از :۔ ڈاکٹر ابو زاہد شاہ سید وحید اللہ حسینی القادری الملتانی
 کامل الحدیث جامعہ نظامیہ ،M.A., M.Com., Ph.D (Osm)اسلامی روایت میں مسلمان کو تاکیدی حکم ہے کہ وہ حقائق کو معلوم کرنے کے لیے علماء سے رجوع ہوں اور ان سے دریافت کریں۔ تاریخ اسلام کا مطالعہ کرنا سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ و صحابیات بلکہ بعض غیر مسلم حضرات اکثر نبی پاک کی بارگاہ اقدس و اطہر میں حاضر ہوکر یا کسی کے ذریعہ روزمرہ زندگی اور مادی امور سے متعلق مختلف سوالات کرکے اپنی علمی پیاس بجھانے کی سامان کیا کرتے تھے، جن کے جوابات اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہوا کرتے تھے چنانچہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اللہ تعالی نے اپنے حبیب مکرمؐ سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے ’’قل‘‘ یعنی اے میرے حبیب فلاں فلاں آپ سے یہ سوال کرتے ہیں آپ ان کا جواب انہیں عنایت فرمادیجئے۔اس حقیقت کے باوجود اکثر یہ سننے میں آتا ہے کہ اسلامی امور میں بحث و مباحثہ کرنا منع ہے اور اس ضمن میں اپنے اساتذہ یا شیوخ سے سوال کرنا، پوچھنا یا دریافت کرنا بے ادبی ہے ایسا وہی لوگ کرسکتے ہیں جو یا تو اس سوال کا جواب نہیں جانتے یا اپنی علمی و عقلی کم مائیگی کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے وہ سوال کرنے کی حوصلہ شکنی نہیں کرتا بلکہ حوصلہ افزائی کرتا ہے چونکہ سوال کرنے سے علم کے دروازے کھلتے ہیں، استحصال کے دروازے بند ہوتے ہیں، روشنی پھیلتی ہے، اور جہالت کی تاریکی دور ہوتی ہے۔

قرآن مجید نے اپنے ماننے والوں کو حکم دیتا ہے اگر تمہیں کسی مسئلہ کا شرعی حکم معلوم کرنا ہے یا اس کی افہام و تفہیم یا تحقیق مطلوب ہو تو اہل علم سے رجوع کرو تاکہ تمہیں اس مسئلہ کا صحیح حل معلوم ہوجائے۔انسان کی جہالت دور کرنے کے لیے مستند و معتبر علماء ہی بہتر ذریعہ ہوتے ہیں۔ علم کے لیے سوال کرنے کی اہمیت کا اندازہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی اس ارشاد مبارک سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالی سوال کرنے کی صورت میں چار افراد کو ثواب عنایت فرماتا ہے (i) سوال کرنے والے کو، (ii) جواب دینے والے کو، (iii) جواب سننے والے کو اور (iv) ان سے محبت کرنے والے کو۔
حضرت عبداللہ ابن عباسؓ سے کسی نے دریافت کیا کہ آپ کو تبحر علمی کیسے حاصل ہوئی آپ نے فرمایا کثرت سے سوال کرنے والی زبان اور بیدار دل کے
ذریعہ۔ مسلم معاشرے کا ایک تاریک پہلو یہ بھی ہے کہ قرآن مجید نے ہمیں اہل علم و دانش سے رجوع ہونے کا حکم دیا ہے جبکہ ہم ہر اس شخص کو عالم سمجھتے ہیں جو شیروانی زیب تن کرتا ہو جبکہ علم کا تعلق کسی لباس سے نہیں ہے اور ہر اس شخص کو پیر خیال کرتے ہیں جس کے سر پر عمامہ شریف ہو جبکہ عمامہ شریف کا استعمال پرسائی کے بنیادی تقاضوں میں سے نہیں ہے۔ علم کا تعلق جدید و عمدہ افکار و خیالات سے ہے جبکہ پیری کا تعلق تقوی و طہارت سے ہے۔ رسول رحمتؐ کا ارشاد مبارک ہے بے علمی کا علاج سوال ہے۔ کہا جاتا ہے کہ علم ایک بندہ دروازہ ہے جس کی چابی سوال کرنا ہے۔ سوال سے صرف سائل ہی مستفید نہیں ہوتا بلکہ حاضرین محفل کو بھی اس جواب سے معلومات میں اضافہ کرنے کا سنہری موقع مل جاتا ہے۔ بعض سوالات تو ایسے ہوتے ہیں جس فائدہ کسی ایک مجلس یا محفل تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس کے فوائد نسل بعد نسل منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ صحابہ کرامؓ کے حسب سوالات ہیں: (i) دریافت کرتے ہیں آپ سے وہ نئے چاندوں کے متعلق، (ii) دریافت کرتے ہیں آپ سے وہ کیا خرچ کریں، (iii) دریافت کرتے ہیں آپ سے وہ ماہ حرام میں جنگ کرنے متعلق، (iv) دریافت کرتے ہیں آپ سے وہ شراب اور جوئے کے متعلق، دریافت کرتے ہیں آپ سے وہ یتیموں کے متعلق، (v) دریافت کرتے ہیں آپ سے وہ حیض (خواتین کے ایام مخصوصہ) کے متعلق، (vi) دریافت کرتے ہیں آپ سے وہ حلال چیزوں کے متعلق، (vii) دریافت کرتے ہیں آپ سے وہ غنیمتوں کے متعلق، (viii) دریافت کرتے ہیں وہ آپ سے قیامت کے متعلق، (ix) دریافت کرتے ہیں آپ سے وہ روح کی حقیقت کے متعلق، (x) دریافت کرتے ہیں وہ آپ سے ذی القرنین کے متعلق، (xi) دریافت کرتے ہیں وہ آپ سے پہاڑوں کے متعلق۔ صحابہ کرام کے یہ وہ سوالات ہیں جو کو مع جوابات کے قرآن مجید نے اپنے اندر محفوظ کرلیا ہے جو امت مسلمہ کی تاصبح قیامت رہبری و رہنمائی کرتے رہیں گے۔مادی و روحانی حیات سے متعلق سوال کرنا فروغ علم و عرفان کا بہت بڑا ذریعہ ہے جو انسانی زندگی کو تقویت بخشتا ہے۔ سوال کرنا حقیقی مومن کا طرہ امتیاز ہے جیسا کہ صحابہ کرام کے مذکورہ بالا سوالات سے اظہار ہوتا ہے۔
صحابہ کرام کے سوالات کی نوعیت ملاحظہ کیجیے کہ وہ نہ صرف روز مرہ کی زندگی میں درپیش آنے والے مسائل کے بابت دریافت کررہے ہیں بلکہ نظام فلکی اور آخرت سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں یہی وجہ تھی کہ ان مبارک ہستیوں نے حجاز کی مقدس وادیوں سے نکال کر اسلام کو یورپ تک پہنچا دیا تھا۔ آج ہمارے تنزل و انحطاط کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے سوالات ہماری روز مرہ کی زندگی تک محدود ہوکر رہ گیے ہیں جو ہمارے فکری زوال کی غمازی کرتے ہیں۔دینی مدارس میں فتوی حاصل کرنے کے لیے جو سوالات کیے جاتے ہیں ان میں اکثر کا تعلق طلاق، خلع اور وراثت سے ہوتا ہے جبکہ صحابہ کرام کے مذکورہ بالا سوالات میں سے ایک بھی سوال ایسا نہیں جس کا تعلق طلاق اور وراثت سے ہو چونکہ ان اصحاب کا کردار اس قدر اعلی تھا کہ طلاق اور وراثت کے مسائل سے انہیں بہت کم ہی واسطہ پڑتا تھا ۔ لیکن ہماری بداعمالیاں اس قدر عروج پر پہنچ گئی ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ ہماری زندگی صرف طلاق ، خلع اور وراثت کے مسائل تک محدود ہوکر رہ گئی ہے اور ان دو مسائل میں بھی ہماری اکثریت لوگوں پر ظلم کرتی نظر آرہی ہے۔ ہمیں اس روش کو بدلنا ہوگا اور ہماری نئی نسل میں بھی تحقیق و جستجو کے جذبات کو ابھارنا ہوگا تب ہی ہم دنیا و آخرت میں سرخرو و کامیاب ہوسکتے ہیں۔ بعض ناعاقبت اندیش لوگ سورۃ الکھف میں مذکور حضرت سیدنا موسیٰؑ اور حضرت سیدنا خضر کا واقعہ کا غلط حوالہ دیتے ہوئے سوال کرنے کو معیوب گردانتے ہیں اس قسم کی باتیں اکثر نام نہاد علما اور جعلی پیر کرتے نظر آتے ہیں جبکہ اس طرح کی باتوں سے ان کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ ان کی ناخواندگی لوگوں پر ظاہر نہ ہوجائے۔ جہاں تک اہل دل و نظر اور شیخ طریقت سے سالک کو سوال کرنے سے جو منع کیا جاتا ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ مرشد کامل جو قرآنی ارشادات اور نبوی فرمودات کا ظاہری و باطنی فہم و ادراک رکھتے ہیں جب وہ الہامی کیفیت میں ہوتے ہیں تو ان کے قلب پر واردات کا تسلسل سے نزول ہوتا رہتا ہے اس اثنا میں جب کوئی سالک سوال کرتا ہے تو وہ تسلسل ٹوٹ جاتا ہے۔
علاوہ ازیں بزرگان دین اپنے مریدین کے باطن کی اصلاح ان کی صلاحیتوں کے اعتبار سے کرتے ہیں ایسے عالم میں سالک کا اپنے مرشد سے سوال کرنا قبل از وقت متصور ہوگا ہے جو خلاف ادب ہے اور تصوف سراسر ادب کا نام ہے اسی لیے سالک کو اپنے شیخ سے سوال نہ کرنے کی صلاح دی جاتی ہے۔ جہاں تک روزمرہ کی زندگی میں سوال کرنے کا تعلق ہے تو حقیقت یہ ہے کہ دین اسلام نے سوال کرنے کو پسند کیا ہے چونکہ سوالات علم کو فروغ دیتے ہیں جو انسان کے جذبہ ایمان و یقین کو بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔ یہ بات بھی مسلم ہے کہ انسان کے بعض شکوک و شبہات ایسے ہوتے ہیں جن کا بروقت جواب نہ دیا جائے تو یہ ایمان کو کمزور کردیتے ہیں جس سے بسا اوقات کفر و ارتداد کا دروازہ بھی کھل جاتا ہے۔ بعض لوگ لاعلمی کے باعث اپنے آپ کو خطرہ میں بھی ڈال لیتے ہیں جبکہ اس کا آسان و سہل حل موجود ہوتا ہے اس لیے بھی مسلمان کو سوال کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔روایت میں آتا ہے دوران سفر ایک صحابی ؓگھوڑے سے گر کر زخمی ہوگیے اور جب نماز کا وقت آیا تو اپنے ساتھیوں سے دریافت کیا کہ کیا میںتیمم کرکے نماز ادا کرسکتا ہوں چونکہ غسل کرنے کی صورت میں مجھے خدشہ ہے کہ میرا زخم بڑھ جائے گا۔ صحابہ کرام نے نفی میں جواب دیا تو آپؓ نے غسل کیا اور زخم میں شدت آجانے کی وجہ سے آپ ؓوفات پاگیے۔ جب اس غمناک سانحہ کی اطلاع رسول مکرمؐ کو پہنچی تو آپؐ بہت زیادہ مغموم ہوئے، رنج کا اظہار فرمایا اور صحابہ کرام کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اگر تمہیں کسی مسئلہ کا حل نہیں معلوم تو مجھے سے پوچھ لیتے ۔ تمہارے بھائی کے زخم پر پٹی باندھ کر اس پر مسح کرواتے اور باقی بدن پر پانی بہانے کے لیے کہتے تو یہ کافی تھا۔ اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ سوال کرنے انسان غیر ضروری مصائب و تکالیف سے بچ سکتا ہے۔ یقینا سوال کرنا حقائق کو سمجھنے کی کلید ہے لیکن دین اسلام لایعنی اور مخصوص مفادات پر مبنی سوالات کرنے کی حوصلہ شکنی فرماتا ہے۔ جیسے کسی سے محض امتحان و اختبار کے مقصد سے سوال کرنا یا کسی سے اس لیے سوال کرنا تاکہ اس کی تحقیر و تذلیل ہوجائے یا ایسے غیر مناسب سوالات کرنا جس سے اجتماعی نظام کی حفاظت کو خطرہ لاحق ہوجائے یا لوگوں کی مصلحتیں متاثر ہوتی ہوں وغیرہ۔
روایت میں آتا ہے کہ جب حج فرض ہوا تو حضرت سیدنا اقرع بن حابسؓ نے تین مرتبہ رسول مکرم ؐ سے دریافت فرمایا کہ کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟ حضور نے ہر دفعہ خاموشی اختیار فرمائی پھر فرمایا اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال حج کرنا فرض ہوجاتا ۔اس روایت سے نہ صرف رحمت عالمؐ کا اختیار اور تصرف کا اظہار ہوتا ہے بلکہ آپؐ کے امت کے حق میں رء وف و رحیم ہونے کا بھی پتہ چلتا ہے اور اگر آپ اپنی زبان مبارک کو جنبش دیتے اور ہاں فرماددیتے تو پوری امت مشقت میں پڑھ جاتی۔ آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ بطفیل نعلین پاک مصطفی اس ماہ ِمبارک میں تمام مسلمانوں کو اپنی رحمت، مغفرت سے سرفراز فرمائے اور دوزخ سے نجات عطا فرمائے ۔ آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین طہ و یسین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے