(خصوصی کالم)
نوراللہ خان
برصغیر کے اندر نہ موجودہ صدیقی فیملی میں مکمل صداقت ہے نہ فاروقی خاندان میں عدل فاروقی ہے۔ نہ عثمانیوں میں کماحقہ حیا باقی ہے۔ اور نہ علویوں میں شجاعت ہے۔ اور اسی طرح نہ خان صاحبان میں وہ سماجی جلوہ ہے اور نہ ہمت ہے ، نہ انصار یوں میں وہ مدد کا جذبہ ہی ہے۔
صداقت، عدالت اور شجاعت نہ ہو تو مسلکی مسجد کی امامت غیر معقول تنخواہ میں تو مل سکتی ہے مگر دنیا کی امامت کیلئے درج بالا اوصاف حمیدہ سے ہی متصف ہونا ہوگا تاکہ آپ “ سلطان جابر” کے سامنے کلمہ حق سنا سکیں۔ ہمیں ہجرت کا تصور زندہ رکھنا چاہئے تاکہ میر جعفر کے بجائے “ جعفر طیار “بن کر “ سلطان جابر “کی شکایت کرسکیں اور دربار میں پہونچ کر بخشش اور دعوت کے بجائے اپنی دعوت دے سکیں۔ اور میر صادق بننے کے بجائے ہمیں صداقت کے ساتھ رہنا چاہئے تاکہ ہم صادق اور امین بن سکیں جو کہ ہمارا شعار تھا اور ہماری پہچان تھی۔
ہمارا کردار ایسا ہونا چاہئے کہ ہم امین اللہ نامی مسلمان نہ ہوں بلکہ اللہ کی امانت کا بھی خیال رکھیں۔ اور اسم با مسمی ہوں ۔ پڑوسی امن کمار کا بھی دھیان رکھیں۔ اور ایسا ماحول بنائیں کہ امن کمار اور امان اللہ بالکل امن وامان کے ساتھ ایک مثالی سماج میں ایک ساتھ رہ سکیں۔ مگر یہ اس وقت ممکن ہے جب ہم اپنے دین کو اللہ کی امانت سمجھیں، اسکا حق ادا کریں اور اپنے فرض کو ادا کریں۔ اور گفتار نہیں بلکہ کردار کے غازی ہوں۔
یہ تلخ حقیقت ہے کہ ہمارا کردار جب تک انسانیت سے بھرا ہوا تھا ، غیروں کے لئے ہم مفید تھے تو ہم دنیا کو عدل فاروقی دے رہے تھے۔ اور جب سے ہم صرف گفتار کے غازی ہوگئے تب سے ہم نجومیوں کی دوکانوں پر تقدیر سیدھی کرانے لگے۔ جب تک ہم دعا اور دوا دونوں ساتھ رکھتے تھے تو ہم کرہ ارض پر واقع چوالیس ممالک کے حکمراں تھے۔ اور جب تک ہم آمین کہتے ہوئے اللہ سے لو لگائے ہوئے تھے تو دعائیں قبول ہورہی تھیں اور جب ہم آمین بالجہر اور آمین بالسر کہتے ہوئے دوسروں کی تضحیک اور تنقیص میں پڑگئے مذہب کے بجائے مسلک میں پھنس گئے تو ہماری دعاؤں میں اثر باقی نہیں رہا۔ اور نہ ہی ہماری اذانوں میں روح بلالی رہی نہ ہی فلسفہ میں تلقین غزالی باقی بچی ہے۔
