ممتاز علماء و رفقاء ‘‘نامی کتاب کا ندوۃ العلماء میں اجراء

علمی و ددینی شخصیات و نمایاں حضرات کا تذکرہ ایک تاریخی امانت ہے ،جس کو نئی نسلوں تک پہونچانا ضروری ہے ، ہر انسان دوسرے سے سیکھتا ہے ، جن لوگوں نے بھی کمال پیدا کیا ہے ، وہ اپنے پیش رؤوں سے استفادہ کیا ہے ، یہ سلسلہ ازل سے قائم ہے اور ابد تک رہے گا ، ان خیالات کا اظہار مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی ( مہتمم دار العلوم ندوۃ العلماء ) نے اپنی ایک تازہ تصنیف( ممتاز علماء و رفقاء) کے اجراء کے موقع پر دفتر البعث الاسلامی ندوۃ العلماء میں کیا ہے ۔
مولانا نے کہا : سیرت و سوانح میرے پسندیدہ موضوعات میں ہے ، میں نے ساعۃ مع العارفین (تذکرہ اہل دل ) کے نام سے دو جلدوں میں ایک کتاب اپنی تدریسی زندگی کے آغاز میں لکھی ، پھر اللہ نے حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی ؒکی سوانح ( ۴۸ ؍ سال شفقتوں کے سائے میں ) آٹھ سو صفحات میں لکھنے کی توفیق دی ، اسی طرح ایک دور کتاب قافلہ علم و ادب کے نام سے ہے جوسات سو صفحات میں ہے ، یہ تازہ تصنیف حال میں رخصت ہونے والے علماء اور رفقاء کے حالات و سوانح سے متعلق ہے ، جس میں (۳۸) شخصیات کا مختصرو جامع تذکرہ آگیا ہے ، جن میں مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی ، مولانا محمد سالم قاسمی، مولانا عتیق الرحمن سنبھلی ، مولانا سید واضح رشید حسنی ندوی ، مشہور محقق فواد سیز کین ، ڈاکٹر اسماعیل راجی فاروقی ، مفتی فضیل الرحمن ہلال عثمانی ، مولانا مفتی محمد ظہور ندوی ، مولانا محمد یوسف اصلاحی ، مولانا محمد یوسف متالا ، مولانا ڈاکٹر یسین مظہر صدیقی ندوی وغیرہ ہیں ، یہ کتاب ایک سو پچاس صفحات پر مشتمل ہے ، یہ مکتبہ فردوس مکارم نگر سے شائع ہوئی ہے ۔
ناظر عام ندوۃ العلماء مولانا سید جعفر مسعود ندوی اور مولانا محمد علاء الدین ندوی ( صدر شعبہ عربی ندوۃ العلماء) نے اس کتا ب کو علماء و عوام دونوں کے لئے مفید قرار دیا ۔ اجراء کی اس تقریب میں ناظر عام ندوۃ العلماء مولانا سید جعفر مسعود ندوی ، عمید کلیۃ اللغۃ العربیۃ و آدابھا مولانا محمد علاء الدین ندوی ، مولانا ڈاکٹر محمد فرمان ندوی ، مولانا عبد اللہ مخدومی ندوی وغیرہ موجود تھے ۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے