گورکھپور: ادارہ قلمکار پریشد، کے بینر تلے مولانا ابوالکلام آزاد کی یوم ولادت کی ما قبل شام 10 نومبر 2023 کو شہر کے متعدد دانشوران نے مولانا کی سیاسی، معاشرتی، تعلیمی وادبی خدمات کا محاسبہ و مذاکرہ کیا- سلیم انصاری کی صدارت میں ما قبل و ما بعد حریت ہند میں ان کے نا قابل فراموش قول و عمل کی اہمیت و افادیت پر وہاں موجود شرکا۶ نے روشنی ڈالی- مولانا کی شخصیت سے متعلقہ چوتھی جہت پر ایسے ایسے نکات پیش کئے گئے گویا وہاں موجود سامعین ادبی عالم نو کی سیاحت محسوس کرنے لگے۔ یسین علی یسین نے کہا کہ مولانا عظیم نثر نگار کے اعلاوہ اس سے بھی عظیم ترین شاعر تھے جس کے متعلق ان کی شان منعقد ہونے والے ادبی محافل بہت ہی کم گفتگو کی گئی ہے۔ ان کی غزلیں روایتی و کلاسیکی طرز سخن کی آئینہ دار ہیں۔ ان کی شعری تخلیقات جمالیاتی کمالات کا مرقع ہیں اور بطور یہ اشعار پیش کۓ۔۔۔۔

ان شوخ حسینوں کی ادا اور ہی کچھ ہے
اور ان کی اداؤں کا مزا اور ہی کچھ ہے
آزاد ہوں اور گیسوئے پیچاں میں گرفتار
کہہ دو مجھے کیا تم نے سنا اور ہی کچھ ہے

رئیس انور نے کہا کہ جس طرح غالب اپنی منظومات کے اعلاوہ اپنی نثر سے ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں اسی طرح مولانا آزاد بھی اپنی منثورات کے اعلاوہ اپنی شعری تخلیقات سے بھی اعلیُٰٰ و اولیٰٰ مقام پر مثل ہلال نظر آتے ہیں- توفیق احمد خاں ساحر نے بھی مولانا کے اشعار پڑھے۔۔

کُیوں اسیر گیسوئے خم دار قاتل ہو گیا
ہائے کیا بیٹھے بٹھائے تجھ کو اے دل ہو گیا
کوئی نالاں گوئی گریاں کوئی بسمل ہو گیا
اس کے اٹھتے ہی دگر گوں رنگ محفل ہو گیا
یہ بھی قیدی ہو گیا آخر کمند زلف کا
لے اسیروں میں ترے آزاد شامل ہو گیا

ونے عزیز نے کہا کہ مولانا کی غزلیں جذبات کی لطافت، افکار و احوال کی نفاست ، زبان کی سلاست ، بیان کی نزاکت اور اسلوب کی نظامت حقیقت میں ایک سحر آگیں کیفیت کے سمندر میں شناوری کراتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔

جوش وحشت میں مسلم ہو گیا اسلام عشق
پہلے تھا رخ کا تصور اب ہے گیسو کا خیال
وہ تھی صبح عشق گویا اور یہ ہے شام عشق
عرش اعظم سے بھی اونچی ہو گئی میری فغاں
آج تک پایا نہ اے ” آزاد “ ٰاوج بام عشق

محمد قدیر نے یہ کہہ کر اضافہ کیا کہ مولانا آزاد اپنی شاعری میں خوبصورت شائستگی اور حسین سلیقہ سے اشعار خلق کرتے ہیں۔
مذکورہ مذاکرہ الٰہی باغ میں واقع ادارہ قلمکار پریشد کے دفتر میں منعقد ہوا جس کی نظامت بڑے ہی مؤثر انداز میں میں ڈاکٹر دلشاد گورکھپوری نے انجام دی- یہ اطلاع ادارہ ہذا کے جنرل سیکرٹری شمیم شہزاد نے دی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے