محمدیوسف رحیم بیدری
بیدر، کرناٹک۔
موبائل :9141815923
۱۔ بم کلچر
سیاسی بساط الٹ کر اس پر قانونی مہریں لگائی جانے لگی تھیں۔ اپنی سیاسی بساط کو الٹتے اور اس کی آبرو کو قانونی طورپر بے آبرو کرنے کے ان مناظر سیسابقہ برسراقتدار پارٹی وحشت زدہ تھی۔ وہ سیاسی منظر نامے سے ہٹ بھی نہیں سکتی تھی کہ اس کی فکر کے لوگ اس کو ووٹ دے کریہ آس دلاتے رہتے تھے کہ تجھے زندہ رہناہوگاکیوں کہ ایک دن وہ بھی آئے گاجب تواورتیرے قائدین کو اقتدار مل کررہے گا۔مگر اس کی مخالف فکر والی سیاسی جماعت اس کوہرقدم پرشکست دینے پرتلی ہوئی تھی۔یہاں تک کہ ایک دن دہشت گردانہ حملے کے ذریعہ شکست خوردہ پارٹی کے صدر اور اس کی اہلیہ کو بم سے اڑادیاگیا۔
تب سے وہاں کے ملک میں بم کلچر ہے۔جس کسی کو صفحہ ء ہستی سے مٹاناہوتاہے ، بموں کااستعمال ایک عام آدمی بھی کرلیتا ہے۔
۲۔ اردو دانی
تعطل پر بحث چل نکلی تھی۔ اسسٹنٹ پروفیسر رشید عثمانی نے منہ میں پکڑے ہوئے گٹکھے کی طرف اشارہ کیا اور پھراس کو تھوک کر کہا’’جب تک منہ میں گٹکھاتھا ،گفتگو میں تعطل برقرار تھا، اب تھوک ریلیز کردینے کے ساتھ ہی تعطل کی موت واقع ہوگئی، اب یہاں سے کام کی بات ہوگی ، ویسے بکواس بھی کی جاسکتی ہے ‘‘
سبھی ہنسنے لگے ۔پروفیسر سہراب داشانی نے خشمگیں نگاہوں سے اپنے ساتھیوں کو دیکھا اوراس طرح کہنے لگے جیسے کلاس میں طلبہ کو لیکچردے رہے ہوں ’’تعطل ایک مرض ہے ، جب قوموں کولگ جاتاہے تو وہ قوم بزدل بن جاتی ہے اور اپنے مسائل حل کرنے کے بجائے انھیں ٹالتی رہتی ہے تاکہ وقت خودآگے بڑھ کر ان مسائل کوحل کرے‘‘کوئی کچھ نہ بولا، سبھی پروفیسرداشانی کو دیکھ رہے تھے۔ انھوں نے مزیدکہاکہ’’مسائل تاریخی ہوں ، سیاسی ہوں ،اراضی کی تقسیم سے متعلق ہوں ،یادیگر مسائل ،سبھی حل ہونا چاہیے۔ مسائل کاحل نہ ہونا دراصل تعطل کہلاتاہے‘‘
نوجوان گیسٹ لیکچررفاروق فواد نے پوچھا’’سر، ریختہ ڈکشنری نے تعطل کے معنی بیکاری ، معطلی اور بازرکھنا وغیرہ دئے ہیں، پھر توتاریخی ، سیاسی ، یا دیگر مسائل کے حل سے باز رہنا ہی تعطل کہلائے گانا‘‘
پروفیسر سہراب داشانی نے خشک نگاہوں سے دیکھااور کہا’’ریختہ کیا جانے اردو کیاہوتی ہے، اردو لغت کی بات تو اردو دانی کے بعد آتی ہے ‘‘ پھر وہ ہال سے اٹھ کرباہرچلے گئے۔
۳۔ ملازم ایپ
ایک سافٹ ویر کمپنی کولکھاگیامکتوب کچھ یوں تھا۔
ڈئر سر ، میں ڈھونڈرہاہوں ایک ایسا ایپ جومیرے پسندیدہ سارے کام کردے ۔ مثلاً میرے لئے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ فجر سے پہلے اٹھتاہوں ، اٹھتے ہی سوشیل میڈیا کے تمام پلیٹ فارم پرجھانک لیتاہوں ،سلام ولام کرتاہوں۔ کوئی مخصوص دن ہوتو اس کی مبارک باد پیش کرتاہوں۔ کہیں کمنٹ ضروری ہے تو کمنٹ کردیتاہوں۔ شیئر کرنا ہوتو وہ بھی کردیاکرتاہوں۔ کچھ پڑھنا ہے تو پڑھ بھی لیتاہوں ۔اس کے بعد میرے اپنے چند سوشیل میڈیا گروپس ہیں ، انہیں اٹنڈ کرنا ، جواب لکھنا، اور اپلوڈ کرنا یہ سب کام ہیں ۔ میں اپنی صبح کی نینداورچہل قدمی کو قربان کرتے ہوئے یہ سارے کام انجام دیتاہوں جس کی وجہ سے میری صحت متاثر ہونے لگی ہے۔
دن کے اوقات میں تو میرے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہے، میں وقفہ وقفہ سے موبائل پر سبھی پلیٹ فارم پربآسانی چلاجاتاہوں اور جو بھی ریکوائرمنٹ ہے اس کو فل فِل کردیتاہوں ۔ رات 9-10بجے کے بعدپھر سے سوشیل میڈیاپر حاضری دینا اور رات 12تا2بجے تک سوشیل میڈیا کے تمام پلیٹ فارم پررہنامیرے لئے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ اس تکلیف اور اس مسئلہ کامجھے حل مطلوب ہے۔
یہ بھی بتادوں کہ میں کون ہوں ۔ میں اکیسویں صدی کی تیسری دہائی کا ایک عام آدمی ہوں جسے انٹرٹینمنٹ اور آسانی کے نام پر یہاں الجھاکر رکھ دیاگیاہے ۔ ویسے ان انٹرنیٹی جال سے آسانیاں بلاشبہ دستیاب ہیں لیکن کیاآپ مجھے ایسا سافٹ ویر بنادیں گے جو آپ کی بنائی ہوئی دنیا سے میراحصہ مجھے دِلادے اورمجھے اپناوقت فارغ نہ کرنا پڑے یاپھر اس کے لئے مجھے روبوٹ مینوفیکچرنگ کمپنیوں کی طرف رجوع کرنا پڑے گا؟
۴۔ عیاش میکر
ہیرو کے ساتھ سونے کے دوتین سین شامل تھے۔ جس کے بعد وہ نیشنل کرش بن گئی۔اوراس طرح نوجوانوں میں برائی سرایت کرنے کااہتمام کیاگیا۔اس عمل کے خلاف کوئی آواز اسلئے نہیں اٹھی کہ ملک میں نوجوانوں کوقانونی آزادی تھی کہ وہ جو چاہیں کریں۔ اسی قانون کی آڑ میں ملک کے نوجوانوں نے ملک اور ملک کے نوجوان لڑکے لڑکیوں کو عیاش بناکر ہی چھوڑا۔ کسی دل جلے نے اس صورتحال پرپھبتی کستے ہوئے کہا’’ اینٹ سے اینٹ بجانا اسے کہتے ہیں‘‘
۵۔ادبی حسن
وہ اچانک شاعرہ بن کر نمودار ہوئی تھی۔ اس کی انٹری کوادب نواز افراد سمجھ نہیں پائے۔ وہ دیکھتے ہی دیکھتے فیس بک اور واٹس ایپ پر چھاگئی ۔اس کابولتاحسن اس کے کلام کے بجائے اس کی ترسیل کاذریعہ بننے میں ممدومددگار بناہواتھا۔بنگال سے ٹمل ناڈوتک اس کومشاعروں میں مدعوکیاجانے لگا۔پھرتودیکھتے ہی دیکھتے اس کی ترقی کاسورج زوال کی بانہوں میں سوگیا۔ اس کے زوال پرلوگوں نے اتناہی کہا’’ادب نواز حضرات بولتا اورمسکراتاجسمانی حسن نہیں بلکہ دل بن کر دھڑکتے اوراحتجاج کرتے ادبی حسن کے آرزو مندہوتے ہیں ‘‘ ۔
