ابو احمد مہراج گنج
کچھ سال پہلے تک مجھے ایک بھرم تھا کہ پڑوسی ملک پاکستان کے اسلامک اسکالرز اور ریسرچرز کے ساتھ ساتھ واعظین و مبلغین کو جدید ٹکنالوجی کے ذریعہ تعلیم و تبلیغ دین کے میدان میں بھارت کے اسلامک اسکالرز اور واعظین و مبلغین دین اسلام پر سبقت حاصل ہے۔ اور اس کا خاطر خواہ فائدہ بھی پہنچ رہا ہے ۔ لیکن میرا یہ بھرم زیادہ دیر تک برقرار نہ رہ سکا اور بالآخر مجھے یہ ماننا پڑا کہ سوشل میڈیا پر تبلیغ دین و ترویج اسلام کرنے والوں کی اکثریت اپنے تحقیق و تخریج اور تتبین و تہذیب کے نام پر عام مسلمانوں کو ان کے مذہبی پیشواؤں سے بدظن کرنے کا کام کیا ہے۔ مذہبی اور روحانی پیشواؤں کی سرمو لغزش کا اپنی علمی لیاقت اور تحقیقی مہارت کے دم پر اس طرح ڈنکا پیٹا جاتا ہے اور اپنی تحقیق کا نقارہ بجایا جاتا ہے کہ یہ گمان ہونے لگا کہ واقعتا یہ دینی اور مذہبی رہنما علم و تحقیق سے کورے اور روایت و درایت سے ناواقف ہیں، الامان و الحفیظ ۔
سوشل میڈیا پر دین کی تبلیغ اور شرع متین کی تحقیق کے نام پر تہلکہ خیز انکشافات کے ذریعے کچھ بی گریڈ علماء اور سی گریڈ کے مفتیان کرام نے صف اول کے مبلغین اسلام اور مشائخ کی جس طرح کردار کشی کی ہے وہ کسی بھی اعتبار سے قابل قبول نہیں ہے۔
سوشل میڈیا پر مولانا طارق جمیل صاحب اور پیر ذوالفقار احمد نقشبندی مدظلہم العالی کے تبلیغی اور اصلاحی تحریک سے دنیا کا کوئی گوشہ تشنہ نہیں ہوگا۔ لاکھوں لاکھ لوگوں کی زندگی میں تبدیلی اور اصلاح نفس کی خواہش حضرت پیر صاحب کے مواعظ اور نصائح و ارشادات سے عمل میں آیا ہے تو وہیں مولانا طارق جمیل صاحب کے داعیانہ کردار اور تعلیمات سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے لیکن اس کے باوجود بھی یہ حضراتِ، سوشل میڈیا کے شوقین محقیقین اور یوٹیوب کے رسیا مفتیان کرام کی
تحقیقاتی اور تجزیاتی نظروں سے محفوظ نہیں ہیں۔ بلکہ یوں کہاں جاسکتا ہے کہ یوٹیوب کے مفتیوں اور سوشل میڈیا کے اسلامک ریسرچ اسکالرز نے مولانا طارق جمیل صاحب، حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی اور مولانا محمد سعد صاحب کاندھلوی کو ہی اپنی تحقیق اور تفتیش کا مرکزی کردار منتخب کیا ہوا ہے۔
پاکستان کے ایک مفتی صاحب نے پیر ذوالفقار احمد نقشبندی دام ظلہ العالی کے مواعظ پر مشتمل ایک کتاب پر ایسا تبصرہ کیا کہ عام قاری اور سامع کا پیر صاحب سے عقیدت تو دور ان کے مواعظ سے اعتماد اٹھ جائے گا وہ اپنے تقریر میں جاہل اور جہالت پھیلانے والے کے ساتھ یہ بھی کہہ گزرتے ہیں کہ پڑھنا لکھنا تو ہے نہیں صرف پیری مریدی کرنا ہے تو ایسی جہالت کی باتیں پھیلائی ہی جائیں گی ۔
نیز بھارت کے ایک دوسرے مفتی صاحب جو اتفاق سے دیوبند جیسی جگہ پر مقیم ہیں اور یوٹیوب چینل پر اپنی تقریر نشر کرتے ہیں وہ بھی پیر ذوالفقار احمد نقشبندی کو لیکر ایک تقریر میں بے مطلب کی بات کرتے ہوئے سنے جاسکتے ہیں ۔
انھیں مفتی صاحب نے مولانا طارق جمیل صاحب کو "علامہ” لکھ لکھ کر دو تین تقریری ویڈیوز میں اپنے چینل سے خوب استہزا کیا اور اس پر توجہ دلانے پر اپنے علمیت کا رعب دکھایا ہے ۔
حد تو یہ ہے کہ یہی دیوبند کے یوٹیوب والے مفتی صاحب مولانا محمد سعد کاندھلوی کے متعلق متعدد ویڈیو تقریریں اپنے چینل پر اپلوڈ کرکے طالبان علوم نبوت کے ساتھ ساتھ عوام کالانعام کا بھی ذہن خراب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑا۔
پاکستانی مفتیوں کے پاس ایک بہانہ ہے کہ وہ درس و تدریس کی گفتگو ہے جس کو یوٹیوبر اپنے چینل پر نشر کردیے ہیں ۔اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خُدا ۔خدا را اپنا مزاج بدلئے تحقیق، تدقیق کی جگہ کلاس روم اور مسند درس و تدریس ہی ہے ایسی باتوں کو یوٹیوب کی تجارتی منڈی میں پھیلانے سے اجتناب کرنا چاہیے ۔
بھارت کے دیوبند میں موجود یوٹیوب والے مفتی صاحب تو بالقصد تحقیق و تخریج کے عنوان سے بزرگوں کے تقدس اور احترام کو پامال کرنے والی تقریری ویڈیوز اپلوڈ کرتے ہیں ،کیوں کہ یہ ان کا پرسنل یوٹیوب چینل ہے اس پر ان کی اجازت اور رضامندی کے بغیر کچھ لوڈ نہیں ہوسکتا ۔خدا واسطے عوامی پلیٹ فارم پر تحقیقاتی اور بزرگوں کے احترام کو زک پہنچانے والی ویڈیوز اپلوڈ کرنے کی زحمت نہ فرمائیں تو اس امت پر بڑا احسان ہوگا ۔
