا گیا۔
کچھ تاریخی واقعات:
1. ارضِ فلسطین کی تاریخ کا جب بھی تذکرہ کیا جاتا ہے تو جو علامت سب سے پہلے دل و دماغ میں گشت کرنے لگتی ہے وہ ہے مسجدِ اقصٰی ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فلسطین کی طرف ہجرت فرمائی اور مسجد اقصٰی کو 1850 قبلِ مسیح میں بنوایا ، یہ مسجد کعبتہ اللّٰہ کے چند ہی سال بعد بنی ، اس سلسلے میں حضرت ابوذر رضی اللّٰہ عنہ کی روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد حرام ( یعنی خانۂ کعبہ) انہوں نے عرض کیا پھر کون سی مسجد بنائی گئی تو آپ نے فرمایا کہ مسجد اقصٰی یعنی بیت المقدس راوی کہتے ہیں کہ میں نے پھر عرض کیا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ تھا تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ 40 برس کا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاں نماز کا وقت ہو جائے وہیں نماز پڑھ لو وہی مسجد ہے۔ (صحیح البخاری )
2. 300 قبل مسیح کنعانیوں نے اس کی تعمیر کی۔
3. 931 تا 970 قبلِ مسیح فلسطین پر حضرت سلیمان علیہ السلام نے حکومت کی اور ہیکلِ سلیمانی کی تعمیر کروائی۔
4. 587 قبلِ مسیح بُخت نَصْر ایک بڑی فوج کے ساتھ شام پر حملہ آور ہوا ، جہاں بنی اسرائیل کی حکومت تھی اور بیت المقدس بھی اسی کا ایک حصہ تھا ، بخت نصر نے یہودیوں کی مقدس عبادت گاہ ٫٫ ہیکلِ سلیمانی ٬٬ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ، پورے بیت المقدس شہر کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ، بے شمار یہودی مرد و عورت ، بوڑھوں ، جوانوں اور بچوں کو تہہ تیغ کردیا ، جو زندہ بچ گئے ، انھیں قیدی بنا کر بابُل لے گیا اور غلاموں اور باندیوں کی حیثیت سے انھیں اپنی رعایا پر تقسیم کردیا ( سورۂ اسرا )
5. بخت نصر کے بعد بابل کی حکومت کمزور پڑ گئی اور فارس کے فرمانروا سائرس دوم ( جس کو بائبل میں خورس کے نام سے ذکر کیا گیا ہے ) نے بابل پر حملہ کیا اور شکست دے کر بابل پر قابض ہو گیا ، اور اس نے 539 قبلِ مسیح میں اعلان کیا کہ سارے یہودی بیت المقدس ( یروشلم ) میں جمع ہو جائیں ، چنانچہ اس نے یہودیوں کو یہاں آباد کیا اور ہیکل سلیمانی کے تعمیر کرنے کی اجازت دے دی ، 515 قبل مسیح میں ہیکل کی تعمیر نو مکمل ہوئی ، افسوس کہ اس کے بعد بھی یہودیوں کی نافرمانیاں جاری رہیں ۔
6. 67 عیسوی میں ٹائٹس ساٹھ ہزار فوجیوں کے ساتھ فلسطین پر حملہ آور ہوا اور مختلف علاقوں کو فتح کرتے ہوئے اس نے 70عیسوی میں بیت المقدس پر قبضہ کر لیا ، ہیکل سلیمانی کی دوبارہ اینٹ سے اینٹ بجا دی ، دس لاکھ سے زیادہ یہودی مارے گئے اور ایک لاکھ سے زیادہ قید کئے گئے اور انھیں غلام اور باندی کی حیثیت سے بیچ دیا گیا۔
7. پھر 132 یا 135عیسوی میں رومی بادشاہ ہدریان نے فلسطین پر حملہ کیا اور وہاں سے یہودیوں کو نکال باہر کیا۔
8. سن 400 تا 636 تک القدس بز نطینی استعمار کی حکومت میں رہا۔
9. 636 عیسوی کے بعد مسلمانوں نے معرکہ یرموک کے بعد القدس کو آزادی دلائی۔
10. تقریباً 622ء میں حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو معراج کا سفر اسی مقام سے کرایا گیا۔
11. تاریخ کا سب سے سنہرا باب اور ہمارے عقیدے کا حصہ یہ ہے کہ نماز کی فرضیت کے بعد یہ غالباً 16 مہینے تک مسلمانوں کا قبلہ رہا ہے۔ (صحیح البخاری)
12. 638 عیسوی میں تین ہزار صحابہ کرام نے القدس کو فتح کیا اور یہاں کے ایک پادری نے شہر کی چابیاں حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کے حوالے کی اور کچھ معاہدہ کیا۔
13. 705ء میں ولید بن عبدالملک جب تخت نشیں ہوا تو اس نے وہاں گنبد والی خوبصورت عمارت تعمیر کرائی۔
14. 1099ء میں عیسائیوں نے اس کو قبضہ کرلیا۔
15. 1187ء میں مجاہد اسلام سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللّٰہ نے عیسائیوں کو شکست دی اور القدس کو آزاد کرایا۔
16. 1516ء خلافت عثمانیہ نے القدس کو اپنی خلافت کا حصہ بنایا اور میدان صلاح الدین کی تعمیر کرائی۔
17. 1917 عیسوی میں پہلی جنگ عظیم ہوئی خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا اور القدس پر انگریزوں کا قبضہ ہو گیا۔
18. نومبر 1917ء کو جارج بالفور سے ٫٫ بالفور ٬٬ نام کا معاہدہ ہوا اور اس کے تحت القدس میں یہودی ریاست قائم کرنے کا وعدہ کیا گیا۔
19. 1948ء میں انگریز یہاں سے چلے گئےاور اسی سال 14/ مئی کو فلسطین کے 78 فیصد علاقے میں اسرائیلی ریاست کے قیام کا اعلان کیا گیا اور تل ابیب کو اس کی راجدھانی بنایا گیا۔
20. 1967 عیسوی میں یہود نے فلسطین کے باقی بچے ہوئے علاقوں پر قبضہ کر لیا اور عرب دیش خاموش رہا۔
21. اکتوبر 2016ء میں اقوام متحدہ کا ایک بیان آیا کہ مسجد اقصٰی مسلمانوں کا حق ہے اور اس پر یہود کا کوئی دعویٰ نہیں ہو سکتا۔
22. نومبر 2016ء میں ڈونالڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر بنے اور ٹھیک ایک سال بعد 6/ دسمبر 2017ء میں اپنی حکومت کے نشے میں اسرائیل کی راجدھانی کو تل ابیب سے یروشلم میں تبدیل کردیا جس پر فلسطینیوں نے خوب احتجاج کیا مگر سوائے ہلاکتوں کے کچھ نہ ملا۔
23. جب صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور اسرائیل کا ظلم و ستم انتہا کو پہنچ گیا تب 7/ اکتوبر 2023ء کو حماس نے غزہ سے اسرائیل پر حملہ کیا اور اسرائیل کا جوابی حملہ اب تک جاری ہے خدا اہلِ غزہ کو سلطان صلاح الدین ایوبی جیسی طاقت اور ہمت بخشے اور فتح و نصرت مقدر بنائے۔ آمین ثم آمین۔
