نوراللہ خان
گریٹ انڈیا نیشنل اکیڈمی
اسلام نے جو نظام دیا اور احکامات دیئے ، سب میں الگ الگ فوائد ہیں اور صرف رواحانی واُخروی فوائد نہیں بلکہ اس دنیاوی زندگی میں بھی بے شمار فوائد ہیں۔ بطور خاص قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان احکامات میں صرف انفرادی نہیں اجتماعی فوائد بھی مضمر ہیں۔
مگر افسوس ہم ہر بات کو روحانی بناکر پیش کرتے ہیں جبکہ ان امور کا اخروی ہی نہیں دنیا وی فوائد بھی ان میں پوشیدہ ہیں۔اور عملا تسلیم شدہ بھی ہیں۔
وراثت کے دنیاوی فوائد بہت ہیں۔ عربوں میں بوڑھی عورتوں کی تیس چالیس سال کےجوان سے نکاح کا ماحول مل جاتا ہے یہ صرف وراثت کی برکت ہے۔ اور دونوں کو سہارا مل جاتا ہے۔
وراثت میں اللہ نے بڑی حکمتیں رکھی ہیں۔چند درج ذیل ہیں –
۱- مال کی گردش سے عطیہ زیادہ ہوگا۔ سرکار کو ٹیکس بھی ملے ساتھ ہی تحصیل کا عملہ بھی خوش ہوگا۔
۲- مال کی گردش سے معاشیات بہتر ہوگی
۳- وراثت میں دینا ہے۔ آپ کو اپنی کمائی نہیں بلکہ باپ سے ملی ہوئی کمائی میں سے دینا ہے وہ اصلا جسے آپ اپنا مال سمجھتے ہیں وہ آپ کا نہیں ہے اس میں سے تھوڑا سا آپ کا ہے۔
۴- آپ اپنا جو کمائیں گے وہ آخری سانس تک آپ کا ہوگا۔اس میں اپنا حق رکھئے۔
۵- آپ دوسروں کا قبضہ کرتے ہیں اور کنجوسی کرتے ہیں اور ہوسکتا ہے آپ تفریح بھی نہ کریں اور حساب آپ دیں گے اور ادھر آپ کا گُڈوا بیچ کر شراب پی ڈالے ۔ دنیا وآخرت سب گئی کیا ملا؟
۶- اپنا حصہ کھائیں اور عیش کریں۔
۷- آپ جس بیٹے کیلئے پریشان ہیں وہ شائد ایسا بہو لایا ہو جو دس گنا آپ سے زیادہ لے آئے
۸- اور جب آپ جارہے ہیں تو کیوں اگنا پریشان ہیں جو رہے گا وہ کمائے گا۔
۹- وراثت کی برکت یہ ہے کہ جاتا ہے تو آتا بھی ہے اور کم ہی آئے وہ فورا قابل استعمال اکثر جائداد منقولہ ہوتی ہے۔ اور فورا بزنس یا کچھ کرنے کے لائق ہوگی
۱۰- آخری بات یہ ہے کہ پرندے بھوکے نہیں سوتے تو تم کیسے بھوکے رہ سکتے ہو، جس رب نے یہ نظام بنایا ہے اور وراثت کا حکم دیا ہے اس میں بڑی حکمت ہے۔ تم غریب ہوگئے تو باپ کے حصے سے جن کو تم نے نوازا ہے ان کا حق ہے وہ سب فقیری میں تم کو دیں گے۔ میں نے دیکھا ہے عورتیں وراثت پاتی ہیں تو بہو بیٹی سب کو نوازتی ہیں اور کتنا محبت بھرا ماحول ہے وہاں کہ بیٹی اور بہو کا فرق غائب رہتا ہے۔ جائیداد کا کوئی ایشو نہیں ہوتا ہے۔ یہاں ملچھ سماج سب اپنے پوتوں کیلئے مرتے ہیں اور وہ اپنے پوتے کیلئے مرجاتا ہے نہ کپڑا نہ عزت نہ اچھی غذا اور اوپر جاکر لات جوتا الگ سے ملے گا۔ اور مولویوں نے ان کو مقلد اور غیر مقلد بنادیا تاکہ انجوائے کریں۔ اس نظام کا نفاذ کریں ۔ باخدا ہزار ہا مسائل حل ہوجائیں گے اور برکت کا دریا بہتا نظر آئے گا۔
جو کنجوس زمیندار ساری زمینوں پر قابض بیٹھے ہیں اور نہ کچھ کرتے ہیں نہ کرسکتے ہیں۔ اور حالت یہ ہےکہ غریب محنت کرکے پیسے کماکر بھی زمین نہیں پاتا ہے کہ گھر بنائے ، وراثت کی صورت میں بہنیں زمین بیچ کر جائیں گی تو گاؤں کی پتلی گلیوں مجبور لوگ باہر نکل کر اچھا پر سکون گھر بنا سکیں گے اور خوش حال ہوں ۔ گھر بنیں تو دس پچاس لوگ روزگار پائیں گے ورنہ نہ کھاؤ نہ کھانے دو والا ماحول رہے گا۔ دنیا برباد اور آخرت تو تباہ ہونی ہے۔
للذکر مثل حظ الاُنثیین ۔۔۔۔۔ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں کیا پیغام ہے۔ ترجمہ: مرد کیلئے اتنا ہی ہے جتنا دو عورتوں کیلئے ہے۔ عورتوں کا حصہ اس کا مطلب ہے کہ پہلے طے ہوا اور اسکی مثال دے کر بتایا گیا ہے کہ اسی طرح مرد کو ملے گا۔
جس کا حصہ پہلے طے ہوا وہی بندر صابن کے لئے پریشان ہے۔
اس لئے صرف جمعہ والا مسلمان نہ بنیں بلکہ سماج کا موجودہ بیانیہ بدلیں اور سوچیں کہ اہم مسائل پر لوگ کیوں خاموش ہیں؟
