- محض 8 سال کی عمر میں ننھی اَمَۃُ الرحمن نے کیا حفظ قرآن کی تکمیل
- اہل خانہ، متعلقین اور قصبہ نانپارہ کے علمی حلقوں میں خوشی کی لہر، دعاء، مبارک باد اور انعامات سے کی گئی حوصلہ افزائی
نانپارہ بہرائچ (رپورٹ محمد رضوان ندوی): محض 8 سال کی عمر میں ننھی اَمَۃُ الرحمن نے جب اپنے استاد قاری جنید احمد بیگ ہربس پوری کی سرپرستی میں قرآن عظیم کی آخری چند آیات کی تلاوت کرکے تکمیل کی سعادت حاصل کی تو رشتہ داروں، اہل محلہ، متعلقین اور علم دوست حضرات میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ، امۃ الرحمن بنت مولانا محمد رضوان گوہر ندوی کے نانا سابق پردھان اکبر پور بزرگ جناب اقبال احمد کی صدارت میں ایک دعائیہ تقریب ایم این پبلک اسکول محلہ قلعہ نانپارہ میں منعقد کی گئی جس میں ننھی طالبہ کی دعاء، مبارک باد اور انعامات سے حوصلہ افزائی کی گئی.
اس موقع پر مہمان خصوصی مولانا زین العابدین قاسمی مہتمم و بانی جامعہ اشرف العلوم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ننھی بچی سب کے لئے ایک مثال ہے، اس نے محض آٹھ سال کی عمر میں ایک چھوٹے سے گھر میں جہاں مدارس کی طرح نہ تو بے شمار سہولیات ہیں نہ کوئی مرتب نظام و نصاب، نہ نگراں، نہ کوئی مہتمم اور صدر، والدین کے پاس رہ کر یہ بڑی حصول یابی قابل تقلید اور قابل رشک ہے، آج بچوں کو عالم، حافظ، قاری، ڈاکٹر، انجینئر اور مصنف و مولف بنانے کا عام روج ہے لیکن بچیوں کو علم و عمل سے دور رکھ کر صرف گھریلو کام کاج اور مردوں کی خدمات کے لئے خاص کرلیا جاتا ہے، یہ انصاف نہیں ہے، حیا اور عزت کی حفاظت کے ساتھ انھیں بھی برابر موقع دینا چاہیے، قرون اولی کی خواتین اور بچیاں، محدثات ، حافظات ،عالمات اور قارئات سب کچھ ہوتی تھیں، اسلام نے کچھ چیزوں میں استثناء کرتے ہوئے بچیوں کو بھی عظیم حقوق سے نوازا ہے، بچیاں کل قیامت میں پوچھ سکتی ہیں کہ ہمیں علم و عمل کے میدان سے کیوں دور رکھا گیا؟ تجربہ یہی کہتا ہے کہ ایک عورت بہت آسانی کے ساتھ پورے گھر اور کبھی پورے خاندان کو اکیلے پورے علاقے کے لئے جنت نظیر اور قابل تقلید بنا سکتی ہے، اس کے بگڑ جانے سے پورا خاندان زد میں آجاتا ہے، پھر ان پر پوری توجہ کیوں نہیں دی جاتی، ان کے حقوق اور ان کی صلاحیتوں کو پامال کیوں کیا جاتا ہے، پورے سال میں اور خاص کر رمضان المبارک میں خواتین مردوں سے زیادہ تلاوت کرتی ہیں، محفوظ ماحول میں وہ حافظہ اور عالمہ بن کر گھر، خاندان کی بہتر اور مفید تر خدمت و تربیت کریں اس میں عار کی بات کیا ہے؟ اس سلسلے میں توجہ اور مسلسل فکر و کوشش کی ضرورت ہے.
مشہور داعی مولانا ظفر کمال مظاہری کے مختصر خطاب اور دعاء پر تقریب کا اختتام ہوا. اس موقع پر مولانا محمد افضل ندوی، مولانا محمد احمد انصار قاسمی، مولانا اشتیاق احمد قاسمی رکنا پور، مولانا سمیع الدین قاسمی، مولانا عبد الوحید ندوی، حافظ عبد الحمید، ڈاکٹر حامد اللہ جاروپوروہ، ماسٹر کلیم الدین انصاری، حافظ عبداللہ، آفتاب احمد، ریاض الدین،مہتاب احمد، ارشاد احمد، ڈاکٹر ادیب اللہ خان، ماسٹر عاطف خان اور قاری اسرار احمد وغیرہ خاص طور پر موجود رہے.
