محمدیوسف رحیم بیدری
بیدر، کرناٹک۔ موبائل :9141815923
۱۔ زہریلگی :۔
بلائیں گھومتی رہتی تھیں۔ بہت پہلے ان بلاؤں سے اُسے ڈرلگتاتھا۔ شادی کے بعد اس نے سمجھا کہ انسانوں سے بڑھ کر کوئی بلا نہیں۔اور شوہر سے بڑھ کر کوئی اعتمادشکن اورزہریلا نہیں ۔
پھر ایک دن پتہ چلاکہ اُس نے خودکشی کرلی۔ جب والدین نے 150کیلومیٹر کا سفر طئے کرکے اسکے گھرپہنچ کر اس کی میت دیکھی تو پکاراٹھے یہ توقتل ہے۔لیکن ان کی پکارسننے والا کوئی نہیں تھا۔ گاؤں والوں نے بھی ان کاساتھ نہیں دِیا۔ وہ پولیس میں قتل کی رپورٹ لکھائے بغیر گھر واپس آگئے۔ اورپھوٹ پھوٹ کررونے لگے ۔ وہ خود کو بیٹی سے زیادہ بدنصیب اور مجبور سمجھ رہے تھے کہ دنیامیں ان کی فریاد سننے والا کوئی نہیں تھا۔
۲۔ ادارہ کی روحیں :۔
وہ ایک معروف ادارہ تھااور اس ادارے میں سردترین خاموشی چھائی رہتی تھی ۔ کسی نے بھی اس خاموشی کوحالات وواقعات کے حقیقی پس منظر میں سمجھنے کی شعوری کوشش نہیں کی۔ ادارہ کے عہدیداران یہ سمجھتے رہے کہ یہ خاموشی دراصل نظم وضبط کی وجہ سے ہے۔
بہت کچھ ضبط کرکے ادارہ میں رہنے والے چند افراد نے آخرتک اپنے لب نہیں کھولے ۔ وہ خاموش ہی رہے یہاں تک کہ اُن کا حقیقی بلاوا آگیا۔ وہ وہاں سے اُٹھے اور اُن کی روحیں آسماں کی نیلگوں وسعتوں میںغائب ہو گئیں۔
ان کادردجاننے والے ایک آدھ افراد میں سے ایک جذباتی شخص نے یقین سے کہا’’یہ لوگ اس وقت بولیں گے جب آخری عدالت لگے گی، لہٰذا ان پر ظلم کرنے والے ابھی سے جوابات کی تیاری کرلیں اور ہوسکے تو اپنے آپ کوانصاف پسند رب کی سزاسے بچالیں ، عزیز اورحکیم رب ہمارے معاملات کابہتر جاننے والا ہے‘‘
۳۔ اچھے لوگ :۔
وہ اچھے لوگ تھے، اسی لئے سچے لوگوں سے علیحدہ رہاکرتے تھے۔
۴۔ زندہ سوچ :۔
وہ اس کی سونچ کے ڈھانچے میں ڈھل نہیں سکتاتھا۔ ا س نے کہا ’’کچھ ایسا کر یار، تو ہی میری سوچ کے سانچے میں ڈھل جا‘‘ وہ نہیں مانی ۔پھرتو دونوں کے راستے الگ الگ ہوگئے۔
20سال بعد دونوں کسی ریسٹوران میں اچانک ہی مل گئے۔ مگر ایک دوسرے کو پہچان کربھی انھوں نے اجنبی بنناضروری سمجھا ۔ دونوں کی سوچ یقینا ابھی تک بدلی نہیں تھی ، زندہ تھی۔اوردونوں ایک دوسرے کیلئے گویازندہ لاش تھے۔
۵۔ صحیح رہنمائی :۔
وہ ایک دولت مند دوست تھا۔عرصہ بعدوہ ایک ہوٹل میںاپنے دوست کو مدعوکرتے ہوئے اس سے ملاقات کررہاتھا۔اس نے کہا’’یار!کھاناکھاتے ہی مجھے آجکل الٹیاں ہونے لگتی ہیں ،اب کچھ ہی دیر میں جب میں کھانا کھاؤں گا ،تو اس کے آدھاگھنٹہ بعد 20%کھانا حلق سے باہر آجائے گا۔ ڈاکٹروں کے علاج سے بھی یہ مرض کم نہیں ہورہاہے ‘‘
اس کا حافظ دوست فوراً بولا’’کھاناہوٹلوں کے بجائے پوشیدہ طریقے سے گھریادفتر کے اندرونی کمرے میں بیٹھ کر کھایاکرو اورکسی بھوکے کوبھی روزانہ کھلادِیاکرو ،توقع ہے کہ اس عمل سے تمہاری الٹیاں کم ہوجائیں گی ورنہ الٹیاں کم ہونے کی گولیاں کھاکھاکرتواپنے معدے کو خراب کرلوگے، ان دوائیوں کے استعمال سے آگے چل کر معدے کاکینسر ہوجائے گا‘‘
دولت مند دوست کولگاکہ عرصہ بعد ملاقات کے باوجود اس کے حافظ دوست نے اس کی صحیح رہنمائی کی ہے۔
